Web Analytics Made Easy -
StatCounter

Hayat e Maulana Abdul Momin Nadwi Sambhli Naqshbandi, بندۂ مومن مولانا عبد المومن ندوی سنبھلی نقشبندی کی حیات وخدمات پر مضامین

Hayat e Maulana Abdul Momin Nadwi Sambhli Naqshbandi, بندۂ مومن مولانا عبد المومن ندوی سنبھلی نقشبندی کی حیات وخدمات پر مضامین

300.00

پیش نظر کتاب اسی قصبہ کے رہنے والے ایک عالم وخطیب،خانوادۂ نعمانی کے لائق فرد، مصلح ومربی اور داعی الی اللہ مولانا عبد المومن سنبھلی ندوی ( و: ۱۹۶۳؍ م: ۱۶؍ اپریل ۲۰۲۱ء) کی حیات وخدمات پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔ مولانا عبدالمومن ندویؒ مولانا محمد منظور نعمانی کے بھتیجے اور مولانا محمد عارف سنبھلی ومولانا محمد زکریا سنبھلی( استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء) کے چچازاد بھائی تھے۔ ان کے والد حکیم محمد احسن قاسمی ،مولانا نعمانی ؒ کے چھوٹے بھائی تھے ،وہ انتہائی متحرک وفعال شخص تھے، اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سنبھل اوراس کے اطراف میں آج اہل حق کا جو وجود نظر آرہا ہے اس کا ایک بڑا سبب حکیم صاحب کی ذات تھی۔
پہلا باب : مولانا عبدالمومن ندوی ،اپنے گھروالوں کی نظر میں ‘‘ ہے ۔ جس میں خاندان کے گیارہ لوگوں کے مضامین ہیں ۔ مولانا عمران ذاکر قاسمی کے مضمون سے مولانا موصوف کے خاندانی احوال کا تفصیلی علم اور سنبھل کی دیگر علمی شخصیات سے بھی اجمالاً آگاہی ہوتی ہے۔ مولانا یحییٰ نعمانی اور مرتب کتاب محمد اویس سنبھلی کا مضمون بھی بہت خوب ہے ، جس سے مرحوم کی شخصیت کے بہت سے گوشے سامنے آتے ہیں ۔ مولانا مرحوم کی بیٹی مرضیۃ الرحمن نعمانی کے مضمون سے مولانا کی خوانگی زندگی اور اولاد کی تربیت کے سلسلہ میں ان کی تیقظ وبیداری کا پتہ چلتا ہے ۔
دوسرا باب ’’ نقشہائے رنگ رنگ ‘‘ ہے ، جس میں مولانا کے متعلقین میں سے ۱۶؍ اہل قلم حضرات نے اپنے تاثرات بیان کئے ہیں ، جس میں دینی وعلمی اور دعوتی کام کرنے والوں کو بہت سے رہنما اصول ملیں گے۔
تیسرا باب ’’ شاگردوں کا نذرانہ ‘‘ ہے، اس میں مولانا مرحوم کے ۱۴/ تلامذہ نے ان کی تعلیمی وتربیتی خوبیوں اور محاسن کا تذکرہ کیا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک معلم ومربی کو کیسا ہونا چاہئے۔ مولانا مرحوم اپنے تلامذہ کے لئے صرف معلم ومربی ہی بلکہ ایک شفیق باپ بھی تھے ، جن کی جدائیگی کے غم میں سارا مدرسہ نڈھال تھا۔
کتاب کا آغاز مولانا محمد زکریا سنبھلی مدظلہ کے پیش لفظ سے ہوتا ہے ، اس کے بعد مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کے کلمات تبریک ،پھر عرض مرتب ہے۔ اس کے بعد مولانا محمد سعد کاندھلوی ، مولانا محمود مدنی اور مولانا محمد میاں قاسمی کے تعزیتی مراسلات ہیں ۔
کتاب کے مرتب محمد اویس سنبھلی ( ولادت: یکم اکتوبر ۱۹۸۰ء) مولانا محمد منظور نعمانیؒ کے حقیقی نواسے اور ایک صاحب قلم نوجوان ہیں ۔ ان کے والد ماجد نظیف الرحمٰن سنبھلی بھی ایک باذوق وصاحب قلم شخص تھے، جن کے مضامین کے دو مجموعے ( گلہائے رنگارنگ وفکرو احساس کی قندیلیں) شائع ہوچکے ہیں۔ اویس صاحب کی قلمی تربیت ورہنمائی ان کے ماموں مشہور صحافی حفیظ نعمانی نے کی ۔ انھوں نے باغ سنبھلی کا کلام ’’ باغ سنبھلی کی شعری کائنات ‘‘ مرتب کیا ہے ، اس کا ابتدائیہ جو ۸۰؍ صفحات پر مشتمل ہے اسے پڑھ کر ان کے ادبی ذوق اور قلم کی روانی اور زور کا اندازہ ہوتا ہے ۔ یہ ابتدائیہ سنبھل کی علمی وادبی تاریخ پر ایک بہترین دستاویز ہے ۔

ضیاء الحق خیرآبادی

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Hayat e Maulana Abdul Momin Nadwi Sambhli Naqshbandi, بندۂ مومن مولانا عبد المومن ندوی سنبھلی نقشبندی کی حیات وخدمات پر مضامین”

Your email address will not be published.