بر صغیر ہند میں جدید علم کلام
مصنف: ڈاکٹر وارث مظہری
ہماری علمی روایت میں اسلامی عقائدونظریات کا استدلالی پیکر علم کلام کے نام سے جانا جاتا ہے ،اپنی ابتداء میں ہر علم کی طرح علم کلام بھی سادہ شکل میں شروع ہوا ، پھر کچھ نصوص کے داخلی تقاضے اور کچھ خارجی اسباب و عوامل کے سبب اسلامی عقائد و نظریات کا یہ استدلالی پیکر اپنی اصطلاحات کے ساتھ ایک پورا نظام فکر بن گیا ، زمانے اور علاقوں کے تقاضوں کے سب علم کلام نت نئی بحثوں سے مالامال ہوتا رہا ، صنعتی انقلاب کے بعد علم کلام کی روایت کو کچھ الگ ہی نوعیت کے سوالات پیش آئے ، اہل علم کو انہیں ذرا الگ انداز سے موضوع گفتگو بنانا پڑا ، اسی نئے طرز گفتگو کو “جدید علم کلام” سے تعبیر کردیا جاتا ہے ، ” جدید علم کلام” کی یہ بحثیں عنوان کے بغیر اور بسااوقات عنوان کے ساتھ بھی تقریباً ہر جگہ ہی توجہ کا مرکز رہیں ، زیر نظر کتاب ہمارے برصغیر میں جدید علم کلام کے آغاز و ارتقاء اور جدید متکلمین کو موضوع بناتی ہے ، کتاب کے فاضل مصنف محترم جناب ڈاکٹر وارث مظہری صاحب کے مطابق برصغیر میں جدید علم کلام کا آغاز مسند الہند شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی سے ہوتا ہے ، اس کتاب میں مصنف نے شاہ ولی اللہ دہلوی ،سر سید احمد خان ،علامہ شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کے کلامی منہج پر قدرے تفصیل سے گفتگو فرمائی ہے ، جب کہ مولانا وحید الدین خان ، ڈاکٹر محمد رفیع الدین ، مولانامحمد قاسم نانوتوی ،مولانا اشرف علی تھانوی ،علامہ انور شاہ کشمیری ، مولانا احمد رضا خان بریلوی ، شیخ انوار اللّٰہ فاروقی ، مولانا حمید الدین فراہی ،مولانا سید سلیمان ندوی ، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ، مولانا عبد الباری ندوی ،مولانا شہاب الدین ندوی کے افکار مناہج کا اختصار کے ساتھ اصولی جائزہ لیا ہے ، اس ضمن میں تاویل نصوص ، عقل و نقل ، خرق عادت ، اصول فطرت ، جدید فلسفیانہ اور سائنسی استدلال جیسے اصولی مباحث زیر بحث آئے ہیں ، مصنف نے تمام ابحاث کا معروضی مطالعہ پیش فرمایا ہے ، اور قدیم علم کلام کے ساتھ ان کی مطابقت اور امتیازات کو پیش نظر رکھ مستحکم کلام کیا ہے ،اس ضمن میں امام ابوالحسن اشعری ،امام غزالی ، ابن رشد اور معتزلہ کے افکار بھی زیر بحث آئے ہیں ۔
فاضل مصنف قرطاس وقلم کی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہیں ، آپ اپنی وقیع تحریر اور متین اسلوب کے لئے جانے جاتے ہیں ، کلامی تراث پر نظر کے ساتھ جدید مباحث پر بھی دسترس رکھتے ہیں ، اس لئے آپ کی تحریر میں ایک خاص قسم کا اعتماد پایا جاتا ہے ، ڈاکٹر صاحب چونکہ روایتی فکر و ذہن کے پابند نہیں ہیں ، اس لئے بسااوقات آپ کو ان کے زاویہ فکر اور طرزِ استدلال سے اجنبیت محسوس ہوگی، اور کئی جگہوں پر اختلاف بھی ، لیکن اس میں شک نہیں کہ آپ ان کی تحریریں علمیت اور استدلال سے بھرپور پائیں گے ۔
ارادہ یہ تھا کہ اس پر کوئی مفصل تبصرہ لکھا جائے ،اور اس میں زیر بحث آئے موضوعات کا کم از کم ہلکا جائزہ ہی آپ کے سامنے پیش کیا جائے ،لیکن محسوس ہوا فرصت کے انتظار میں شاید مختصر تبصرہ بھی رہ جائیگا ، اس لئے مختصراً یہ چند سطریں آپ کے سامنے پیش ہیں ، امید ہے کہ علم کلام سے دلچسپی رکھنے والے اس کتاب کو مفید پائیں گے ۔
محمد طلحہ ادروی




