ادھم شرقاوی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، گزشتہ تین چار سالوں میں ان کی کتابوں کو اردو حلقے میں بہت زیادہ پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ شہر عظیمت کے جیالوں نے جب ان کے ” رسائل من القرآن ” کو اپنی منصوبہ سازی کے دوران کیمرے میں قید کیا تھا تو دنیا بھر کی توجہ اس طرف ہوئی تھی، اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ اردو حلقے میں اس کتاب ؛ بلکہ پوری رسائل سیریز کو غیر معمولی مقبولیت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سے زائد تراجم اب تک منظر عام پر آچکے ہیں۔ بلاشبہ ان تراجم کو پاپولو لٹریچر قرار دیا جاسکتا ہے۔
ادھم شرقاوی کو جو چیز دیگر معاصر مصنفین سے جدا کرتی ہے اور ممتاز بناتی ہے وہ نتیجہ اخذ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ ادھم شرقاوی عام واقعات سے ایک دلچسپ اور جدا نتیجہ اخذ کرتے ہیں، ان آیتوں، احادیث، صحابہ کرام و صحابیات کے واقعات کو معاصر مسائل سے ریلیٹ کرکے ایسا نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بات دل تک اثر انداز ہوتی ہے۔ ادھم شرقاوی کا تحریری اسلوب انتہائی سہل اور عام فہم ہوتا ہے ؛ لیکن بلا کی سلاست و روانی ہوتی ہے۔
“انت ایضا صحابیۃ” ادھم شرقاوی کی ایک اہم تصنیف ہے، جو موجودہ عہد کی عورتوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر صحابیات کرام کی زندگی کا مطالعہ کیا گیا ہے اور اس کو عصری مسائل سے ریلیٹ کرتے ہوئے دروس و اسباق اخذ کرتے ہیں؛ تاکہ موجودہ عہد کی خواتین کو رہنمائی مل سکے۔



