Web Analytics Made Easy -
StatCounter

فتاوی علیمیہ مولانا عبدالعلیم اعظمی مبارکپوری

فتاوی علیمیہ مولانا عبدالعلیم اعظمی مبارکپوری

فتاوی علیمیہ مولانا عبدالعلیم اعظمی مبارکپوری

ابو الامجد حضرت مولانا مفتی عبدالعلیم مبارک پوری ہندوستان کے جید عالم دین، مدرسہ چشمہ رحمت غازی پور کے صدر المدرسین اور مفتی تھے، ہندوستان کے مایہ ناز عالم دین مولانا ابوالحسنات محمد عبدالحئی لکھنئوی کے تلمیذ رشید تھے،اس کے علاوہ اس وقت کے دیگر جید علماء کرام سے مختلف علوم و فنون کی تکمیل کے بعد “مدرسہ چشمہ رحمت غازی پور” کو اپنی کاوشوں کی جولان گاہ بنایا،زندگی کی آخری سانس تک تقریبا 35/ سال اپنے علم سے تشنگان علم و ادب کو سیراب کیا، اس طویل عرصے میں ہزاروں تشنگان علم ، علم و فن کے اس سرچشمہ سے سیراب ہوئے، مولانا عبدالعلیم مبارک پوری بہترین مدرس کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ فقیہ اور مصنف بھی تھے، مختلف موضوعات پر دس سے زائد کتابیں اور رسائل تصنیف کئے، جن میں سے اکثر مطبوعہ ہیں،جمعہ کی آذان ثانی کے سلسلے میں آپ کا مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی سے تحریری مناظرہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ” درۃ التاج الأنور فی آذان الجمعۃ عند المنبر ” اور “سفرنامہ حجاز”( اس کتاب میں حج و زیارت کے دوران ممالک اسلامیہ سے آئے ہوئے علماء و فضلاء سے مل کر جمعہ کی آذان ثانی کے بارے میں ان کا تعامل معلوم کرکے اس رسالے میں بیان کیا ہے۔) جیسی گراں قدر تصانیف آپ کے اشہب قلم سے نکلی۔

مدرسہ چشمہ رحمت میں آپ کے ذمہ فتاوی کا کام بھی تھا،چناں چہ آپ نے اس طویل عرصہ میں سینکڑوں سوالات کے جوابات رقم کئے، ایک صدی کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان فتاوی کا ایک عدد “رجسٹر نقول فتاوی ” انتہائی بوسیدہ حالت میں جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور کے کتب خانہ میں موجود ہے۔ ہمارے زیر مطالعہ کتاب “فتاوی علیمیہ” اسی رجسٹر سے جدید ترتیب و تہذیب اور تحقیق و تعلیق کے ساتھ شائع فتاوی کا مجموعہ ہے۔
زیر نظر کتاب 26/ ابواب پر مشتمل ہے، پہلا باب “کتاب الطہارۃ” اور آخری “کتاب الحظر و الاباحۃ” ہے، کتاب بڑی سائز کے 496/ صفحات پر مشتمل ہے۔

فتاوی کا اسلوب یہ ہے کہ سوال کا مختصر جواب رہتا ہے، دلیل کے طور پر متقدمین و متاخرین فقہاء کی عبارتیں نقل کردیتے ہیں، البتہ بعض فتاوی میں براہ راست کتاب و سنت سے دلائل دئے گئے ہیں۔ اکثر فتاوی میں اختصار و جامعیت کو ملحوظ رکھا گیا ہے، البتہ بعض فتاوی میں طویل مدلل بحث بھی کی گئی ہے، جیسے قرأت خلف الامام، والضالین کو والذالین پڑھنا، قصدا نماز ترک کرنے سے کافر ہوجانا، جماعت ثانیہ کی عدم کراہت ( یہ ان مسائل میں سے ایک ہے، جہاں صاحب فتاوی نے حنفیہ سے اختلاف کیا ہے، اس فتوی پر 14/ علماء کرام کی تائید ہے۔) آذان ثانی خطیب کے سامنے دی جائے گی۔ ( یہ فتوی در اصل مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی سے تحریری مناظرہ ہے، خان صاحب نے آپ کے فتوی کا جواب دیا، تو مولانا نے اس کا جواب الجواب لکھا، کتاب میں خان صاحب کا جواب درج نہیں ہے۔ یہ فتوی اور جواب الجواب 14/ صفحات پر مشتمل ہے۔)

صاحب فتاوی نے چند مسائل میں فقہ حنفی یا مفتی بہ اقوال سے اختلاف کیا ہے، فاضل مرتب نے ان تمام مقامات کی نشان دھی کی ہے اورحاشیہ میں مفتی بہ قول نقل کیا ہے۔بہت سے ایسے مسائل جو غلط فہمیوں اور بدعات و رسومات کے طور پر برصغیر کے معاشرہ میں اس طرح رچ بس گئے تھے کہ ان کو دینی کام ؛ بلکہ ثواب کا کام سمجھ کر کیا جاتا ہے، اس طرح کے مسائل میں صاحبِ فتاوی نے باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا ہے،محض ظاہر کو نہیں دیکھا؛ بلکہ ان کے پیچھے پنہاں مقاصد کو سامنے لاکر شرعا اس کام کی حیثیت اجاگر کی ہے، مثلا تعزیہ کے متعلق سوال کے لل جواب میں تعزیہ کے تین مقاصد بیان کرنا اور اس کے بعد تینوں مقاصد کے تحت تعزیہ اٹھانے کی حیثیت کو الگ الگ بیان کرنا،اسی طرح قبر پر کھانا اور جانور وغیرہ چڑھانا، قبر کا سجدہ کرنا وغیرہ مسائل میں بھی یہی طرز اختیار کیا ہے۔

فاضل مرتب مفتی فرحت افتخار قاسمی مبارک پوری ( استاذ حدیث و فقہ جامعہ اسلامیہ مظفر پور، اعظم گڑھ) نے ان فتاوی کو منظر عام پر لانے کے لیے مشکل ترین مراحل کو طے کیا ہے، یقینا یہ اہم کام محنت طلب تھا، ایک بوسیدہ رجسٹر سے ایک صدی پرانی تحریر کو پڑھنا، حوالہ جات کی تخریج کرنا واقعی مشکل ترین کام ہے، بقول مرتب ” سب سے زیادہ مشقت طلب مرحلہ یہ رہا ہے کہ رجسٹر نقول فتاوی کی یہ تحریر ایک صدی سے زائد عرصہ پہلے کی ہے، مرور ایام نے روشنائی کا رنگ کافی حد تک بدل ڈالا، نیز اوراق کہ بوسیدگی بھی فتاوی کی خواندگی اور ترتیب میں دشواری کا باعث بنی رہی۔

Fatawa e Alimiya

رجسٹر نقل فتاوی کا خط دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کسی عدالتی وثیقہ کی نقل شدہ کاپی ہے، پڑھنے میں زحمت اور گرانی ہوتی کبھی طبیعت اکتا جاتی مگر اس میں مستقل لگنے اور اس کی مزاولت سے کام قدرے قابو میں آتا گیا۔

مرتب کے کام کی نوعیت

مصنف نے ان فتاوی کی ترتیب و تہذیب اور تحقیق و تعلیق میں جن امور کو مد نظر رکھا ہے اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

١. ترتیبِ جدید اور ہر مسئلہ پر ذیلی عناوین کا اضافہ

٢. فتاوی کی زبان ایک صدی پرانی تھی، اس لیے کہیں کہیں حاشیہ میں مسائل کو واضح کیا گیا ہے۔

٣. جہاں فتاوی میں ابہام تھا، وہاں پر حاشیہ میں وضاحت کی گئی ہے،صورت مسئلہ کو مزید واضح کردیا گیا ہے۔

٤. بعض مسائل میں صاحب فتوی نے حنفیہ سے اختلاف کیا ہے، مرتب نے حاشیہ میں حنفیہ کا نقطہ نظر بیان کیا ہے، اور صاحب فتاوی کی رائے کو دلیل کے ساتھ رد کیا ہے۔

٥. صاحب فتاوی نے اپنے فتاوی میں کثرت سے متاخرین و متقدمین فقہاء کی عبارتیں، قرآن کی آیات اور احادیث کریمہ کو نقل کیا ہے،فاضل مرتب نے ان عبارتوں کی تخریج کی ہے،اور مکمل حوالہ درج کیا ہے۔

٦. بعض فتاوی فارسی اور عربی میں تھے،ان کا ترجمہ کیا ہے۔

٧. اس کے علاوہ مرتب نے بعض فتاوی کی وضاحت،تائید یا تردید میں قدیم و جدید فقہاء کی عبارتیں اور فتاوی نقل کئے ہیں۔

کتاب کے شروع میں مولانا خورشید انور اعظمی کا مقدمہ، مفتی ابوالقاسم نعمانی کے دعائیہ کلمات، مولانا مفتی امین صاحب، مفتی احمد الراشد صاحب، مفتی منظور احمد صاحب کی تقریظات موجود ہیں۔اس کے بعد صاحبِ فتاوی کا مفصل سوانحی خاکہ ہے۔ مزید برآں صاحبِ دیوان عربی شاعر مولانا احمد حسین رسول پوری (برادر اصغر صاحبِ فتاوی، جد مادری مورخ اسلام قاضی اطہر مبارک پوری)، مفتی شعیب صاحب رسول پوری ابن صاحبِ فتاوی استاذ مدرسہ چشمہ رحمت ( اس کتاب میں ان دونوں شخصیات کے بھی بعض فتاوی شامل ہیں)، مولوی عبدالمجید رسول پوری اور مولانا عبدالباقی صاحب کا تعارف و تذکرہ ہے۔مولانا خورشید انور اعظمی مقدمہ میں فاضل مرتب کے کارہائے نمایاں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اس مخطوطہ کو جدید اسلوب و ترتیب کے قالب میں ڈھالنے اور اس کو منصہ شہود پر لانے کا یہ عظیم کام ہمارے دیار کے فاضل نوجوان مولانا مفتی فرحت افتخار قاسمی ۔۔۔نے انجام دیا ہے، اور اپنی محنت و جانفشانی اور تعمق نظری سے اس کو اس لائق بنادیا ہے کہ اہل علم کا اس سے استفادہ کرنا آسان ہوگیا ہے،نیز تحقیق و تخریج کے ساتھ ساتھ تعلیق و تحشیہ کے مشکل اور تھکا دینے والے عمل کو اس خوش اسلوبی اور سلیقہ مندی سے انجام دیا ہے کہ بلاشبہ لائق صد تحسین ہے۔ اس تعلق سے موصوف نے اگر ضرورت محسوس ہوئی تو بغرض تسہیل حاشیے میں مسئلے کی مزید وضاحت کردی ہے، نیز اگر کسی مقام پر صاحب فتاوی سے نظریاتی اختلاف نظر آرہا ہے تو اس کی بھی دلائل کی روشنی میں پوری دیانت داری کے ساتھ توضیح کردی ہے، جس سے اس مجموعہ فتاوی کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ مرتب فتاوی بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ آپ نے دیگر علمی و تدریسی مصروفیات کے شانہ بہ شانہ اس محنت طلب کام کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور یکسوئی اور تندہی کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دیا۔

کتاب خریدیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *