زیر نظر کتاب ان اسباب و عوامل سے بحث کرتی ہے جن کے تحت لکھنؤ، فیض آباد اور اودھ جیسے اہلسنت اکثریتی علاقے تشیع کے گڑھ بنے۔ ساتھ ہی ان بدعات اور معاشرتی رنگینیوں پر سے بھی پردہ اٹھاتی ہے جو شیعہ حکمرانوں نے مذہب کے نام پر لکھنؤ اور اس سے متعلقہ علاقوں میں رواج دیں۔ مذکورہ کتاب میں شاہانِ اودھ کے ہاں مذہب کے تشبیہی عناصر کی مادی کیفیات، اودھ کی شیعہ رانی و ملکہ بادشاہ بیگم کی مذہبی زندگی اور ان کے ہاں رائج مذہبی روایات کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ اماموں سے منسوب فرضی بیبیوں کے دلچسپ واقعات بیان کیے گیے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ شاہانِ اودھ کس طرح زچہ بن کر فرضی اماموں کو جنم دیتے تھے اور چَھٹی نہا کر زنانہ لباس میں ملبوس جلوس لے کر نکلتے تھے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ شاہانِ اودھ کے ہاں اماموں کے مصنوعی جنازے نکالے جاتے اور ان کے فرضی مقبرے بنائے جاتے تھے۔ وہ نیچ ذات کی عورتوں سے تمتع کرتے تھے جن کی شاہی محل میں بہتات تھی۔ کتابِ مذکورہ میں اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے کہ پٹھان روہیلوں کی تباہی و بربادی میں اودھ کے نوابوں کا نمایاں حصہ تھا جن کی ایما سے روہیلوں پر وحشیانہ مظالم ڈھائے گیے۔ کتاب میں شیعہ نوابانِ اودھ کے عیاشانہ طرزِ معاشرت، اسلامی معاشرے اور اردو ادب پر اس کے منفی اثرات سے بحث کی گئی ہے، نیز لکھنؤ اور اودھ کی ٹھاٹ باٹ سے بھرپور زندگی، شہر کی شادابی، رعایا کی آسودہ حالی، مہ جبینوں کی دلفریبی اور رقص و سرود کی حیا باختہ محفلوں کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے۔ یہ اس عہد کے معاصر مصنف منشی عبدالاحد رابط (متوفیٰ 1268 ء) کے رواں دواں قلم سے شیعہ ملکہ بادشاہ بیگم اودھ کے زوال کی المناک داستان ہے جو فارسی میں بعنوان “وقائع دلپذیر” رقم کی گئی تھی۔
منشی عبدالاحد رابط نے یہ کتاب اپنے افسرِ بالا مسٹر شیکسپئیر اسسٹنٹ ریزیڈنٹ کے ایما پر 1837ء میں اس زمانے میں تالیف کی تھی جب وہ لکھنؤ ریذیڈنسی کے دفتر میں سرِ رشتہ داری کے عہدے پر مامور تھے۔ پورے سو سال کے بعد اس کتاب کا فارسی مخطوطہ جناب محمد تقی احمد ایم اے ایل ٹی کو مہاراجہ بلرام پور کے ذاتی کتب خانہ میں دستیاب ہوا تو انہوں نے اس کا انگریزی ترجمہ بعنوان “بادشاہ بیگم اودھ” کرکے شائع کیا۔ بعد میں یہ شائع شدہ کتاب علامہ محمود احمد عباسیؒ کو ملی تو انہوں نے اس کا اردو ترجمہ بنام “وقائع دلپذیر ۔ بادشاہ بیگم اودھ” کروا کر شائع کیا جو آج تک متداول ہے۔ محمود احمد عباسیؒ کا شائع کردہ نسخہ پرانے طرز کی ہاتھ کی کتابت پر مشتمل تھا جو چھوٹی تقطیع کی کتاب پر الرحمٰن پبلشنگ ٹرسٹ سے شائع ہوتا رہا ہے۔ اب چونکہ پرانی طرز کی کتابت والی کتابیں پڑھنے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے، پس اس قیمتی علمی و تاریخی سرمائے کی بازیافتی کی غرض سے حارث پبلی کیشنز سے اس کو جدید طرزِ طباعت کے تحت شائع کیا گیا ہے۔
محمد فھد حارث





