یوں تو ہم سب جون کو ایک اعلٰی شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں مگر یہ بات زیادہ لوگ نہیں جانتے یا یوں کہیں کہ یہ بات زیادہ عام نہیں کہ جون ایک اعلٰی پائے کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اعلٰی نثر نگار بھی تھے۔ شاعری میں انکے پانچ مجموعے شایع ہوئےاور اسکے علاوہ انکی ایک نثر کی کتاب بھی موجود ہے جو جون کے علم کی بساط کی چیخ چیخ کر گواہی دیتی ہے ۔
جون کی کتاب فرنود سات مضامین اور کوئی ایک سو اسّی سے زائد انشائیوں اور اداریوں پر مشتمل دستاویز ہے۔ جس کا آغاز انہوں نے چوالیس سال کی مدت کے دوران ماہنامہ انشا، عالمی ڈائجسٹ، 1990 میں جشنِ جون ایلیا کے موقع پر شائع ہونے والے مجلے اور سب سے زیادہ سسپنس ڈائجسٹ کے لیے لکھے۔
جون کی شاعری ان کی نثر سے الگ نہیں ، دونوں ہی میں ایک دوسرے کا عکس دکھائی دیتا ہے۔
اس کتاب میں شامل تحریریں فلسفیانہ بھی ہیں، سماجی بھی اور سیاسی بھی۔ سیاسی اور سماجی تحریریں ایسی اہم ہیں کہ ان سے ہر دور کی جیتی جاگتی تصویر سامنے آ جاتی ہے اور یہ بھی علم ہوتا ہے کہ حکومتوں نے اپنے ہی ملک کے لوگوں کو کس کس بات کے بارے میں کتنا لاعلم رکھا۔ پھر جون ایک کی دوستیاں اور تعلق داریوں کا حساب بھی ہے۔
جون کی تحریریں تو دور کی بات ہیں ، اس مختصر تبصرے یا جائزے میں اس کتاب کا تعارف بھی ممکن نہیں ہے ۔ لیکن ایک بات جو اہم ہے کہ اس کتاب کو پڑھتے وقت انسان کا اپنے حواس میں ہونا بے حد ضروری ہے۔ اور آخر میں میں اس کتاب سے کچھ اقتباسات سامنے رکھنا چاہوں گا جس کو پڑھ کر یقینی طور پر تو اپنی رائے نہیں دھری جا سکتی مگر شاید ایک اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے فرنود کے باقی مضامین اور اس میں بسنے والے شعور کا اور جون کے علم کی بساط کا:
(١) پہلا اقتباس:-
تفکر ایک ایسا معجزہ ہے جو ہماری زندگی میں کبھی رونما ہی نہیں ہوا۔ وہ اگر رنگ ہے تو ہم پیدائشی نابینا ہیں ، اگر کوئی آواز ہے تو ہم ہمیشہ سے بہرے ہیں ، اگر کوئی قابلِ اظہار شے ہے تو ہم گونگے ہیں اور اگر کوئی متاعِ گمشدہ ہے تو ہماری قوتِ حافظہ ختم ہو چکی ہے۔
جون ایلیاء
کتاب: فرنود
صفحہ: ۱۲۳
(٢) دوسرا اقتباس:-
جنہیں تم سے جدا ہونا تھا وہ جدا ہوگئے، اور سنو! ہمیشہ کے لئے ، ہاں ! یاد رکھو ہمیشہ کے لئے ، سو اچھا یہی ہے کہ تم مان لو وہ ہیں اور تم سے جدا ہیں ۔
جون ایلیا
فرنود






