Web Analytics Made Easy -
StatCounter

13 Sadi Hijri Ke Ek Gumnam Nanzoom Seerat Nigar, تیرہویں صدی ہجری کے ایک گمنام منظوم سیرت نگار: حاجی محمود مہاجر حسرت مدراسی

مصنف:  ڈاکٹر راہی فدائی

دکنی ادب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ نظم و نثر کی ابتدائی تحریروں اور ان کی مختلف اصناف کا ماخذ و مصدر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس امر کے ثبوت کے لیے حضرت بندہ نوازؔ (متوفی ۸۲۵ھ) کے دکنی رسائل، نظامیؔ بیدری کی مثنوی ’’کدم رائو پدم رائو‘‘ (تصنیف شدہ مابین ۸۲۵ تا ۸۳۹ھ)  اور محمد قلی قطب شاہ کا دیوان  کا مطالعہ کافی ہے۔

ان اولیات میں منظوم سیرت نگاری بھی ہے جس میں میلاد نامہ، معراج نامہ، نورنامہ، شمائل نامہ، معجزات النبیؐ، وفات نامہ وغیرہ شامل ہیں۔ انہیں درحقیقت نعتیہ شاعری کے ضمن میں رکھا جانا چاہیے مگر جہاں تک منظوم سیرت کا تعلق ہے بقول ماہر دکنیات ڈاکٹر محمد علی اثرؔ اس کی شروعات قدرتیؔ بیجاپوری کی تصنیف ’’قصص الانبیاء‘‘ (قبل ۱۰۹۰ھ) سے ہوتی ہے۔ بعد ازاں غوثؔ آرکاٹی (متوفی ۱۲۲۵ھ) کی مثنوی ’’ریاض مسعود‘‘ (تصنیف شدہ ۱۱۹۱ھ) کو اہمیت خاص حاصل ہے۔

ان دونوں مثنویوں میں اول الذکر دس ہزار اشعار اور ثانی الذکر بارہ ہزار پانچ سو اشعار پر مشتمل ہے لیکن ان مثنویوں کا موضوع صرف حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ نہیں ہے بلکہ ان میں دیگر انبیاء و رسل کے قصے اور واقعے بھی شامل کیے گئے ہیں جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے۔ ’’ریاض مسعود‘‘ کے قلمی نسخے سالار جنگ میوزیم لائبریری، حیدرآباد اور اورینٹل مینو اسکرپٹ لائبریری حیدرآباد کی زینت بڑھا رہے ہیں۔ البتہ اردو میں مستقل و مفصل سیرت نبویؐ منظوم کرنے کی سعادت اردو کے اولین نقاد علامہ باقر آگاہ ویلوریؒ (متوفی ۱۲۲۰ھ) کے حصے میں آئی، جنہوں نے ’’ہشت بہشت‘‘ کے نام سے منظوم سیرت تحریر کی جس کے جملہ اشعار نوہزار ہیں، بقول مولف ’’خانقاہ اقطاب ویلور کے علمی آثار‘‘:

’’یہ (کتاب ہشت بہشت) دراصل آٹھ مختلف و مکمل رسالوں کا مجموعہ ہے جن میں سے ہر ایک کے لیے مستقل حمد، نعت، منقبت غوث اعظم اور مدح مرشد کے علاوہ الگ الگ اوزان کا بھی التزام کیا گیا ہے، یہ کتاب ہشت بہشت درحقیقت امیر الامراء نواب حافظ محمد منور خاں امیر ابن والی کرناٹک نواب محمد علی والا جاہ (متوفی ۱۲۱۰ھ) کی خواہش پر لکھی گئی….۔ ان آٹھ رسالوں میں سے ابتدائی چھ رسائل ۱۱۸۴ھ سے ۱۱۸۶ھ تک مکمل ہوگئے تھے، بعد ازاں مختلف مصروفیات اور دیگر علمی مشاغل کی بناپر طویل وقفہ کے بعد ۱۲۰۶ھ میں آخر کے دونوں رسائل تصنیف کیے گئے‘‘۔ 

علامہ باقر آگاہ کی مثنوی ’’ہشت بہشت‘‘ کے بعد دکنی میں تخلیق پانے والی ضخیم منظوم سیرت طیبہ حاجی محمود صاحب مہاجر المتخلص بہ حسرتؔ کی ’’ریاض سیر‘‘ ہے جو دراصل حضرت غلام محی الدین سید شاہ عبداللطیف قادری (ثانی) ذوقیؔ ویلوری (متوفی ۱۱۹۴ھ) کی منظوم و مبسوط سیرت پاک ’’معجز مصطفی‘‘ (فارسی) کا آزادانہ ترجمہ ہے۔ ذوقیؔ اردو کے مایہ ناز صاحب دیوان صوفی شاعر حضرت سید شاہ ابوالحسن قربیؔ ویلوری (متوفی ۱۱۸۲ھ) کے اکلوتے فرزند تھے، ذوقی کی ولادت ۱۱۵۱ھ مطابق ۱۷۲۷ء میں ہوئی۔ ’’درخشاں‘‘ سے سال ولادت برآمد ہوتا ہے۔ اپنے والد ماجد سے کتب متداولہ فارسی و عربی کی تعلیم حاصل کی، معرفت و سلوک کے اعلیٰ مراتب بھی والد بزرگوار کے زیرسرپرستی کسب کیے اور ۹۹ سلاسل میں اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے، شاہ قربیؔ کے وصال کے بعد منصب رشد و ہدایت پر فائز رہ کر تصنیف و تالیف میں منہمک ہوگئے۔ شاعری کا ذوق وراثت میں ملا تھا، نظم و نثر میں ان کی کتابوں کی تعداد ۶۰ سے بھی زیادہ ہے۔ بقول مولف ’’علی آثار‘‘:

’’حضرت ذوقیؔ کی نثری تصنیفات علم تفسیر، علم حدیث، علم عقائد و فقہ، علم منطق، علم معانی، بیان بدیع، لغات، قواعد نحو وصرف، علم عروض پر محیط ہیں، ان کی منظوم تصنیفات میں غزل، مثنوی، قصیدہ، رباعی، ترجیع بند، نظم بے نقط وغیرہ اصناف سخن میں اشعار کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے ‘‘۔

حضرت ایک پُرگو اور فطری شاعر تھے، ان کی قادر الکلامی پر ان کے معاصر علامہ آگاہ حیرت زدہ رہ جاتے تھے، علامہ آگاہ کی گواہی ہے کہ حضرت ذوقیؔ نے ایک نشست میں سات سو شعر موزوں کیے۔ 

حضرت ذوقیؔ کی تین مثنویاں تاریخی اعتبار سے بہت اہم ہیں، ایک ’’معجزمصطفی‘‘ جو صرف ڈیڑھ ماہ میں مکمل ہوئی،دوسری ’’نجیب نامہ‘‘ نواب کرناٹک انور الدین خاں کے رفیق و مصاحب محمد نجیب خاں بہادر کے حالات و واقعۂ شہادت (۱۱۶۲ھ) کو شامل ہے اور تیسری ’’در بے بہا‘‘ نواب محمد علی والا جاہ کے فتح تنجاور کی تاریخ ہے۔ ’’معجز مصطفی‘‘ تقریباً ساڑھے سات ہزار اشعار پر مشتمل ہے جسے انہوں نے ۱۱۸۰ھ مطابق ۱۷۶۶ء میں تحریر کیا تھا جب کہ ان کی عمر صرف تیس سال تھی، یہ معرکہ آرا مثنوی ۱۱۸۱ھ میں مدراس سے زیور طباعت سے آراستہ ہوکر بہت مقبول ہوئی۔

یہی وہ بلند پایہ مثنوی ہے جس کا ترجمہ حاجی محمود حسرتؔ نے مصنف کے انتقال کے ۵۳ سال بعد ۱۲۴۷ھ مطابق ۱۸۳۱ء میں دکنی زبان میں ’’ریاض سیر‘‘ کے نام سے کیا تھا، اس مثنوی کے دو نسخے تاحال دستیاب ہیں، ان میں سے ایک سالار جنگ میوزیم لائبریری حیدرآباد کا مخزونہ ہے اور دوسرا کتب خانۂ محمدی، دیوان صاحب باغ، چنائی (ٹمل ناڈو) کی امانت ہے۔ علاوہ ازیں ’’ریاض سیر‘‘ اپنی تخلیق کے ۲۳ سال بعد ۱۲۷۰ھ مطابق ۱۸۵۳ء میں مطبع شرفیہ (مدراس) سے شائع ہوئی تھی مگر آج اس کے مطبوعہ نسخے بھی نایاب ہیں، البتہ ایک بوسیدہ کرم خوردہ نسخہ دارالعلوم لطیفیہ حضرت مکان ویلور (ٹمل ناڈو) کے کتب خانے میں محفوظ ہے، یہی مطبوعہ نسخہ راقم الحروف کا ماخذ و مرجع ہے۔ یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے، وہ یہ کہ حضرت حسرتؔ کی مثنوی کا نام ’’ریاض سیر‘‘ ہے نہ کہ ’’ریاض السیر‘‘ جیسا کہ افضل العلماء محمد یوسف کوکنی نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے۔ یہ اس لیے کہ مثنوی کے اختتام کے موقع پر خود حسرتؔ نے رقم کیا ہے کہ اس کا نام ’’ریاض سیر‘‘ ہے اور سال تصنیف ’’زہے معجز انبیاء‘‘ سے استخراج شدہ سن ۱۲۴۷ھ ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں؎

بفضل خدا خالق ذوالمنن

ہوا جب کہ آراستہ یہ چمن

وہیں بلبل طبع تجویز کر

رکھا نام اس کا ’’ریاض سیر‘‘

پھر آیا جو تاریخ کا کچھ خیال

رکھے تا کوئی خوب سے حسب حال

تامل کے دریا میں پس غوطہ مار

نکالے عجب گوہر آبدار

یہی وہ ہے تاریخ بس جاں فزا

’’زہے معجز خاتم انبیاء‘‘

حضرت حسرتؔ کے حالات پردئہ خفا میں ہیں، افسوس کہ سات ہزار سے زائد اشعار کے شاعر کا ذکر کسی بھی معروف تذکرے میں موجود نہیں۔ البتہ ’’ریاض سیر‘‘ کی اندرونی شہادتوں کے پیش نظر بس یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت حسرتؔ کا اسم گرامی حاجی محمود مہاجر ہے، اس نام کی صراحت مطبوعہ نسخے کے سرورق پر کی گئی ہے۔ ڈاکٹر افضل الدین اقبال مرحوم (حیدر آباد) کے بیان کے مطابق حسرتؔ کا نام حاجی غلام محمود مہاجر تھا اور وہ مدراس کے متوطن تھے، حضرت حسرتؔ گوشہ نشیں، مرنجاں مرنج اور صوفی شاعر تھے، پیکر علم و عرفان ہونے کے باوجود انتہائی منکسر المزاج اور خدا ترس بزرگ تھے، ’’ریاض سیر‘‘ اپنی عمر کے آخری دور میں تخلیق کی تھی، اس وقت ان کے پیرومرشد حضرت سید شاہ ابوالحسن(ثانی) قادری محویؔ ویلوری (متوفی ۱۲۴۳ھ) ابن حضرت سید شاہ عبداللطیف ذوقیؔ کا انتقال چار سال قبل ہوچکا تھا مگر ان کے شفیق و کرم فرما استاذ حضرت علامہ الحاج سید شاہ محی الدین قادری حیات تھے جن سے انہوں نے عربی و فارسی کے کتب متداولہ پڑھی تھیں۔

اس مقام پر ایک نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری ہے کہ حسرتؔ کے شیخ حضرت محویؔ اپنے اجداد کی طرح صاحب تصنیف بزرگ تھے، ان کا یہ وصف خاص ان کے مریدوں اور خلفاء کو بھی عطا ہوا ہے، چنانچہ حضرت محویؔ کے نامور خلیفہ شمس العلماء شاہ عبدالوہاب قادری ویلوری (متوفی ۱۳۳۷ھ) بانی ام المدارس جامعہ باقیات صالحات، ویلور کے والد ماجد حضرت علامہ شاہ حافظ عبدالقادر آتوری (متوفی ۱۲۵۱ھ) نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ (متوفی ۱۲۳۹ھ) کی گراں قدر فارسی تفسیر کا عربی ترجمہ ’’التعریب القادری للتفسیر العزیزی‘‘ کے عنوان سے ۱۲۴۹ھ میں کیا، حضرت محویؔ کے شاگرد و مرید جناب حسرتؔ نے ’’معجز مصطفی‘‘ کا ترجمہ ۱۲۴۷ھ میں فارسی سے اردو میں کیا، اس طرح حضرت محوی کے فرزند و خلیفہ حضرت سید شاہ عبداللطیف (ثالث) قادری نقوی معروف بہ ’’قطب ویلور‘‘ (متوفی ۱۸۲۹ھ) نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی معرکہ آرا تصنیف ’’تحفۂ اثنا عشریہ‘‘ کا ترجمہ ۱۲۸۸ھ میں فارسی سے عربی میں کیا جب کہ وہ اپنے دوسرے حج کے دوران مکہ مکرمہ میں فروکش تھے، حضرت محویؔ کے ایک اور شاگرد و مرید میر محمد حیات قادری میسوری ابن میر محمد یوسف (متوفی ۱۲۸۱ھ) مصنف ’’مصباح الحیات‘‘ نے ۱۲۴۴ھ مطابق ۱۸۲۹ء میں مثنوی ’’مفتاح الایمان‘‘ تحریر کی جس کا موضوع عقائد و ایمانیات ہے۔ یہ فہرست مزید طویل ہوسکتی ہے مگر یہاں اس کاموقع نہیں ہے۔

حضرت حسرتؔ شاہ محویؔ کے شاگرد و مرید تھے نہ کہ شاہ ذوقیؔ کے جیسا کہ محترم یوسف کوکن عمری نے اپنی انگریزی تصنیف میں کہا۔ اس طرح ڈاکٹر افضل الدین اقبال کا یہ دعویٰ بھی صحیح نہیں کہ حسرتؔ حضرت قطب ویلور سید شاہ عبداللطیف قادری کے مرید تھے اور حضرت محویؔ سے بھی فیض پایا تھا، کیونکہ حسرتؔ نے منقبت غوث اعظمؒ کے آخر میں لکھا ہے کہ ان کے تصرف کی وجہ سے مجھے بصیرت حاصل ہوئی، کور چشم میں نور پیدا ہوا اور مجھے شاہ ابوالحسن کا در مل گیا، اس کے بعد حسرتؔ نے اپنے شیخ کی مدح سرائی کی ہے جس میں یہ اعتراف کیا کہ شاہ صاحب نے ان کے دل کو علم و عرفان سے بھردیا۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں حسرتؔ نے شاہ عبداللطیف معروف بہ قطب ویلور سے بھی فیض پایا تھا، چنانچہ حضرت حسرتؔ کا ارشاد ؎

مرے دل کو قید غم سے چھڑا

خوشی کی مجھے راہ دکھلا دیا

منور ہوئے تب مرے چشم کور

دل تار نے میرے پایا ہے نور

ملا دوست سے ، چھوڑ دشمن کو میں

مرا سر ہے اور اس کا در بعد ازیں

مجھے عالم مکر و فن سے چھڑا

سہہ بوالحسن پاس پہنچا دیا

مدح شیخ المشائخ خاص درگاہ صمدی سید ابوالحسن قادری؎

زہے ابوالحسن بحر جود و نوال

عطا میں حسن ، بوالحسن در خصال

تمنا تھی اس کی صلاح انام

حدیث حسن اس کے لب پہ مدام

سکھایا ہمیں علم عرفان کا

بہت راز پنہاں دلوں میں بھرا

نہ دیکھا زمانے میں میں نے کسے

جو تجھ سا شریعت کو محکم کرے

تمامی خلائق سے ہم لے کنار

ترے آستاں پر ہیں امیدوار

گدایان دل خستہ پر لطف کر

عطا کرکے ان کی خطا سے گذر

کرم سے نجھا حسرتؔ ریش پر

کرامت کر اے شاہ، درویش پر

حضرت حسرتؔ متأہّل تھے۔ خاندان بڑا تھا جس میں فرزند ، برادران اور خویش و اقارب سبھی تھے، انہوں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے بھی اپنے شیخ اور شیخ زادے حضرت قطب ویلور کی تعریف و توصیف کے بعد ان کے طفیل میں دعا کی، اشعار ملاحظہ ہوں؎

طفیل ان بزرگوں کے سب اے خدا

مرے دوستاں جو ہیں اور اقربا

سبھی فرزند و خویش و برادر تمام

پنہ میں رکھ اپنے تو ان کو مدام

رہ راست پر ان کو رکھ سر بہ سر

روا ان کے حاجات دارین کر

بتوفیق خیر ان کے تیں شاد رکھ

دے علم و ہنر اور آباد رکھ

مری عرض ساری یہ ہووے قبول

بحق شہ دیں محمدؐ رسول

حضرت حسرتؔ نے مثنوی ’’ریاض سیر‘‘ نظم کرنے کا سبب بیان کرتے ہوئے رقم کیا ہے کہ انہیں اپنی آخری عمر میں یہ خیال دامن گیر ہوا کہ انہوں نے اب تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے حیات جاوداں حاصل ہو، لوگ انہیں یاد کرکے ان کی وفات کے بعد ایصال ثواب کریں جیسا کہ اہل اللہ اور اصحاب خیر کے ساتھ ہوتا آرہا ہے، پھر اپنی کم مائیگی اور زبوں حالی پر نظر پڑی تو دل نے کہا کہ ثواب جاری کے لیے انہیں دادا پیر حضرت ذوقیؔ ابن شاہ قربی کی بے نظیر مثنوی ’’معجز مصطفی‘‘ کا دکنی زبان میں ایسا ترجمہ کرنا چاہیے جس سے عوام الناس کو فائدہ پہنچے اور پڑھ کر دعا دیں۔ اس ضمن میں کہے گئے اشعار یہ ہیں:

’’مرے جی میں یک روز آئی یہ بات

کہ کچھ زندگی کو نہیں ہے ثبات

نہیں عمر دنیا کا کچھ اعتبار

ہے اصل بنا اس کا ناپائیدار

موانیں ہے وہ چھوڑ جس نے گیا

پل و مسجد و چاہ و مہماں سرا

میں آیا جو دنیا میں ہوکر غریب

یہ تینوں بھی کاموں سے ہوں بے نصیب

نہ حاصل ہوا مجھ کو عرفان حق

نہ طاعت سے پایا میں رضوان حق

جہاں میں نہ کچھ خیر جاری کیا

یہ عمر عزیز اپنی چپ کھودیا

دریغا کہ حق پاس میرے تئیں

سبب سرخ روئی کا کچھ بھی نہیں

مری عمر ناحق گئی سب گذر

ملا نیں مجھے زندگی کا ثمر

گئے لوگ جیسے جہاں سے گذر

اسی طرح میں بھی کروں گا سفر

تو اس وقت جز حسرت و درد و آہ

نہیں ہے مرے ساتھ کچھ زاد راہ

کسی کو نہ مجھ سے ہوا فائدہ

مرے بعد تا وہ پڑھے فاتحہ

کرے گا نہیں یاد مجھ کو کوئی

نہ لیوے گا کوئی مرا نام بھی

گذرنے سے یہ بات جی میں مرے

نہایت ہوئی بے قراری مجھے

ہوئی درد و غم کی جو آتش بلند

تڑپنے لگا دل میرا جیوں سپند

نہ تھا دل یہ گویا کہ سیماب تھا

نبٹ مرغ بسمل سا بے تاب تھا

میں دیکھا تپش سے جو فرصت نہیں

ہوئی زندگی تلخ میرے تئیں

اس احوال میں مجھ پہ اے ہوشیار

یکایک ہوا فضل پرور دگار

کہ یکبار خاطر میں یہ آگیا

کوئی ایسی تصنیف کیجیے بھلا

کہ ہو فائدہ اس سے لوگوں کے تیں

کہ یہ بھی کم از خیر جاری نہیں

بملک سخن خسروِ نامور

تخلص ہے ذوقیؔ جسے مشتہر

متانت میں جیسے نظامیؔ شہیر

حلاوت میں سعدیؔ صفت بے نظیر

فصاحت میں سحباںؔ کابے شک امام

بلاغت میں عرفیؔ یک اس کا غلام

نظائر میں صائبؔ جو تھا بے نظیر

تھا نازک خیالی کا اس کے اسیر

لکھا اس نے ہے پرشرف یک کتاب

کہ بحرِ سیر میں ہے درّ خوش آب

ہے نظم اس کا اعجاز سے پر تمام

بھی ہے ’’معجز مصطفی‘‘ اس کا نام

تو ہندی میں کر ترجمہ اس کے تیں

بشرطیکہ افہام سے ہو قریں

نہیں فارسی سے جو کوئی آشنا

کرے گا ترے حق میں پڑھ کر دعا

جو حاصل کریں فائدہ سب عوام

ثواب اس کا پہنچے گا تجھ کو مدام

رہے گا جہاں بیچ اے دل فگار

یہی خیر جاری ترا یادگار

جو یہ مشورت دل نے مجھ کو دیا

تو میں مستعد ترجمہ پر ہوا

وہیں ہاتھ میں لے کے میں نے قلم

لگا ترجمہ کرنے اس کا رقم

حضرت حسرتؔ نے حضرت ذوقیؔ کی تحریر کردہ حمد، مناجات،نعت اور منقبت غوث اعظم کو اپنی جانب سے لکھا ہے اور کہا کہ اس کو ’’ریاض سیر‘‘ کا دیباچہ سمجھا جائے۔ اس تعلق سے لکھے گئے ابیات درج ذیل ہیں؎

مصنف کے حمد و مناجات کو

بھی نعت و مناقب کو اے نیک خو

کیا ترجمہ اپنی جانب سے میں

وہی اس کا دیباچہ ہے دل نشیں

پھر وہ کہتے ہیں کہ ترجمہ کے دوران بڑی دقت پیش آئی اور میں نے بڑی محنت اٹھائی اور بعض مقامات پر اصل پر اضافے بھی کیے تاکہ نظم کی زیب و زینت اور قارئین میں دلچسپی و دلکشی باقی رہے۔ لوگ اس سے خوب استفادہ کریں، اس مفہوم کے چند شعر پیش ہیں ؎

عزیزو! لکھا ہوں جو میں یہ کتاب

اٹھایا ہوں محنت بہت بے حساب

میں ابیات کو اصول کے بھی کہیں

لکھا ہوں بلا ترجمہ اے …..

کہ تا اس سے اس نظم کو ہووے زیب

ہو یہ نامہ ہر ایک کا دل فریب

سبب تالیف کے آخر میں انہوں نے ناظرین سے درخواست کی کہ اگر اس میں کہیں خطا و خلل دیکھیں تو اصلاح کردیں اور عیب چینی سے پرہیز کریں ؎

جو ہیں ناظراں اس کے ، ان کے حضور

یہی ہے مری التجا بالضرور

خطا یا خلل گر کہیں اس میں ہو

کرم کر یہ عاصی پہ اصلاح دو

وگر نہ رہ لطف سے بالضرور

رکھو عیب چینی سے خاطر کو دور

’’ریاض سیر‘‘ چار سو چھتیس صفحات پر محیط ہے جس میں حمد و مناجات اور نعت و منقبت پر مشتمل دیباچہ، نصیحتِ پدر (حضرت ذوقی) برائے پسر (حضرت محوی) اور سبب تالیف کے علاوہ ’’معجز مصطفی‘‘ کی طرح انیس مقالہ جات، تتمہ اور حسرتؔ کی طرف سے رقم کردہ خاتمہ درج ہے۔ آخر میں ترقیم کے طور پر کاتب کا نام حاجی سید عبدالقادر قادری اور تاریخ کتاب ۱۶؍ذی الحجہ ۱۲۷۰ھ لکھا گیا ہے۔

اس گراں قدر مثنوی کے نظم نگار حضرت حاجی (غلام) محمود مہاجر حسرتؔ کے ہم نام خان بہادر مولوی غلام محمود مہاجر ابن احمد حسین مہاجر ہیں جو کرناٹک سرکار میں ڈپٹی سکریٹری کے عہدے پر فائز تھے، موصوف کے جد امجد حامد سعید خاں بہادر سلطان ٹیپو شہید کے دربار میں بارسوخ فرد تسلیم کیے جاتے تھے، مولوی غلام محمود مہاجر دینی و عصری علوم و عصری فنون کے مجمع البحرین تھے، برٹش انڈیا نے آپ کو ۱۸۹۷ء میں خان اور ۱۹۰۱ء میں خان بہادر کے لقب سے نوازا تھا (۲۰)۔ خان بہادر غلام محمود مہاجر کے تعلقات حضرت مولانا سید شاہ رکن الدین قادری ویلوری (متوفی ۱۳۲۵ھ ) ابن حضرت قطب ویلور (متوفی ۱۲۸۹ھ ) سجادہ نشین آستانۂ اقطاب ویلور و بانی ٔ دارالعلوم لطیفیہ سے مستحکم تھے ۔ چنانچہ غلام محمود نے مذکورہ دارالعلوم سے جلسۂ تقسیم اسناد منعقدہ بتاریخ ۹؍ شعبان ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۳ء میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اپنے خطاب مستطاب سے طلبۃالعلوم کو مستفیض بھی فرمایا۔ (رودادِ جلسۂ دستار بندی مطبوعہ ۱۳۱۱ھ )

حضرت حسرتؔ کا نسبی تعلق قوم نوائط سے ہے، ’’مہاجر‘‘ ان کا خاندانی لقب ہے جو نسلاً بعد نسلٍ نام کا لاحقہ بن کر چلا آرہا ہے، بقول مولف ’’تاریخ النوائط‘‘:

’’یہ لقب (مہاجر) اس خاص گروہ کا ہے جو حوالی مدینۂ مطہرہ میں سکونت پذیر تھا حجاج بن یوسف کے مظالم سے جب تمام افراد قوم کا اجتماع مدینۂ مطہرہ میں ہوا تو مہاجر سے موسوم ہوئے جب ساری قوم بہ ہیئت مجموعی مدینۂ مطہرہ سے ہجرت کرکے بغداد آئی تو کل افراد قوم مہاجرین کہلائے، اس لقب کے اکثر افراد حیدرآباد میں موجود ہیں‘‘۔ 

حضرت حسرتؔ کا انتقال ’’ریاض سیر‘‘ کی طباعت ۱۲۷۰ھ سے قبل ہوچکا تھا، اس لیے کتاب کے سرورق پر اسم گرامی کے ساتھ ’’غریق بحر رحمت‘‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جنوب کے کثیر التصانیف بزرگ شاہ عبدالحی قادری احقرؔ بنگلوری (ولادت ۱۲۳۵ھ؍ وفات ۱۳۰۱ھ) خلیفہ قطب ویلور قدس سرہ جو حضرت حسرتؔ کے بعد خانقاہ اقطاب ویلور کے خوشہ چیں ہوئے تھے، انہوں نے ’’ریاض سیر‘‘ کے بعد ’’جنان السیر‘‘ کے نام سے ۱۲۷۵ھ میں مفصل منظوم سیرت پاک تحریر کی، یہ عین ممکن ہے کہ حضرت کو’’ریاض سیر‘‘ سے ’’جنان السیر‘‘ لکھنے کی تحریک ملی ہو۔ ’’جنان السیر‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے مولف ’’خانقاہ اقطاب ویلور کے علمی آثار‘‘ رقم طراز ہیں:

’’حضرت احقر نے سیر طیبہ کو پہلی بار مبسوط طور پر واقعات کے جزئیات کے ساتھ اردو زبان میں نظم کیا اور اس کتاب کا نام ’’جنان السیر فی احوال سید البشر‘‘ رکھا۔ یہ مثنوی تقریباً بیس (۲۰) ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے دو دفتر ہیں اور ہر دفتر چار چمن (باب) سے سجایا گیا ہے، حضرت احقرؔ نے سات چمن خود ہی لکھے مگر آٹھواں چمن (معجزات محمدیؐ) اپنے لائق و فائق فرزند عبدالقادر علی صوفی سے لکھوایا‘‘۔ 

حضرت حسرتؔ کے معاصرین میں علامہ باقر آگاہ ویلوری (متوفی ۱۲۲۰ھ)، علامہ عبدالعلی بحرالعلوم لکھنوی ثم مدراسی (۱۲۲۵ھ)، علامہ حافظ عبدالقادر آتوری (۱۲۵۱ھ)، علامہ قاضی ارتضیٰ علی خاں صفوی مدراسی (متوفی ۱۲۷۰ھ)، علامہ سراج العلماء سعید اسلمی مدراسی (متوفی ۱۲۷۲ھ)، حضرت میر محمد حیات قادری میسوری (۱۲۸۱ھ)، حضرت سید شاہ عبداللطیف معروف بہ قطب ویلور (متوفی ۱۲۸۹ھ)، حضرت حکیم زین العابدین مائل ویلوری (متوفی ۱۲۹۷ھ) وغیرہ علماء و صلحاء کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ مگر افسوس کہ ان بزرگوں سے حسرتؔ کے روابط و تعلقات کا علم نہیں ہے حالانکہ مذکورہ اہل علم و فضل سبھی علاقۂ مدراس سے تعلق رکھتے ہیں۔

کتاب اور صاحب کتاب کے تعارف کے بعد مثنوی ’’ریاض سیر‘‘ کے مختلف حصوں سے نمونتاً اشعار پیش کیے جارہے ہیں تاکہ شاعرکی فنی صلاحیتوں اور فکری بلندیوں کا اندازہ ہوسکے اور تخلیق کار کی قادرالکلامی اور قوت متخیلہ کی کارفرمائی کا علم ہوجائے۔

حمد

خدایا سزاوار شاہی تجھے

تو صاحب ہے سب خادماں ہیں ترے

دل و جاں ترے بندہ فرماں مدام

دل و جاں سے ہیں ہم بھی تیرے تمام

کیا ہے جو تو تن کو محکوم جاں

رکھا ہے بہت اس میں حکمت نہاں

کھڑا کرکے خوبی یہ ….. سپہر

تو روشن کیا چہرئہ ماہ و مہر

سنوارا بلندی سے افلاک کو

تو پستی سے زینت دیا خاک کو

ترے حکم میں سب مَلک اور مُلک

ہے تجھ بحر احساں سے چرخ ایک فلک

منور ہے تجھ میں سے ماہ تمام

لڑی کو ہے تاروںکے تجھ سے نظام 

نعت سرور کونین میں حضرت حسرت کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

امام رسل، رہبر انس و جاں

امان زمین و امین زماں

محمدؐ نبی شاہ ابرار ہے

کلید در گنج اسرار ہے

محمدؐ کو جب حب سے حصہ دیا

حبیب اور محبوب اپنا کیا

ٹھکانا تو محبوب کا جان ہے

بھئی اس کے اوپر جان قربان ہے

ہے فتراک میں اس کے دست نہاں

گھسا خاک پر اس کے سر آسماں

ارم ہے خجل اس کے ایوان سے

ہیں رضوان اسیر اس کے رضوان سے

شفیع الخلائق بمحض الکرم

رفیع المراتب امام الامم

در افشاں ہوا ابر کف اس کا جب

گئی بس در افشائی ابر سبب

دل اس کا ہے دریا سے احساں میں پیش

کف اس کا ہے معدن سے بخشش میں بیش

فلک ہے زمیں بوس اس کا مدام

ملَک حلقہ در گوش اس کے تمام

فلک جب سے در پر گھسا اس کے سر

شب و روز اس پر ہے شمس و قمر

نسیم کرم اس کی در وقت کار

نکالی ہے کانٹے سے گلشن ہزار

ہوے اس کے لب سے جو ظاہر علوم

معطل ہوا جملہ عالم نجوم

جہاں کو دیا دین سے روشنی

سیاہی سویدا کی دل سے گئی

واقعہ معراج کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے تمہید میں اپنے کمال فن اور جدت سخن کا ثبوت دیا ہے، فنکارانہ قدرت، بلند تخیل اور معنی آفرینی کی عمدہ مثال ذیل کے اشعار سے عیاں ہوتی ہے ؎

تھی مشکیں شب اک یار کی زلف سی

نہ ایسی معنبر ہوو بو یار کی

زبس اس میں تھی روشی جلوہ گر

کہ خورشید نکلا ہے شب آن کر

فلک میں چھپا مہر اس نور سے

کہ جیوں تیرگی آگے خورشید کے

بہر یک طرف شعلۂ نور تھا

فراہم مگر مشک و کافور تھا

شب نور از بس وہ رکھتی تھی نور

کہ طبع جہاں سے کدورت تھی دور

سیاہی کیا منہ سے دور آسماں

کہ تسبیح سے روئے تسبیح خواں

ہوئی اس قدر رات روشن تمام

ہوا روز روشن کا بس رات نام

صدیوں سے مصنّفین اہل سنت کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ حمد و نعت کے بعد حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت بصورت منقبت پیش کرتے ہیں، حضرت حسرت نے بھی اسی طریقۂ سلف کو اپناتے ہوئے اشعار کہے ہیں جن میں شعریت و تخیل کی فراوانی نظر آتی ہے۔ چند اشعار پیش خدمت ہیں؎

زہے عبد قادر شہ حق پرست

زبردست سب اس کے ہیں زیر دست

بزرگ بزرگاں ہے وہ محترم

پناہِ عرب اور امان عجم

رہے غوث اعظم امام انام

قدم جس کا ولیوں کے سر پر تمام

مشائخ مشائخ ہوئے اس ستی

سرافراز قطب اور اوتاد بھی

کیا جو کہ جان اس کی رہ میں سبیل

وہ اس کو دیا چشمۂ سلسبیل

بلندی میں مانند قطب وفلک

یہ قطب فلک دو ہیں اور وہ ہے یک

تقرب کے حق میں وہ عالی ہمم

گیا مصطفےٰ کے قدم پر قدم

فلک جیوں زمیں اس کی ہے زیرپا

زمانہ سدا اس کو ….. کیا 

ذوقیؔ نے اپنی گراں مایہ مثنوی ’’معجز مصطفی‘‘ میں اپنے فرزند حضرت محویؔ کو طویل نصیحت فرمائی تھی جس کا اختصار حضرت حسرتؔ نے مثنوی ’’ریاض سیر‘‘ میں تحریر کیا ہے، ان نصائح میں سے صرف دو پند ہدیۂ ناظرین پیش کیے جاتے ہیں جنہیں حضرت محویؔ نے اپنی زندگی کا جزو لاینفک بنایا تھا اور اس پر تاحیات ان کا عمل رہا۔ ایک نصیحت درج ذیل ہے؎

دیا کر غریبوں کو سیم اور زر

جو تجھ پاس ہو ور نہیں عذر کر

فقیروں میں بخشش کیا کر مدام

تو بر لا امیدوں کو ان کے تمام

تو دل جوئی بے دلاں کر سدا

کیا کر غریبوں پہ بذل و عطا

جو آوے تجھے زخمیٔ غم نظر

لگا مرہم لطف اس زخم پر

جو پابند غم کوئی تجھ کو دیے

چھڑا اس کو غم سے خدا کے لیے

حضرت محویؔ نے اپنے والد ماجد کی مذکوہ بالا پند و نصیحت کی مکمل پابندی کی، بقول مولف ’’خانقاہ اقطاب ویلور کے علمی آثار‘‘:

حضرت محوی متوکل علی اللہ بزرگ تھے تاہم آپ کی جود و نوال اور عطا و افضال کے چرچے حیران کن تھے، بقول حضرت شاہ عبدالحئی احقرؔ بنگلوری؎

کہ بیاں اس کے ہو توکل کا

اور قناعت کا اور تبذل کا

اور سخاوت میں اس کی شان اعلیٰ

ایسا بخشا تھا لطف سے مولیٰ

کہ امیروں کو تھی پشیمانی

اغنیا کو کمال حیرانی

پوتے حضرت سید شاہ رکن الدین محمد قادری ابن حضرت مولانا سید شاہ عبداللطیف قادری نقوی معروف بہ قطب ویلورؒ فرماتے ہیں:

’’حاتم وقت ایسے کہ علاوہ روپیوں کے سات سو گھوڑے اللہ کی راہ میں خیرات فرمائے۔حضرت قطب ویلور قدس سرہ اکثر فرماتے تھے کہ والد ماجد کی صحبت میں (تقریباً) چالیس سال رہا کبھی آج کی چیز کو کل کے لیے رکھنے کو نہیں فرمائے‘‘۔ 

دوسری نصیحت مصنف ’’معجز مصطفیؐ‘‘ نے اپنے صاحبزادے کو اس طرح کی جسے انہوں نے حرز جاں بنائے رکھا تھا؎

جو بد ہے فقیر ، اس کو مت بول زشت

تو کر اس سے نیکی نہ کہہ بدسرشت

بد اخلاق پاوے تو اس کو اگر

ہے یک اس میں نیکی تو سو طرح شر

نظر یک پہ کر ، اس کے سو پر نہ کر

تو کہہ نیک اس کو ، بدی سے گذر

جس شخص میں سو طرح کے شر ہوں اور سو برائیاں ہوں اور ایک خیر ہو، ایک اچھائی ہو تو اسےخیر سے، بھلائی سے یاد کرنے کی نصیحت گراں قدر اور بے نظیر ہے۔ حضرت محویؔ کی پاکیزہ زندگی اس کا جیتا جاگتا نمونہ بنی ہوئی تھی، انہوں نے کبھی کسی کی برائی نہیں کی، دشمن کو بھی بھلائی اور نیکی سے سرفراز کیا:

’’ریاض سیر‘‘ میں جیسا کہ قبل ازیں کہا گیا انیس مقالے (باب یا فصل) ہیں جن میں سے پہلا مقالہ نور محمدی کے بیان و تشریح میں ہے۔ حضرت حسرتؔ نے اس ضمن میں حضور پرنور کا سراپا بڑے ہی معنی آفرین اور عمدہ و شستہ پیرائے میں لکھا ہے،چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎

کیا حکم ارواح کو پس یہ رب

کہ دیکھیں وہ نور مقدس کو سب

سب اس وقت بے خود ہوئے شوق سے

لگے نور احمدؐ کے تیں دیکھنے

پڑی سر اپر اسؐ کے جس کی نگاہ

ہوا ہے جہاں بیچ وہ بادشاہ

پڑی اسؐ کے آنکھوں پہ جس کی نظر

ہوا حفظ قرآن سے وہ بہرہ ور

نظر جبہ پر اسؐ کے جس نے کیا

جہاں بیچ وہ شاہ عادل ہوا

بھوئوں پر کیا اسؐ کے جس نے نظر

ہوا پس و ہ نقاش صاحب ہنر

جو کان اسؐ کے دیکھا وہ مقبل ہوا

جو رخسار دیکھا سو عاقل ہوا

نظر ناک پر اسؐ کے جس کی پڑی

ہوا وہ طبیب اور عطار بھی

جو کوئی کہ دیکھا لب لعل فام

وزیری میں اس نے کیا خوب نام

دہن پر نظر اسؐ کے جس نے کیا

ہوا روزہ دار اور روزہ رکھا

جو دانتوںکو دیکھا وہ خوش رو بنا

زباں جو کہ دیکھا سو درباں ہوا

جو حلق اسؐ کا دیکھا سو واعظ ہوا

موذن بھی اس نے ہوا برملا

جو داڑی کو دیکھا مجاہد ہوا

دل و جاں سے راہ محاسن لیا

بھی دیکھا جو وہ گردنِ زیب دار

تجارت کا پیشہ کیا اختیار

جو بازو کو دیکھا سو ہے لشکری

ہے گردن کشاں پر اسے سروری

حضرت حسرتؔ نے ’’ریاض سیر‘‘ کے آخری انیسویں مقالے میں حضور اکرم کے پردہ فرمانے کا واقعہ تفصیل سے بیان کرتے ہوئے اختتام کے اشعار میں اپنی فنی چابک دستی اور فکری بوقلمونی کا اظہارکیا ہے۔ ابیات ملاحظہ ہوں ؎

گیا شاہ مولود کی بارویں

یہ دنیا سے باغ ارم کی تئیں

تن اس کا جو تھا مثل جاں برزمیں

زمیں جی اٹھی جب گیا در زمیں

زمیں پائی جب رتبہ ایسا بڑا

ہوا غم سے قد آسماں کا دوتا

ہوا گنج وہ جب زمیں میں نہال

کیا کنج غم اختیار آسماں

لیا جب سے وہ جاز میں قرار

فلک ہو رہا ہے زمیں پر نثار

حضرت حسرتؔ کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد تھا، ’’معجز مصطفیؐ‘‘ کا ترجمہ ہی نہیں بلکہ ترجمانی بھی کی، اپنے طور سے اضافے کیے، سلاست وروانی کا خاص خیال رکھا، صنائع و بدائع کا جابجا بھرپور استعمال کیا، تشبیہوں اور استعاروں سے مثنوی کا دامن بھردیا، اس طرح ’’ریاض سیر‘‘ کو تخلیقی درجہ عطا کیا، اسی لیے مثنوی کے اختتام پر اس کی خوبیوں اور اس کے لفظی و معنی محاسن کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ؎

بحمد اللہ یہ نامہ بااحترام

بخوبی لیا صورت اختتام

نہیں نامہ یہ بلکہ ہے باغ نور

جسے دیکھ جنت پڑی در قصور

عبارات ہیں اس کے سب دل ربا

اشارات ہیں اس کے بس جانفزا

سواد سطور اس کے نوروں سے پر

بظاہر شبہ اور باطن میں ڈر

جو خضر اس کے حرفوں کو دیکھا نجھا

لیا اس کی ظلمت سے آبِ بقا

خطوط اس کے سب رشک مشک خطا

نہ آہو کو اس دو دماں میں جگا

مثنوی میں معنی آفرینی اور دلکشی پیدا کرنے کے لیے بڑی جدوجہدکی، خون دل کو جلایا، بحر فکر میں غوطہ زنی کی، بیان سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغات کو سرسبز و شاداب رکھنے اور اس کی خوبصورتی و دل آویزی کو دوبالا کرنے کے لیے خوب محنت و مشقت کی، اگر کہیں اصل عبارت کا مفہوم کھل نہ سکا ’’معجز مصطفیؐ‘‘ کے مصنف حضرت ذوقی سے روحانی مدد مانگی جس سے شرح صدر ہوتا گیا، اس طرح یہ مثنوی ’’ریاض سیر‘‘ اسم بامسمی ثابت ہوئی۔ اس تعلق سے یہ ابیات ملاحظہ ہوں ؎

بہت فکر کی بحر میں ڈوب کر

نکالا ہوں میں ایسے روشن گہر

جو میں دل کو اپنے خوں کیا

تو یہ لعل پارے بنے بے بہا

نہیں صرف الفاظ ہیں یہ شگرف

مرا لخت دل ہے ہر ایک اس کا حرف

جو سرسبز یہ باغ رنگیں ہوا

مرے خون دل سے ہی پالا گیا

لکھا ہوں جو میں یہ مقدس کتاب

اٹھایا ہوں محنت بہت بے حساب

نہ تھی یہ لیاقت مجھے بالیقیں

کروں ترجمہ نظم کو ایسے میں

نہ ہوتی مصنف کی تائید گر

تو یہ کام تھا مجھ سے دشوار تر

جب اس نظم کے ترجمہ کے لیے

کسی جا میں دشوار ہوتا مجھے

تو چہتا مصنف سے تائید میں

پس آسان ہوتا وہ میرے تئیں

خدا کا وہ جب خاص تھا بے گماں

کرے کیوں نہ امداد بے چارگاں

زہے ذوقیؔ قطب روشن ضمیر

سپہر ولایت کا مہر منیر

وہ تھا تاجور ملک تصنیف کا

مصنف ہو ایسا کہاں دوسرا

اگرچہ نہ تھی عمر اس کی زیاد

دیا پر تصانیف میں اس نے داد

یک و نیم مہہ میں جو عالی جناب

لکھا ’’معجز مصطفیؐ‘‘ سی کتاب

خلاصۂ کلام یہ کہ حضرت حسرتؔ نے ’’ریاض سیر‘‘ تخلیق کرکے نہ صرف منظوم سیرت نگاروں میں اپنا مقام و مرتبہ بلند کیا ہے بلکہ لسانی اعتبار سے بھی اپنی مثنوی کو شہرت دوام عطا کیا ہے، نقادان سخن کو اس مثنوی کے مزید محاسن و مزایا کی جانب توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنی رائے نیچے کمینٹ میں ضرور دیں

ڈاکٹر راہی فدائی کے مزید مضامین سبسے پہلے پڑھنے کے لئے خریدیں  معارف رسالہ

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.