Web Analytics Made Easy - StatCounter
Bal Ahya

بل احیاء عبدالعلیم الاعظمی

بل احیاء

محمد جاوید قاسمی

نام کتاب : بل احیاء

مصنف : عبدالعلیم الاعظمی

صفحات: 222

شہدا کو یہ فضیلت بخشی گئی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ وہاں پروردگار کی طرف سے انہیں رزق دیا جاتا ہے جس سے وہ لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں ۔ مرنے کے بعد برزخ میں وہ کس طرح زندہ رہتے ہیں؟ ان کی زندگی کی کیا نوعیت ہے؟ اسے ہم اپنے موجودہ حواس سے سمجھنے سے قاصر ہیں لیکن یہ یقینی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں، ان کی زندگی دوسروں سے مختلف ہوتی ہے، انہیں ایک خاص مقام حاصل ہوتا ہے جس سے دوسرے محروم رہتے ہیں؛ کیونکہ اس کی تصدیق خود خالق کائنات نے قرآن کریم میں کی ہے ۔

جس طرح وہ مرنے کے بعد برزخ میں زندہ رہتے ہیں اسی طرح شہداء کی خصوصیات میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اگرچہ اپنے جسم و جثہ، چہرے بشرے اور جسد خاکی کے ساتھ اس دنیا میں موجود نہیں رہتے لیکن ان کا معنوی وجود ہمیشہ زندہ رہتا ہے، جس طرح آخرت میں انہیں ایک خاص مقام نصیب ہوتا ہے، دنیا میں بھی وہ خاص مقام و مرتبہ پر فائز رہتے ہیں، جس طرح وہ دنیا میں رہتے ہوئے مخلوق کو فیض پہنچاتے رہتے ہیں، مرنے کے بعد بھی دنیا ان کے وجود معنوی سے فیض یاب ہوتی رہتی ہے۔ جس طرح ان کے دنیا میں رہتے ہوئے ارض و سما کی ہر شی ان کے لیے دعا اور ان پر سلام بھیجتی ہے، شہادت کے بعد بھی یہ عمل جاری رہتا ہے، ان کے تذکرے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، ان کے کارنامے دنیا میں تحریک پیدا کرتے رہتے ہیں، حق کی خاطر ان کی عظیم قربانیاں سنہری حروف میں لکھی جاتی ہیں جو اگلی نسل کے لیے مشعل راہ اور قدم قدم پر حوصلہ افزائی کا کام کرتی رہتی ہیں، مصنفین ان کی زندگیوں کو قلم بند کرکے ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیتے ہیں۔ اس طرح شہداء دنیا میں بھی لوگوں کے اذہان و قلوب میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

“بل احیاء” اس کی ایک تازہ مثال ہے۔ اس کتاب میں ان شہداء کی تاریخ رقم کی گئی ہے جنہوں نے حق کی خاطر ظلم و زیادتی کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ ظالم یہ سمجھ رہا ہے کہ اس نے انہیں نیست و نابود کر دیا، صفحہ ہستی پر اب ان کا تذکرہ نہیں ہوگا، ان کے منصوبے ناکام ہوگئے اور تحریک ختم ہوگئ۔ یہ اس کی بھول ہے ۔ جیسے کل وہ حق کی آبیاری کر رہے تھے، ایسے ہی وہ آج بھی کررہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے ۔

کتاب میں ان باون عظیم المرتبت شہدا کی زندگیاں بیان کی گئی ہیں جنہوں نے، ملک و ملت کی حفاظت ، ایمان کی بقا اور ظالم کے ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے ۔ ان کی بے مثال بہادری ، جرات و ہمت، صبرو توکل، ایمان و یقین اور منصوبہ بندی وصلاحیت عقل کو حیران کردیتی ہے ۔ اسی لیے یہ کتاب قاری کے اندر جرات و ہمت بھی پیدا کرتی ہے، صبرو توکل کی تفسیر بھی پیش کرتی ہے، رلاتی بھی ہے، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بھی لاتی اور عقل کو حیرت میں بھی ڈالتی ہے۔

اس کتاب کے مصنف عبد العلیم اعظمی ہیں جو ایک محنتی نوجوان قلم کار ہیں ۔ اس موضوع پر ان کی یہ دوسری کتاب ہے ۔ کتاب 222 صفحات پر مشتمل ہے، طباعت کافی دلکش اور جاذب نظر ہے۔ کتاب پڑھنے کے لائق ہے ۔ خاص کر نوجوان نسل کو اس کتاب کو ضرور پڑھنا چاہیے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login