Maulana Kaleem Siddiqui

تحریک پیام انسانیت کے بارے میں کچھ مشاہدات کچھ تأثرات – Tehreek Payame Insaniyat

مصنف: مولانا محمد کلیم سدیقی

برادرم حلیم میاں کے یہاں کھانے سے فراغت پر ہمارے حضرت والا،حضرت مولاناسید ابو الحسن علی ندوی نور اللہ مرقدہ کے معتمد اور بہت چہیتے مجاز جناب ڈاکٹر عباد الرحمن نشاط مدظلہم نے ، جن کو ہم ان کی شفقت کی وجہ سے نشاط بھائی کہتے ہیں،ایک واقعہ اپنے زمانہ طالب علمی کا سنایا،کہ لکھمنیا ضلع بیگو سرائے میں ہماری کلاس کے کچھ دادا قسم کے لڑکے ایک ساتھی کے گھر آئے،ان میں کچھ پہلوانی بھی کرتے تھے، کچھ ہندو کچھ مسلم، انھوں نے نشاط بھائی کے ساتھی اور عزیز کوگھر سے بلایا اور بتایا کہ آج کلاس میں سیٹ پر بیٹھنے کے سلسلہ میں ایک لڑکے سے جس کا نام اشرفی تھا، اوردوسرے گاؤں کا رہنے والا تھا،گالی گلوج ہو گئی ہے، اوراس نے ہمارے ساتھی کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے،آج مل کر اس کی خبر لینی ہے، وہ ابھی اپنے گاؤں سے نکلا ہے،اور ٹم ٹم (گھوڑا گاڑی)سے یہاںآنے والاہے،سب ساتھی ڈنڈے، ہاکی اور چھڑیاں لے کر چلے،سامنے سے وہ ٹم ٹم آتی دکھائی دی، ایک ساتھی نے سب لڑکوں کو خبر دی،کہ وہ دیکھو ٹم ٹم پر بیٹھاآرہا ہے ، سب لڑکے اس کو مارنے کے لئے تیار ہو گئے،مگر جب ٹم ٹم سامنے آئی، تو سب کی چھڑیاں اورڈنڈے ہاکیاں نیچے کی طرف جھک گئیں، اور کسی نے بھی اس پر وار نہیں کیا، ٹم ٹم سامنے سے ذرا گذر گئی ،تونشاط بھائی کے عزیز نے ان ساتھیوں سے حیرت کے ساتھ پوچھا کہ تم لوگوں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا اور کیوں اپنی چھڑیاں اور ہاکیاں نیچے کرلیں،تو سب ایک زبان ہوکر بولے، اتنابھی ہوش نہیں کہ ٹم ٹم میں اشرفی کے ساتھ اس کی بہن بھی بیٹھی تھی ،کیا اس کی معصوم بہن کے سامنے ہم اشرفی کو مارتے ، وہ صرف اس کی چھوٹی بہن نہیں بلکہ ہم سب کی بھی بہن ہے،بے چاری کو کتنی تکلیف ہو تی۔

یہ کوئی زیادہ پرانا واقعہ نہیں، پچاس سال پرانا واقعہ ہے، جب ہمارے ملک کے لوگوں میں،حتی کہ اوباش قسم کے دادا لڑکوں میں بھی انسانی قدریں اس درجہ محفوظ تھیں کہ وہ کسی کی چھوٹی بہن کے سامنے اس کے بھائی کو مارنا پٹائی کرناانسانیت سے بہت گری ہوئی حرکت سمجھتے تھے۔

انسانیت کی کشتی کے ایک مخلص ترین ناخدا،انسانی قدروں کے اصل جوہر شناس، تحریک پیام انسانیت کے بانی اور علم بردار، میرے حضرت والا ،حضرت مولانا سید ابو الحسن علی نور اللہ مرقدہ انسانیت کی ان قدروں کی حفاظت کے لئے بے چین تھے اور وہ اپنے ملک کی فلاح وترقی کا مداران اصول و اقدار کوتسلیم کر تے تھے،اور ان ہی انسانی قدروں پر بلا اختلاف مذہب ملک کے تمام باشندوں کو اورخاص طو رپر اپنے برادران وطن کو دیکھنا اور لانا چاہتے تھے، اس نہایت ضروری اور اہم مقصد کے لئے انھوں نے تحریک پیام انسانیت کی داغ بیل ڈالی ،تحریک کا بنیادی خاکہ اور اس کا منشور تیارہوجانے کے بعد۲۸؍۲۹؍۳۰؍دسمبر ۱۹۷۴ء کو الہ آباد میں اس مقصد کے لئے ایک بڑی کانفرنس بلائی گئی ،جہاں سے اس ملک گیر تنظیم کا آغاز ہوا، حضرت

مولانا نے اس موقع پر اپنے بہت فکر انگیز خطاب میں اس تحریک کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی، انھوں نے فرمایا:’’افسوس ہے کہ اس لمبے چوڑے ملک میں اخلاقی کمزوریوں کو دور کرنے اور روحانی اور انسانی زندگی کو رواج دینے کے لئے کوئی تحریک اور کوئی جماعت نظر نہیں آتی، ہم نے بہت انتظارکیا اور آخر یہ فیصلہ کیا کہ جو کچھ بن پڑے اس کو شروع کردیں‘‘۔

…….الہ آباد سے ہم نے کام کو شروع کیا ہے ،کیونکہ اس کا نام ہی ’’الہ آباد‘‘یعنی خدا کی نگری ہے،یہیں سے خدا پرستی کی تحریک اور انسانیت کے احترام کی دعوت شروع ہونا چاہئے، خدا کے بندوں کی عزت ،انسانیت کو نئی زندگی دینے اور انسانوں کو انسانیت و اخلاق کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کا کام اسی شہر سے ہونا چاہئے تھا جو خدا کے نام سے آباد ہے‘‘اس طرح یہ تحریک ایک کارواں کی شکل میںآگے بڑھنے لگی۔

حضرت مولانا اپنی نجی مجالس اورعوامی جلسوں خصوصا پیام انسانیت کے اجلاس میں درندوں کو شرمسارکردینے والے ،انسانی قدروں سے محروم درندہ نما انسانوں کے حال پر جب فکر مندی اور اپنے دردوسوز کا اظہار فرماتے، اور اس کے سنگین تنائج سے ملک کے محب وطن دانش وروں اور قائدین کو جھنجھوڑتے ،تو ایسا لگتا کہ وہ خون کے آنسو رو رہے ہیں، اور ان کی فکرمندی بجا تھی،وہ دیکھ رہے تھے کہ اتنے طویل و عریض ملک میں ،جس میں اکثریت غیرمسلموں کی ہے،اور ماحول میں مسلسل ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیوں کا غبارپھیلایا جا رہا ہے،اور ایک نئی سیاسی صف بندی کے ذریعہ مسلمانوں میں خوف وہراس کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے،اور ان کے خلاف نفرت کا ماحول بڑھتاہی جارہا ہے،جس کے نتیجہ میں انسانی قدریں نہ صرف زوال پذیر ہورہی ہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف انسانیت سوز واقعات معمول بنتے جارہے ہیں،ان حالات میں ایک مومن صادق کی حیثیت وہ محض تماشائی نہیں رہ سکتے تھے،انھوں نے باربار فرمایا تھا کہ باہمی اعتماد کا ماحول ،اور امن و امان کی فضا قائم کئے بغیرہماری دینی تعلیمی کوششیں،ہماری مسجدیں اور عبادتیں،رفاہی ادارے اور انجمنیں سب خطرہ میں ہیں،ان میں سے کسی کے بھی تحفظ کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔انھوں نے ایک موقع پر فرمایا تھا:

ہم لوگ اس جذبہ کو پیدا کرنا چاہ رہے ہیں،اور ان میں ان حقیقتوں کی پیاس پیداکرنا چاہتے ہیں،کہ زندگی محض کھانے پینے کانام نہیں، انسان کی زندگی محض مادی یا حیوانی زندگی کا نام نہیں، ہم ایک نیا ذوق لے کر آئے ہیں، آج کی مادی دنیا میں یہ بات نئی ہے، دراصل یہ بات نئی نہیں، دنیا کے سب پیغمبر جو ہر قوم میں آئے، یہی پیغام لائے،اور سب سے زیادہ طاقت اور وضاحت کے ساتھ محمد رسول اللہ نے آخری طور پر یہ بات کہی،یہ حقیقت چوراہوں پر کہنے کے لائق ہے، لوگ پیٹ کے گرد چکر لگارہے ہیں،اصل زندگی دم توڑ رہی ہے، انسانیت کی پونجی لٹ رہی ہے، ہم ایک صدا لگانے آئے ہیں،حق کی صدا ،دنیا اس صداسے نا مانوس ہے،مگر ہم دنیاسے مایوس نہیں۔

ملک کے پراگندہ حالات، روبروز واقع ہونے فسادات، انسانی جان ومال کی ارزانی،اور انسانیت کے اعتبار و وقار کی گم ہوتی روایات جو نوشتہ تقدیر بن گئی تھیں،اور ملک کے مستقبل کے بارے میں سوالیہ نشان بن گئی تھیں،حضرت مولانا اس پر بہت فکرمندتھے،لیکن بنیادی طور پر وہ ایک رجائی انسان تھے، اور امید کا دامن کسی حال میں چھوڑنے کے قائل نہ تھے،اس لئے انھوں نے سخت سے سخت حالات میں اپنی جدوجہد جاری رکھی، اور جہاں جہاں،جو موقع ہاتھ آیا،اس سلسلہ میں اپنی سی کوشش کرنے سے دریغ نہیں کیا،انھوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا، کہ انسانیت مری نہیں ہے،وہ زندہ ہے،انسانوں میں انسانیت موجود ہے ،اس کو بیدار کرنے اور جگانے کی ضرورت ہے،اور انسانیت کی خدمت کا یہ کام ایک پیغمبرانہ مشن ہے جس میں مایوسی اور سستی کاکو ئی گذر نہیں،انھوں نے فرمایا تھا:

’’انسانیت کا چراغ بے تیل بتی کے جل سکتا ہے، وہ ہوا کے تیز جھونکوں اورطوفانوں کے تھپیڑوں میں روشن رہ سکتا ہے،اور انسانیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبروں نے انسانیت کا چراغ روشن رکھا،انھوں نے پیٹ پر پتھر باندھ کر اور مسلسل فاقہ کرکے جنگلوں اور بیابانوں ،کڑاکے کے جاڑوں کی راتوں اور تپتی ہوئی دوپہریوں میں انسانیت کی خدمت کی،ان میں سے کوئی چیز ان کی ہمت توڑنے اور ان کو ان کے مقدس کام سے روکنے کیلئے کافی نہ تھی‘‘۔

وہ فرماتے تھے کہ یہ کام تھوڑی دیر کا نہیں ہے،بلکہ یہ ایک جہدمسلسل کانام ہے،’’کوئی کام شدید جدوجہد،خطرات اور قربانیوں کے بغیر نہیں ہوسکتا،قوم کی صحیح تعمیر اور انسانیت کا احترام اور باہمی اعتماد و محبت پیدا کرنے کے لئے ہم کو ایک مجنونانہ اور سرفروشانہ جدوجہد کی ضرورت ہے‘‘۔

اپنے تاریخی مطالعہ اور ذاتی تجربات کی روشنی میں وہ اس حقیقت تک پہنچ گئے تھے، کہ ملک کے اقتدار کی باگ ڈورسنبھالنے والوں سے زیادہ اس راہ میں کوئی اورطبقہ معاون نہیں ہو سکتا،اس لئے انسانیت اور اسلام کا یہ پیغام ملکی قائدین تک پہنچانا بھی ضروری ہے، اس مقصد کے لئے انھوں نے اپنے دورکے اکثر ارباب اقتدار کے نام خطوط لکھے،اور ان میں سے جو لوگ حضرت مولاناسے ملاقات کے لئے آئے ،ان کے سامنے اپنا درد دل رکھا، آنجہانی اندرا گاند ھی،جناب راجیو گاندھی، مسٹر وی پی سنگھ، چند ر شیکھر، دیو گوڑا ،اوربہوگنا اور ملائم سنگھ یادو کے علاوہ اپنی علالت کے زمانہ میں اٹل بہاری باجپائی سے انھوں نے ملک کو بچانے اور انسانیت کی قدروں کی حفاظت کی اپیل کی۔

موجودہ دور میں جب حالات اتنے دگرگوں ہوگئے ہیں کہ دیکھتے دیکھتے انسانیت اپنی ان انسانی قدروں سے اس درجہ محروم ہوگئی کہ چھوٹی بہن کے سامنے صرف کسی بھائی کی پٹائی کرنے والے،جو ہندوستانی ابھی پچاس بر س پہلے تک اس حرکت کو انسانیت سے گرا ہوا سمجھتے تھے، وہ ننھے منے بچوں اور بوڑھے ماں باپ کے سامنے پوری درندگی کا مظاہرہ کر تے ہوئے جوانوں اور بے قصور انسانوں کو بے دردی سے قتل کرتے اور زندہ جلادیتے ہیں،اور انسانوں کی عزت سے کھلواڑ کر تے ہیں اور ملک کی ایک آبادی اس درندگی کی تائید اور حمایت کر تی دکھائی دیتی ہے۔

اب جب کہ انسانیت اور انسانی رشتوں کی پامالی کوئی بات ہی نہیں رہی، ان حالات میں اس تحریک اور نظریہ کی اشاعت کی بڑی شدیدضرورت ہے،جس کو ہمارے ملک کے بہت سے برادران وطن بھی بڑی اہمیت دیتے تھے،پیام انسانیت کے جلسوں میں شریک ہونے والے سیکڑوں غیر مسلموں کے تأثرات حضرت مولانا کی تحریروں اور تحریک کے دفتر میں موجود ہیں،اس سلسلہ کا ایک واقعہ جو اس حقیر کے ساتھ پیش آیا،یہاں نقل کرتا ہوں۔بڑوت مغربی یوپی سے تعلق رکھنے والے ایک گاندھی وادی کانگریسی لیڈر چودھری رام سروپ صاحب سے، ہم لوگ ملنے گئے، تو انھوں نے بتایا کہ میں نے راجیو گاندھی سے جب وہ وزیراعظم تھے دہلی ان کے گھر جا کر ملاقات کی، اور ان پر بہت زور دیا کہ میں نے تمہاری والدہ اندرا گاندھی کو گود کھلایا ہے،اس بڑھاپے میں ایک ضروری مشورہ دینے تمہارے پاس آیا ہوں، اگر واقعی تمہیں ہندوستان سے محبت ہے اور تم یہ چاہتے ہو کہ ہندوستان ترقی کرے اور پوری دنیا کی قیادت کرے تو تم پورے ملک کے بجٹ کے آدھے آدھے دو حصے کرو، آدھا حصہ تو پورے ملک کے تمام کاموں میں خرچ کرو اور پورے بجٹ کا آدھا حصہ مولانا علی میاں کو پیام انسانیت کے خرچ کے لئے دو، جب ملک کے شہری علی میاں کے خوابوں کے انسان بن جائیں گے ، تو ہندوستان پھر سے سونے کی چڑیابن جائے گا۔
آنجہانی وی پی سنگھ سابق وزیر اعظم ہندوستان سے لکھنؤ میں میڈیا کے لوگو ں نے ایک پریس کانفرنس میں اس زمانہ میں سوال کیاتھا جب وہ بہت بیمار تھے، کہ آپ اپنی کوئی پہلی اور سب سے آخری خواہش بتائیے تو انھوں نے یہ بات کہی تھی کہ میں علی میاں کے خوابوں کا ہندوستان دیکھ کر مرنا چاہتا ہوں۔جس میں ایسے انسان بستے ہوں جن کی انسانیت مری اور سوئی ہوئی نہ ہو۔

حضرت مولاناپیام انسانیت تحریک کو ملک کی سب سے بڑی ضرورت خیال فرماتے تھے، ان کا خیال تھا،انسان اگر بنا ہوا ہوگا تو آخری درجہ میں مہلک ہتھیار اورآلات اس کے ہاتھ میں ہوں گے تو بھی وہ انسانیت کو اس کے نقصانات سے بچانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو لگائے گا۔اور اگرانسانیت کی قدروں سے گرے ہوئے درندہ نما انسانوں کے ہاتھوں میں انسانیت کے لئے آخری درجہ میں مفید اشیاء کوبھی سونپ دیا جائے گا، تو وہ ان سے انسانیت کو تباہ ہی کرے گا۔ حضرت مولانا اپنی اکثر مجالس میں یہ بات بھی فرمایا کرتے تھے کہ،ولی بننا آسان ہے،قطب بننا آسان ہے،پیر بننا آسان ہے،مگر انسان بننا مشکل ہے۔اور اللہ کی زمین کو، خاص کر اس ملک کوایسے ہی انسانوں کی ضرورت ہے،اس لئے ہم سب کو انسانیت کو بچانے کی فکر کرنی چاہئے۔
ملک کی موجودہ صورت حال میں جب حب الوطنی (راشٹرواد) کے نام پرملک کے محب وطن شہریوں میں نفرت کی بنیادیں قائم کی جارہی ہیں،اور خود غرضی اور مطلب پرستی ایسے بام عروج پر پہنچ گئی ہے کہ لوگ سرکاری املاک کو دشمن ملک کا مال سمجھ کر اس کو غصب اور تلف کر رہے ہوں اور عصمت دری،لوٹ مار کا ایسا ماحول گرم ہو کہ مزدور سے لے کر آخری درجہ کے عہدہ دار یہاں تک کہ نظام عدل کے ذمہ دار منصف اور وزیر سب لوٹ مار پر اترے ہوں،اور انسانوں کا حال درندوں کو شرمادینے والا ہو، تو پیام انسانیت کی تحریک کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

اپنی رائے نیچے کمینٹ مے ضرور دے

مولانا محمد کلیم صدیقی کے مزید مضامین سبسے پہلے پڑھنے کے لئے خریدے ارمغان رسالہ ماہنامہ قیمت صرف ٢٠٠ سالانہ

Share To All - شیر کریں سبسے
Read More

Leave a Reply