Web Analytics Made Easy -
StatCounter

Allama Shibli Ki Sawaneh Nigari Ka Mutala Naye Tanazur Mein, علامہ شبلی کی سوانح نگاری کا مطالعہ نئے تناظر میں

مصنف: محمد بدیع الزماں

علامہ شبلی کثیر الجہات اور انسائیکلوپیڈیائی شخصیت کے مالک ہیں، ان کی ہمہ گیر طبیعت نے متنوع موضوعات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا، ان کے افکار و احساسات اور ان کی دانش و بینش جہاں تازہ کی رہنمائی کرتی ہے، شبلی کی شخصیت میں زود حسی اور اثر پذیری بھی ہے، ان کی ابتدائی زندگی میں وہابی حنفی نزاع سے دلچسپی کا رنگ گہرا نظر آتا ہے، اس دور کی یادگار تحریروں میں ’’اسکات المعتدی‘‘ نامی رسالہ ہے، تاہم شدید حساسیت کے باوجود انہوں نے اعتدال و توازن کو کبھی بھی اپنے سے دور نہ ہونے دیا، پروفیسر عبدالحق کا تبصرہ قابل توجہ ہے:

’’شبلی کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ ان کی دانش وری جن بصیرتوں کی حامل ہے، وہاں تک بڑے ذہن کی نہ رسائی ہوسکی اور نہ ہی ان میں وہ ادراک پیدا ہوسکا جو ماضی و حال کے مشاہدے سے مستقبل کو پہچان لیتا ہے، شعر و ادب کی فکری روایت میں امروز و دوش کے جام جہاں نما میں فردا کی کیفیات کا ادراک شبلی و اقبال سے زیادہ کسی کو نہیں ہے، شبلی کا فکر و احساس ایک اعتدال اور توازن رکھتا ہے، وہ زود حس ہیں اور جذباتی بھی، مگر یہ عناصر ان کی فکر و نظر پر غالب نہیں ہیں، وہ منطقی بھی ہیں اور کلامی بھی جن میں توازن اور تعدیل شرط اول ہے، ان افکار کو اس پس منظر میں دیکھنے اور شبلی کو دوبارہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ 

شبلی کو اہل علم و ہنر اور اصحاب ذوق و نظر ایک مفکر، ایک نامور مذہبی عالم، اردو اور فارسی کے بہترین شاعر، ایک سیاست داں، مجتہدانہ بصیرت کے مالک، ایک ماہر تعلیم، صحافی، ایک بلندپایہ مورخ و محقق، ممتاز سوانح نگار، اقلیم ادب و انشا کے بادشاہ اور عظیم نقاد بتاتے ہیں۔ پروفیسر عالم خوندمیری کا یہ خیال لائق ستائش ہے کہ:

’’شبلی ہماری تہذیبی میراث کا ایک حصہ بن گئے ہیں، شبلی کے ایک وارث ابوالکلام آزاد ہیں اور دوسرے وارث علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد کی لافانی تفسیر قرآن پاک ’’ترجمان القرآن‘‘ شبلی کی منطق کا نتیجہ ہے، آزاد کے ذریعہ شبلی کی عقل پسندی کھلی انسانیت دوستی کا روپ اختیار کرلیتی ہے‘‘۔ 

شبلی نے صرف انہی دونوں شخصیتوں کو متاثر نہیں کیا، ان کی تصنیفات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا اور کرتی رہیں گی، کیونکہ شبلی کی ہر تصنیفی کاوش کسی علمی ضرورت کو پورا کرتی ہے اور ہر تحریر ادب کا شاہکار بن جاتی ہے۔ اسی لیے وہ ذہنی، فکری اور علمی غذا پہنچاتی رہیں گی۔

سوانح حیات کسی شخص کی زندگی کے حالات بیان کردینے کا نام ہوسکتا ہے مگر وہ سوانحی ادب اسی وقت ہوگا جب فن کے تقاضوں مثلاً تاریخی صداقت، فنی جمالیات اور ادبی شان کو ملحوظ رکھا گیا ہو، اگر کسی کے کارناموں کی مکمل تفصیل اور تفصیلی واقعات جاننے کے بعد بھی پڑھنے والا گہرا اثر اور واضح تصور و تصویراخذ نہیں کرتا، تو وہ سوانحی ادب نہیں سوانح عمری ہے، کبھی تاریخ اور سوانح عمری ایک ہی سمجھے جاتے ہوں گے، اب دونوں کے لطیف مزاج میں بہت فرق ہے۔

آکسفورڈ ڈکشنری میں سوانح نگاری کی تعریف ن الفاظ میں کی گئی ہے:

’’سوانح حیات بطور ایک ادبی صنف کے کسی شخص واحد کی زندگی کے وہ واقعات ہیں، جو اس نے خود قلم بند کیے ہوں، ان میں ان معاملات اور اشخاص کا ذکر ہوتا ہے جن سے وہ متعلق رہا ہو یا ان تحریکات کی روداد بیان کی جاتی ہے جن میں وہ شامل رہا ہو‘‘۔ 

بایوگرافی کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ کسی شخص کے حالات زندگی بیان کردینے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایسا آئینہ ہے جس میں صاحب سوانح کی شخصیت اپنی تمام بوقلمونیوں کے ساتھ اجاگر ہو، نہ اس کو عقیدت کے بانس پر چڑھا دیا گیا ہو اور نہ بحیثیت انسان اس کے عیوب کو بھی محاسن میں بدل دیا گیا ہو۔

کارلائل کے قول کے مطابق ’’ایسی سوانح عمریوں سے جو حقائق کو آئینہ نہ دکھا سکیں، بہتر ہے کہ لکھی ہی نہ جائیں‘‘، لٹن اسٹریچی نے سوانح عمری کو ایسے جام بلور سے تشبیہ دی ہے، جس میں صاحب تذکرہ پورے قد سے کھڑا ہو۔ 

مولانا الطاف حسین حالی نے اپنا خیال یوں ظاہر کیا ہے:

’’بایوگرافی ان بزرگوں کی ایک لازوال یادگار ہے، جنہوں نے اپنی نمایاں کوششوں سے دنیا میں کمالات اور نیکیاں پھیلائی ہیں اور جو انسان کی آیندہ نسلوں کے یے اپنی مساعی جمیلہ کے عمدہ نمونے چھوڑ گئے۔ بایو گرافی علم اخلاق کی نسبت ایک اعتبار سے زیادہ سودمند ہے کیونکہ علم اخلاق سے صرف نیکی اور بدی کی ماہیت معلوم ہوتی ہے، بایوگرافی سے اکثر نیکی کے کرنے اور بدی سے بچنے کی نہایت زبردست تحریک دل میں پیدا ہوتی ہے۔ بایوگرافی چلا چلاکر اور سمندر کے طوفان کی طرح غل مچاکر یہ آواز دیتی ہے کہ جاؤ اور تم بھی ایسے ہی کام کرو‘‘۔ 

حالی کے یہ خیالات اصلاح معاشرہ کے تناظر میں درست ہوسکتے ہیں، لیکن جس شخص کی سوانح نگاری میں شخصیت کی واضح تصویر، تاریخی صداقت، جمالیاتی نکھار اور ادبی رچاؤ نہ پایا جاتا ہو، سوانحی ادب میں اس کا شمار نہ ہوسکے گا۔

یہی وجہ ہے کہ حالی کی ’’حیات جاوید‘‘ جسے مولوی عبدالحق نے ’’ہماری زبان میں یہ اعلیٰ اور مکمل نمونہ سوانح نگاری کا ہے‘‘ کہا ہے، شبلی نے اسے کتاب المناقب اور مدلل مداحی سے تعبیر کیا ہے۔

دیکھا جائے تو اپنی اصل کے لحاظ سے سوانح نگاری تاریخ ہی کا ایک شعبہ ہے، مگر سوانح نگاری اور تاریخ میں قریبی مماثلت کے باوجود اول الذکر ایسا شجرنو بہار ہے جو تاریخ اور ادب دونوں سے مربوط ہے۔ سوانح نگاری ایک طرف کسی انسان کی پیدائش سے موت تک کے افکار و افعال کا مرقع ہوتا ہے، تو دوسری طرف اپنے عہد کے عروج و زوال اور ذہنی و نفسیاتی کیفیات کا آئینہ دار بھی۔ جسے پوری دیانت داری اور انتہائی غیر جانب داری سے قلم بند کیا جاتا ہے۔

تاریخ اور سوانح نگاری میں کئی وجوہ سے مماثلت کے باوجود دونوں کے فرق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سوانح نگاری میں توجہ کا مرکز فرد ہوتا ہے، اسی فرد کے ضمن میں اس کی شخصیت جلوہ گر ہوتی ہے، اس کے ماحول کا تذکرہ ہوتا ہے، اس کی شخصیت کے عناصر ترکیبی کا بیان ہوتا ہے اور اس کے نمایاں کارنامے کو چراغ دکھایا جاتا ہے، جبکہ تاریخ میں اقوام و ملل مرکوز توجہ ہوتے ہیں، تاریخ میں جزئیات کا ہجوم کم ہوتا ہے، لیکن سوانح نگاری میں جزئیات کو قبول کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہوتی ہے۔ سوانح نگاری اپنے اندر جمالیاتی حس اور انسانی جذبات کے لیے ہمیشہ دامن کشادہ رکھتی ہے، جبکہ تاریخ جذبات کے ریلے کو، خیال آرائی اور استعاراتی اسلوب بیان کو سنوارنے کی طاقت نہیں پاتی۔ منظر اعظمی کہتے ہیں:

’’ایک زمانے تک تاریخ اور سوانح ایک ہی سمجھے جاتے تھے مگر دونوں میں بین فرق ہے۔ تاریخ میں مختلف اشخاص کے کارناموں اور قوموں کے عروج و زوال کی داستان 

ہوتی ہے اور سوانح نگاری میں صرف ذات کی تاریخ ہوتی ہے۔ ایک سوانح تاریخی مواد کی حامل تو ہوسکتی ہے مگر تاریخ کسی شخص واحد کی سوانح حیات نہیں ہوسکتی‘‘۔ 

حالی نے سوانح نگاری کا جو تصور پیش کیا ہے، علامہ شبلی نعمانی کا تصور ان سے کہیں زیادہ سائنٹفک اور اثباتی ہے۔ شبلی سیرت و سوانح نگاری میں صاحب سیرت کے ہر پہلو کو دکھانے پر اصرار کرتے ہیں، روشن بھی اور تاریک بھی، اپنے ایک خط میں انہوں نے مولانا حبیب الرحمٰن خاں شروانی کو جو صحابہؓ پر ایک کتاب لکھنا چاہتے تھے۔ لکھا کہ:

’’صحابہؓ کے حالات سے بڑھ کر کوئی چیز ہمارے لیے نمونہ نہیں بن سکتی لیکن ہر پہلو کو لیجیے اور ان پہلوؤں کو صاف دکھلائیے، جن سے آج کل کے مولوی قصداً چشم پوشی کرتے ہیں‘‘۔ 

تاریخ علامہ شبلی کا بے حد پسندیدہ موضوع ہے بلکہ ان کو اس سے عقیدت ہے۔ پھر سوانح نگاری اور تاریخ میں گہرا تلازم ہے۔ شبلی کے نزدیک تاریخ تہذیب انسانی کی سرگزشت ہے، وہ تاریخ اور سوانح نگاری دونوں ہی کو فلسفہ اجتماع کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، شبلی کے سوانح نگارانہ فن کی حقیقت و عظمت تسلیم کی گئی ہے، بلکہ ان کی استادانہ مہارت کا اعتراف کیا گیا ہے، تاہم ان کی سوانح نگاری مقصود اور مستقل بالذات نہ تھی، سچ ہے کہ انہوں نے سوانح نگاری کے اصولوں اور تاریخی صداقتوں کا بہت خیال رکھا، وہ درایت کے بغیر کسی روایت کو لینے کے قائل نہ تھے، پھر ان کا تنقیدی زاویۂ نظر ان کا ساتھ کبھی نہ چھوڑتا تھا۔

دیانت اور غیر جانب داری میں وہ بہت ممتاز تھے۔ وہ موضوعیت پر عقیدت کو ترجیح دینے کے روادار تھے ہی نہیں، شبلی اپنے نقطۂ نظر میں بہت عقلیت پسند، حقیقت بیں اور متوازن واقع ہوئے تھے، البتہ ان کی تاریخ نگاری میں کبھی کبھی خیال آرائی در آتی ہے، جو مبالغہ آرائی تک لے جاتی ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف شروع کی سطروں میں اشارہ کیا گیا تھا کہ شبلی طبعاً نغمہ و لَے کے آدمی تھے، ان کے اندر زود حسی بہت تھی، ان کی تحریروں میں شعریت اور نغمگی آہی جاتی تھی، شبلی بڑے نقاد ہیں مگر اپنے شاعرانہ مزاج کی وجہ سے عقلی اصولوں کو تسلیم کرتے ہوئے بھی جب عملی تجزیہ کرتے ہیں تو تنقیدی عمل پر جمالیاتی اور تاثراتی رنگ گہرا ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر خورشید الاسلام لکھتے ہیں:

’’وہ انشاپرداز تھے اگر وہ انشاپرداز نہ ہوتے تو مصور ہوتے‘‘۔ 

اور بقول مولانا سعید اکبرآبادی:

’’مولانا شبلی نعمانی جو اپنے وقت بلکہ کہنا چاہیے کہ اردو ادب کے عہد کےسب سے بڑے سیرت نگار و سوانح نویس تھے، جو اسلامی تاریخ کو سوانح اور سیرت کی عینک سے دیکھتے تھے اور اسلاممی تہذیب و تمدن کی تشکیل میں ابطال کے عطایا اور 

کارناموں کا تجزیہ منصوبہ بندی کے ساتھ پیش کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ان کی بیشتر تصانیف سوانح عمری کے فن کے ذیل میں آجاتی ہیں‘‘۔

علامہ شبلی نے ۱۸۵۷ء کے بعد اپنی قوم اور عالم اسلام کی خستہ حالی اور پراگندہ فکری کو دیکھا تو خون کے آنسو روئے۔ وہ ایک حساس اور غیور مرد مجاہد تھے، وہ اسلام کا احیاء اور اس کی نشأۃ ثانیہ چاہتے تھے، اس عظیم مقصد کے لیے وہ تاریخ اسلام کی باوقار انقلابی اور مثالی شخصیتوں کو پیش کرکے امت مسلمہ کے نوجوانوں کے ضمیر کو بیدار کرنا، عقیدہ کو درست سمت دینا، اجتماعی شعور کو اسلامی نہج دکھلانا اور ملت کے دکھوں کا مداوا کرنا چاہتے تھے، اس کے لیے انہوں نے ’’الفاروق، المامون، سیرۃ النعمان، الغزالی‘‘ کا انتخاب کیا، مقصد سوانح نگاری کب تھی؟ وہ تو عظماء و ابطال کی سوانح کو تاریخ اسلامی کی عینک سے دیکھتے تھے، اس لیے ’’ہیروز آف اسلام‘‘ کے طرز پر انہوں نے چند مثالی شخصیتوں کا نقشہ کھینچ کر امت کے نوجوانوں کے سامنے رکھ دیا۔ نقش نگاری اور مصوری انہوں نے کچھ اس انداز سے کی کہ سوانح نگاری کے اصول و ضوابط اور فن کے سارے تقاضے ملحوظ تو رہے ہی مگر ان کی نقش نگاری، تاریخیت اور سوانحی ادب کے حسین امتزاج سے دوآتشہ ہوکر فن پارہ بن گئی۔

اس حقیقت کا اعتراف کیا جانا چاہیے کہ سیرۃ النعمان، الغزالی، سوانح مولانا روم میں امام اعظمؒ کی سیرت و سوانح، امام غزالی اور مولانا روم کے حالات زندگی سے زیادہ ان علوم و فنون کی تاریخیں آگئی ہیں، جن کے یہ اکابر علماء بجا طورپر نمایندے تھے، مگر اس کا یہ مطلب نہ لیا جانا چاہیے کہ یہ کتابیں مجرد تاریخی دستاویز ہیں، بلکہ یہ تاریخی صداقت کی کشت زار میں سوانح نگاری کی پھلواریاں ہیں۔

شبلی نے جن نابغۂ روزگار ہستیوں کو آئیڈیل اور بیماروں کا مسیحا بناکر پیش کیا۔ اس میں وہ کارلائل کے نظریہ کے حامی نظر آتے ہیں کہ ’’تاریخ غیر معمولی شخصیتوں اور ناموروں کے غیر مختم سلسلہ کا نام ہے‘‘۔ 

سوانح نگاری میں تصویر کے دونوں رخ دکھانے کی جو بات علامہ شبلی نے مولانا حبیب الرحمٰن خاں شروانی سے کہی تھی، اس میں ان جیسا نقاد اور عقلیت پسند دانشور نہ صرف کھرا اترا ہے، بلکہ اس معاملہ میں روایت و درایت کے درمیان اعتدال و توازن کے ساتھ احترام بھی ملحوظ رکھا ہے۔ تنقید کا قلم کہیں نشتر نہیں بنتا، ’’مناقب عمر بن عبدالعزیز‘‘ نامی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ کہہ گئے:

’’سوانح نویسی کے فرائض میں جو بڑا فرض مصنف سے رہ گیا وہ تنقید ہے، یعنی مصنف نے اپنے ہیرو کی صرف 

خوبیاں دکھائی ہیں، اس کے کسی قول و فعل پر کسی قسم کی نکتہ چینی نہیں کی، لیکن یہ اس زمانے کے تمام سوانح نگاروں کا انداز ہے‘‘۔ 

سوانح نگاری میں شبلی نے غیر جانب داری اور معقول و مثبت تنقید کی طرح اس وقت ڈالی جب اس صنف ادب (سوانح نگاری) کو مداحی اور مناقب کے بیان کے لیے خاص سمجھا جاتا تھا۔ المامون مصنف کا محبوب ہیرو ہے، ایک دفعہ امین نے مامون کا حال پوچھا، کہا گیا زندہ ہے۔ امین نے کہا خدا کم بختوں …. کا برا کرے خبر دی تھی کہ مرگیا۔ پھر مامون کی خدمت میں امین کا سر پیش کیا گیا تو بھائی کے خون آلود کٹے ہوئے سر کو مسرت کی نگاہ سے دیکھا اور جوش مسرت سے سجدہ شکر ادا کیا۔ شبلی نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ہیرو کے بارے میں یوں اظہار خیال فرمایا:

’’امین کی عظمت کے سامنے مامون نہایت کم ظرف نظر آتا ہے‘‘۔ 

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’جس چیز نے اس (مامون) کی ساری خوبیاں غارت کردی وہ یہی مذہبی جنون تھا‘‘۔ 

الفاروق میں حضرت عمرؓ کا حضرت فاطمہؓ کے گھر کو آگ لگا دینے کی دھمکی کے الزام کی شبلی نے صفائی یا تاویل پیش نہیں کہ بلکہ کہا ’’درایت کے اعتبار سے اس واقعہ کے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے، کیونکہ حضرت عمرؓ کی تندی اور تیز مزاجی سے یہ حرکت کوئی بعید نہیں ہے‘‘۔ 

ڈاکٹر سید عبداللہ علامہ شبلی کی سوانح نگاری پر یوں تبصرہ کرتے ہیں:

’’فن سوانح نگاری میں ہمارے دوسرے ممتاز مصنف شبلی ہیں، جو سوانح نگار ہونے کے ساتھ ایک بلندپایہ مورخ بھی ہیں، ان کی نثر حالی کے مقابلہ میں زیادہ متنوع ہے اور سوانح نگاری میں ان کا رنگ حالی کے رنگ سے جدا ہے‘‘۔ 

علامہ شبلی ابھی ۳۵ برس کے تھے کہ ۱۸۹۴ء میں حکومت ہند نے انہیں ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا، اس مناسبت سے علی گڑھ کالج میں ایک بڑا جلسہ ہوا، جس کی صدارت نواب محسن الملک نے کی۔ اس موقع پر کی گئی صدارتی تقریر کا ایک چھوٹا سا اقتباس ملاحظہ ہو:

’’شبلی نے فلسفیانہ طرز پر سوانح عمری لکھنے کا طریقہ جاری کیا، تاریخی واقعات کی تحقیق کرنے، واقعات پر محققانہ رائے دینے، نتائج کے اسباب بیان کرنے اور اخبار و روایات کے صدق و کذب کو دریافت کرنے کا راستہ بنایا، انہوں نے ہمارے مردہ لٹریچر بلکہ ہمارے مردہ خیالات میں ایک نئی جان ڈالی ہے‘‘۔ 

مہدی افادی جو شبلی کو ’’خوش اوصاف شبلی‘‘ کہا کرتے تھے۔ کہتے ہیں ’’شبلی ملک میں پہلے شخص ہیں جن کو تاریخ اور فلسفہ میں ربط باہمی کا خیال پیدا ہوا اور وہ ان جواہرات عقل کی تحلیل و ترکیب کیمیائی اس طرح کرسکے، جس سے لٹریچر میں ایک خاص امتزاج پیدا ہوگیا ہے‘‘۔ 

شبلی نے تاریخ اور سوانح نگاری میں تنقیدی زاویے کی حمایت کی، درایت اور جرح و تعدیل کے اصول کا احیاء کیا، جہاں مسلمانوں اور مستشرقین کی تاریخ نویسی اور سوانح نگاری کے عیوب واضح کیے، وہیں یورپ کی علمی فیاضیوں اور ان کے علمی اصولوں کی مداحی بھی کی۔

یہی طریقہ کار نئی نسل کو اپیل کرتا ہے، شبلی کی عظمت کا احساس پہلے سے زیادہ عام ہونے لگا ہے، آج کی نئی پود شبلی کو خود ان کی علمی، ادبی، دینی، تاریخی، تنقیدی اور شعری کاوشوں کو ان ہی کی تخلیقی فعالیت کی روشنی میں سمجھنا چاہ رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ شبلی کی علمیت، روشن ضمیری، وسعت فکر و نظر، ان کی عقل پسندی اور دانش وری کا اعتراف عام ہونے لگا ہے۔

میرا خیال ہے کہ شبلی کی تاریخ نویسی اور سوانح نگاری کا مطالعہ گہری دلچسپی کے ساتھ پہلے سے زیادہ ’’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘ کے تناظر میں کیا جائے گا یا کیا جانا چاہیے، خود ان کے تنقیدی اصول جو عہد تداخل (۱۸۵۷ء کے بعد مشرقیت اور مغربیت کا ٹکراؤ بلکہ آخر الذکر کی اول الذکر پر بالادستی) کی دین ہے، اب بہتر طریقے سے سمجھے جائیں گے۔

نئے تناظر میں شبلی کی اہمیت اس لیے بڑھتی جائے گی کہ ان کی تحریروں میں بلا کا اعتماد علی النفس اور وثوق پایا جاتا ہے، ان کی نثری خصوصیات میں سادگی، بے تکلفی، استدلال، منطقیت اور استعاراتی پہلو بے حد نمایاں ہے، آج قلب و دماغ کے دریچوں میں نئے رجحانات کی جو کرنیں پھوٹ رہی ہیں، شبلی کی سوانح نگاری انہیں تابکار کرسکتی ہے۔

اور مہدی افادی کا اصرار کہ ’’مجھ کو اصرار ہے کہ شبلی کی تحقیقات سے جو ان کی اولیات میں داخل ہونے کے لائق ہے ہندوستان کی علمی قلم رو میں ایک نیا تاریخی دور شروع ہوگا‘‘۔ 

اپنی رائے نیچے کمینٹ میں ضرور دیں

 محمد بدیع الزماں کے مزید مضامین سبسے پہلے پڑھنے کے لئے خریدیں معارف رسالہ

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.