Nayi Duniya America Me Saaf Saaf Batein

Nayi Duniya America Me Saaf Saaf Batein – نئی دنیا امریکہ میں صاف صاف باتیں

۱۹۷۷ء میں شمالی امریکا کی مسلم تنظیم ایم ایس اے (Muslim Student Association America and Canada) نے بھارت کے جید عالم دین مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کوامریکا اور کینیڈا کا دورہ کرنے کی دعوت دی ۔ اس پروگرام کے تحت مولانا نے ان ممالک کے مختلف مقامات میں مختلف موضوعات پر خطاب کیا ۔ اس کتاب میں انھی خطبات کو مرتب کر کے شائع کیا گیا ہے ۔
ا مریکا کے بارے میں مسلمانوں کے ہاں دو قسم کے رویے پائے جاتے ہیں ۔ایک یہ کہ امریکا دنیا کا خوش قسمت ترین ملک ہے، جو بدقسمت بھی اس جنت میں پہنچ جاتا ہے، اس کی قسمت کے بند دروازے کھل جاتے ہیں۔ اوردوسرے یہ کہ امریکا ایک سازشی ملک ہے ۔وہ اپنے مفادات کی خاطردوسرے ممالک کے خلاف ہر وقت مختلف قسم کی سازشیں کرتا رہتا ہے۔ مولانا اپنے ان خطبات میں یہ کہتے ہیں کہ بے شک امریکا ایک خوش قسمت ملک ہے، مگراس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بدقسمت ملک بھی ہے ۔ اسی طرح وہ سازش کے حوالے سے بھی بڑی عجیب بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے خلاف ایک بہت بڑی اوربہت خطرناک سازش ہوئی اور یہ سازش کامیاب ہو گئی ۔مولانا کہتے ہیں:

’’ ……خوش قسمت اس وجہ سے کہ خدا نے اس کو اپنی نعمتوں سے مالا مال کیا، یہاں کے رہنے والوں کو ایسی قوتِ ارادی، ایسا جوشِ عمل، ایسی ذہانت، ایسا کام کرنے کا جذبہ، ایسی توانائی عطا کی کہ اس نے اس زمین کو جنت کا نمونہ بنا دیا، خدا کی قدرت کے رازوں کا انکشاف کیا، کائنات کی قوتوں کو مسخر کیا، اقبال کے الفاظ میں سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا، ستاروں کی گزرگاہوں کو دریافت کیا، اس نے اس مٹی کو سونا بنا دیا، اب یہ زمین سونا اگلتی ہے، یہاں کی فضا سے ہن برستا ہے، اور یہاں (بائیبل کی زبان میں) دودھ اور شہد کے دریا بہتے ہیں، یہ نتیجہ ہے، ان قوموں کے جوشِ عمل کا ، ان کے جذبۂ مسابقت کا، ان کی بے چین فطرت کا، اور ان کے نہ تھکنے والے نہ ہارنے والے عزم کا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس خطۂ زمین کو جو یورپ سے یہاں تک پھیلا ہوا ہے، قدرتی دولتوں سے مالا مال کیا، خدا کی نعمتوں کے بہتیرے خزانے یہاں موجود ہیں، اور پھر موجود ہی نہیں، بلکہ یہاں وہ ہاتھ بھی موجود ہیں ، جو ان خزانوں کو برآمد کریں اور قدرت کی دولت سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں، اس لحاظ سے یہ ملک بڑا خوش قسمت ہے، اور اس نے اپنی خوش قسمتی کا سکہ صرف اس ملک کے رہنے والوں پر نہیں بلکہ ساری دنیا پر بٹھادیا ہے، آج ساری دنیا ان کی دریوزہ گرہے، دنیا کی ہر قوم ان کے سامنے جھولی پھیلائے بلکہ ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے، اور بھیک مانگ رہی ہے۔‘‘ (۳۶۔۳۷ )

پھر اس ملک کی بدقسمتی واضح کرتے ہیں:

’’……لیکن اس کے باوجود یہ ملک بد قسمت ہے، یہ الفاظ میں پوری جرأت اور صفائی کے ساتھ کہہ رہا ہوں ، بہت سے بھائیوں کے لیے یہ اجنبی اور نامانوس ہوں گے، لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، یہ واقعہ ہے کہ یہ ملک بڑا بدقسمت ہے! اس ملک کی نہیں بلکہ انسانیت کی یہ بد قسمتی ہے کہ اس ملک نے تنہا مادی میدان میں فتوحات حاصل کیں اور اس میں ریکارڈ قائم کر دیا۔ اس نے اس زمین کو گلزار لالہ زار بنا دیا۔ بڑی خوش قسمتی کی بات ہوتی اور دنیا کی تاریخ کچھ اور ہوتی اگر اس خطۂ زمین کو صحیح رہنمائی حاصل ہوتی اور اس کو دین صحیح کی نعمت ملی ہوتی ، اور جس طرح اس نے مادیات کی طرف توجہ کی اخلاقیات کی طرف توجہ کرتا، اور جس طرح اس نے آفاق میں خدا کی نشانیاں دیکھی ہیں، اور ’سنریھم ایاتنا فی الافاق‘ پر عمل کیا ہے، ویسے ہی ’انفس‘ خدا کے پیدا کئے ہوئے دل، عطا کی ہوئی روح ، اور لطیف احساسات میں بھی خدا کی نشانیاں دیکھتا اور دنیا کو دکھاتا، اس کی ذہانت صرف اس پر مرکوز نہ رہتی کہ وہ قدرت کے رازہائے سربستہ فاش کرے بلکہ وہ اپنے دل اور روح کے اسرار اور انسانی دل کی گہرائیوں سے بھی واقف ہوتا اور اس کو معلوم ہوتا کہ جتنی یہ کائنات وسیع نظر آتی ہے، اور سیاروں کا اس نے جو رقبہ و حجم دریافت کیا، جن جن چیزوں کا اس نے انکشاف کیا اور اب آخر میں چاند پر پہنچ کر ایک اور نئی فتح حاصل کی ہے، اگر اسی تناسب سے یا اس سے بہت کم تناسب سے وہ انسانی روح کی حقیقت کی طرف توجہ کرتا اور اسے خدا کی صحیح معرفت حاصل ہوتی اور انسانی قلب کی وسعت ، طاقت ، حرارت، محبت اور اس کی لطافت اور معصومیت، بے لوثی اور بے غرضی کو بھی معلوم کرتا، وہ قلب کو بیدار کرنے کی کوشش کرتا اور اس کے اندر کی طاقتوں سے آشنا ہوتا اور ان سے کام لینے کی ا س کو توفیق ہوتی، اس وقت اس کو معلوم ہوتا کہ یہ پوری کائنات اگر دل کے اندر ڈال دی جائے تو گم ہو جائے جس طرح ایک حقیر کنکری بحر اوقیانوس میں ڈال دی جائے اور پتا بھی نہ چلے کہ وہ کہاں گئی۔‘‘ (۳۷۔۳۸)

اس کے بعد اس بدقسمتی کا تعلق ایک سازش کے ساتھ کچھ اس طرح قائم کرتے ہیں :

’’…. واقعہ یہ ہے کہ اس ملک کے لیے اس خطۂ زمین کے لیے مناسب ترین مذہب اسلام تھا، جو انسانی قوتوں کو بیدار کرتا ہے، جو عقل انسانی کی ہمت افزائی کرتا ہے، جو عقل سے کام لینا سکھاتا ہے، وہ انسان میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے، اپنی عزت کا احساس پیدا کرتا ہے۔۔۔۔]اسلام نے[ انسان کا مرتبہ اتنا بڑھایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے آگے انسانیت کی بلندی کا تصور نہیں ہو سکتا۔۔۔۔اسلام یہ بتاتا ہے، انسان پیدائشی طور پر بے گناہ ہے، اس کی فطرت صالح ہے۔۔۔۔ اگر اس ملک کا اور اسلام کا سنجوگ ہو جاتا یعنی ایک جائز رشتہ قائم ہو جاتا تو دنیا کی تاریخ کچھ اور ہی ہوتی، ایک طرف اس خطۂ زمین کے لوگوں کی توانائی، ابلتی ہوئی طاقتیں جو جوش مارتی ہیں، جس طرح فوارہ ابلتا ہے، ان کے اندر کام کرنے کی لا محدود طاقت، ان کو کسی چیز پر چین نہیں ہے، یہ سیاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، سمندر کھنگال کر اس سے موتی نکالنا چاہتے ہیں، سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں، مٹی سے سونا برآمد کرنا چاہتے ہیں، انھوں نے بے جان چیزوں میں جان ڈال دی ہے، ایک طرف ان کی توانائیاں ، ان کی بے چین فطرت، ان کے ملک کی شادابی اور قدرتی نعمتیں، دوسری طرف اسلام کی راہِ اعتدال، اسلام کی حوصلہ افزائی ،اسلام کا دین فطرت ہونا، اسلام کا اپنے اوپر اعتمادپیدا کرنا کہ انسان اپنی ذات سے بے گناہ ہے، وہ ماں کے پیٹ سے بالکل بے گناہ پیدا ہوتا ہے، اور اگر وہ گناہ کرتا ہے تو وہ ایک عارضی چیز ہوتی ہے جیسے ہی وہ توبہ کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زنگ جو اس پر لگ گیا ہے وہ نکل جاتا ہے، توبہ کوئی مجبوری کی چیز نہیں بلکہ وہ عین اس کی فطرت کا تقاضا ہے، اور اندر سے وہ چیز ابھرتی ہے باہر سے نہیں آتی اس لیے توبہ کرنے والوں کا بڑا مقام بتایا گیا ہے، اسلام انسان کی ہمت افزائی کرتا ہے وہ انسانی قوت کو ابھارتا ہے، وہ دین توحید ہے، اس میں کہیں تخیلات پروری نہیں ہے، وہ حقائق پر مبنی ہے، وہ ایسا عام فہم اور بدیہی مذہب ہے، جس کو ہر سلیم الفطرت آسانی سے سمجھ جاتا ہے، وہ انسانی زندگی کو بیڑیاں نہیں پہناتا کہ انسانی زندگی مقید ہو کر رہ جائے وہ علم کی راہ نہیں روکتا بلکہ علم کو ایک مقدس عبادت قرار دیتا ہے، وہ انسان کو دعوتِ فکر و مطالعہ دیتا ہے۔

بدقسمتی ہے ، اس ملک نے جس مذہب کا انتخاب کیا وہ اس ملک کو بتاتا ہے کہ انسان پیدائشی طور پرگناہگار ہے، وہ انسان کے اندر ایک قسم کی مایوسی پیدا کرتا ہے کہ گناہ ، یہ اس کی قسمت ہے اور قسمت بدل نہیں سکتی ، یعنی اس کا یہ جنم کا روگ ہے، وہ جنم کا گناہگار ہے، ایک تو یہ ہوتا ہے کہ اس سے غلطی ہو جائے اور وہ سمجھے غلطی ہوئی اور اس کی وہ تلافی کردے ، لیکن انسان کے اندر یہ عقیدہ بٹھا دیا جائے کہ انسان پیدائشی طور پر گناہ گار ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیسا احساسِ کمتری پیدا ہو گا۔
تو ایک تو اس ملک کی بد قسمتی یہ تھی کہ اس نے جس مذہب کا انتخاب کیا وہ مذہب اس کی انسانیت کا شرف نہیں بڑھاتا بلکہ اس کی انسانیت پر دھبا لگا تا ہے، اور اس کو داغ دار بنا کر پیش کرتا ہے ، ۔۔۔ اور اس کو باور کراتا ہے کہ اس کو ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہے جو اس کا کفارہ بن کر اس کے گناہوں کو معاف کروائے، غضب یہ ہوا کہ پھر تھوڑے ہی عرصہ بعد اس میں رہبانیت اور ترکِ دنیا کا رجحان پیدا ہو گیا۔

دوسری بد قسمتی یہ تھی کہ جب کلیسا صاحبِ اقتدار تھا تو کلیسا نے علم و عقل کی راہ روکی، جب یورپ بیدار ہو رہا تھا اور وہ زنجیریں توڑ رہا تھا ، جو اس کے پاؤں میں ڈال دی گئی تھیں تو کلیسا ایک دیوار بن کر کھڑا ہو گیا، اس نے ہر چیز کو اپنے فیتے سے ناپنا شروع کیا اور ہر چیز کی سند بائیبل سے تلاش کرنا شروع کی، اس نے زمین کی کرویت کا خیال پیش کیا تو کلیسا نے اس کی مخالفت کی، اس نے تعددِ عوالم کا نظریہ پیش کیا کہ یہی دنیا بلکہ اور دنیائیں بھی ہیں تو کلیسا نے اس کو کفر قرار دیا، ارتداد قرار دیا، اس نے بتایا کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے تو کلیسا نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ پھر کلیسا نے احتساب کی عدالتیں (Inquisitions)قائم کیں جو لوگ اس کا نشانہ بنے ان کی تعداد گزشتہ جنگِ عظیم کے مقتولین کی تعداد سے کسی طرح کم نہیں ہے، یہ دوچیزیں ایسی جمع ہو گئیں جن سے اس ملک کا رخ یکسر مادیات کی طرف ہو گیا، اس کے اندر ایک مذہب سے نہیں بلکہ مطلق مذہب کی طرف سے بے اعتمادی اور ایک طرح کا کینہ اور انتقامی جذبہ پیدا ہو گیا، اس نے یہ سمجھا کہ علم میں اس وقت تک ترقی نہیں ہو سکتی، جب تک مذہب کی بیڑی کو کاٹ کر پھینکا نہ جائے اور کلیسا سے آزادی حاصل نہ کر لی جائے، چنانچہ اس نے کلیسا سے بغاوت کی اور اس کے بعد اس نے یہ مادی سفر شروع کیا جس کے نتائج آج آپ کے سامنے ہیں۔

عیسائیت صدیوں پہلے جب وہ فلسطین کی سرزمین سے نکلی تھی، اور اس نے رومن امپائر میں قدم رکھا تھا، اسی وقت سے اس نے اپنی شخصیت کھو دی، مجھے بڑی خوشی ہے کہ عیسائیت کے سب سے بڑے مرکز میں مجھے یہ کہنے کی جرأت ہو رہی ہے کہ موجودہ عیسائیت اس نبیِ مبعوث کا مذہب نہیں جو اللہ کا پیغام لے کر آیا تھا، اور امن و محبت کا پیغام دیتا تھا، بلکہ موجودہ عیسائیت سینٹ پال کی پیدا کی ہوئی ہے، یہ اس کی ذہانت کا نتیجہ ہے، یہ سینٹ پال اور قرونِ وسطیٰ کی مسیحیت ہے، مسیحیت ایسے ابلتے ہوئے دوڑتے ہوئے ملک اور بے چین و بے تاب تہذیب اور نسل کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہے، نہ اس میں جامعیت کا پیغام ہے، اور نہ اس میں وہ اخلاق کی طاقت ہے، جو اس کو روک سکے۔ ‘‘(۴۰۔۴۱۔۴۲۔۴۳۔۴۴۔۴۵۔ ۶۲۔۶۳)

اس حقیقت کو بے نقاب کرنے کے بعد مولاناروایتی قومی سوچ کے حامل مسلمانوں کی طرح امریکا کی بدقسمتی پر خوش نہیں ہوتے ، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ سچا مسلمان دوسروں کے لیے سراپا دعوت اور سراپا خیرہوتا ہے، وہ دوسروں کو نفع پہنچانے یا کسی نقصان سے بچانے کے لیے ہر وقت بے تاب ہوتا ہے ۔چنانچہ وہ کہتے ہیں:

’’….جس وقت ترکوں کو اقتدارحاصل ہوا تھا، اور مغرب میں ان کی مضبوط حکومت قائم ہوئی تھی یا اس سے بھی قبل جب اسپین میں مسلمانوں کی حکومت قائم تھی ، اس وقت یورپ میں اسلام کی اشاعت ہوتی تو مغرب آج اس ورطہ میں نہ پڑتا، اس مادیت کے دلدل میں نہ پھنستا اور نہ اس کی وجہ سے وہ قومیں ان دلدلوں میں پھنستیں جو یورپ کی مقلد ہیں۔۔۔۔لیکن افسوس کہ ہم نے اس وقت سے کام نہ لیا ، اس سے بھی پہلے جب اسلام کے داعی دنیا میں نکلے تھے، کاش کہ اس وقت وہ داعی یہاں پہنچ جاتے، کہا جاتا ہے کہ امریکا کا کولمبس سے پہلے مسلمانوں نے انکشاف کیا تھا کاش وہ اس انکشاف سے فائدہ اٹھاتے اور اس ملک کو ایک پیغام دیتے اور وہ پیغام اسلام ہوتا۔۔۔۔اس وقت یہ تمدن پوری طرح خودکشی کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس گہری خندق میں چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہے، جس میں گرنے کے بعد کبھی ابھر نہیں سکے گا اسے اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو یہی خدا کی بھیجی ہوئی تعلیمات، قرآن کی رہنمائی اور یہ کہ مادیت اور اخلاقیات اور مسائل و مقاصد کے درمیان رابطہ قائم کیا جائے، اگر مادیات ہیں، اور اخلاقیات نہیں تو تباہی کے سوا کچھ نہیں، یہ وہ پیغام ہے جو ہمارے اسلامی ملکوں کو دینا چاہیے تھا اور صاف کہناچاہیے تھاکہ اے مغرب تو ڈوب رہا ہے، ہم تجھے بچا سکتے ہیں۔‘‘(۴۷۔۵۱)

اور پھر ایک تلخ حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’…..کاش ہمارا کوئی اسلامی ملک اس پوزیشن میں ہوتا کہ وہ مغرب کو پیغام دیتا اور مغرب سے آنکھیں ملا کر کہتا، اے مغرب! تو نے یہ ٹھوکر کھائی ، اے مغرب! تیرے درد کی دوا ہمارے پاس ہے، تیرے درد کی دوا ہمارے قرآن میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام میں ہے، لیکن میں آپ سے صاف کہتا ہوں کہ ہماری گردنیں ندامت اور شرم سے جھک جاتی ہیں کہ کوئی اسلامی ملک بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ اس ملک سے آنکھیں ملا کر خوداعتمادی سے کچھ کہہ سکے، یہ واقعہ ہے کہ ہم نے اپنے کو اس پوزیشن میں رکھا ہی نہیں ہے کہ ہم مغرب سے مردوں کی طرح بات کر سکیں، ہم جب مغرب سے بات کرتے ہیں تو سرسے لے کر پیر تک ہم اس کے احسانات میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ہماری جہالت ہمارے خلاف گواہی دیتی ہے، ہمارا افلاس ہمارے سر پر چڑھ کر بولتا ہے، بھیک کے لیے ہمارا ہاتھ پھیلاہوتا ہے، ایسی حالت میں کوئی اسلامی ملک اس مغرب سے جو کہ اقتدار کا مالک ہے، جس کو ہر طرح کی سیادت، علمی سیادت، سیاسی سیادت، اقتصادی سیادت حاصل ہے کیا بات کر سکتا ہے؟ کون سا ایسا ملک ہے ، جو اس مغرب پر ادنیٰ تنقید کر سکے، اس مغرب کو کوئی لقمہ دے سکے، کوئی مشورہ دے سکے؟ ‘‘(۴۸۔۴۹)

اس کے علاوہ مولانا امریکا اور مغرب میں آبا د مسلمانوں کو بیدار اور خبردار کرتے ہوتے کہتے ہیں:

’’….اگر آپ کی زندگی اور آپ کا یہاں قیام اسلام کے لیے مفید ہے، اور اس کی راہ ہموار کرتا ہے تو میں فتویٰ دیتا ہوں کہ آپ کا یہاں رہنا نہ صرف جائز بلکہ ایک عبادت ہے، اگر اپنے ایمان اور اپنے بچوں کی دینی زندگی کی طرف سے اطمینان نہیں تو مجھے اس سے بہت ڈر معلوم ہوتا ہے کہ نہ جانے یہاں کس حال میں موت آئے۔ ہم خدا کو کیا جواب دیں گے کہ صرف کھانے کمانے کے لیے وہاں گئے تھے، یہ نہ اسلامی کردار ہے، نہ مسلمان کی شان ہے، ہاں اگر آپ نے یہ انتظام کر لیا کہ آپ کے ایمان پر ذرہ برابر آنچ نہ آئے، آپ کسی دینی دعوت اور اسلام کی تبلیغ کرنے والی تنظیم میں شریک ہیں، آپ نے ماحول بنایا ہے، کوئی ایسا حلقہ بنایا جس میں دینی باتیں ہوتی ہیں، اورتذکیر ہوتی ہے، آخرت کی فکر ہوتی ہے، آپ یہاں غیر مسلموں کے سامنے ایسی زندگی پیش کر رہے ہیں، جس میں Charm ہے، کشش ہے، اور آپ نے اپنے بچوں کی دینی تعلیم کا انتظام کر لیا ہے، یہ بہت اہم بات ہے، قیامت کے دن بچوں سے جب پوچھا جائے گا کہ تم کیسے اس حالت میں آئے ہو، نہ ہمارا نام جانتے ہو، نہ ہمارے رسول کا نام جانتے ہو، نہ نماز جانتے ہو، تو وہ کہیں گے کہ :کتاب ہمارے پروردگارہم نے اپنے بڑوں کی بات مانی، انھوں نے جس راستہ پر لگایا ہم لگ گئے، انھوں نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔

آپ کے بچے بے شک اسکول جاتے ہوں گے ، لیکن کیا آپ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کیا ہے، جس میں توحید و رسالت اور دین کی تعلیم حاصل کریں؟ جس کے بغیر آدمی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ، اور آپ انھیں بتائیں کہ ’ولا تموتن الا انتم مسلمون‘ خبردار اسلام کے علاوہ کسی اور راستے پر مرنا حرام ہے، کسی مسلمان بچے کی دینی تعلیم و تربیت کے بغیر زندگی سے اس کی موت بہتر ہے۔
میں صرف ان لوگوں کا یہاں رہنا جائز سمجھتا ہوں جنھوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کا انتظام کر لیا ہے، اور غیرمسلموں میں دینی دعوت کو اپنا مقصد بنا لیا ہے، ورنہ یہاں تو اس کا بھی اطمینان نہیں کہ ایک مسلمان کی ، مرنے پر اسلامی طریقہ پر تجہیز و تکفین و تدفین بھی ہو گی! یہاں بوسٹن میں مقیم ہمارے ایک عزیز مولوی مدثر نے بتایا کہ یہاں ایک حاجی صاحب کاا نتقال ہو گیا تو انھیں فون آیا کہ آخری رسوم میں شریک ہوں،وہاں پہنچ کر انھوں نے دیکھا کہ لاش تابوت میں رکھی ہوئی ہے، سوٹ پہنا رکھا ہے، ٹائی لگی ہے، سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے ہیں، عیسائی مرد عورتیں آ رہے ہیں اور Kiss کر رہے ہیں، تابوت پر پھول ہار وغیرہ ڈال رکھے ہیں، اللہ تعالیٰ اس نوجوان کی عمر میں برکت دے، آخر عربی مدرسوں میں پڑھنے سے فائدہ ہی ہوتا ہے، اس نے ان مرحوم کے لڑکے کو بلایا اور کہا کہ میں جاتا ہوں ، انھوں نے پوچھا کیوں؟ انھوں نے کہا کہ میں جو کچھ کہوں گا آپ کریں گے نہیں۔ان صاحب نے کہا کہ ہم نے آپ کو بلایا ہے، ہم آپ کی بات مانیں گے، مدثر نے کہا: پہلے تو ان کا سوٹ اتاریئے، لوگوں کو یہاں سے علیحدہ کیجئے۔ ہم ان کو شرعی طریقہ سے غسل دیں گے، کفن پہنائیں گے ، یہ انگوٹھی بھی نکال دیجئے، ان صاحب نے کہا انگوٹھی نہ اتارئیے گا، ورنہ ہماری والدہ کا ہارٹ فیل ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم انگوٹھی ضرور علیحدہ کریں گے اگر آپ کی والدہ کے ہارٹ فیل ہونے کا خطرہ ہو تو انھیں ابھی نہ بتائیے بعد میں بتا دیجئے گا ، خیر وہ راضی ہوئے۔
وہ تو اتفاق تھا کہ ہمارے یہاں کا وہ پڑھا ہوا بچہ وہاں پہنچ گیا ورنہ خدا جانے کتنے مسلمان اس ملک میں ایسے دفن ہو جاتے ہوں گے۔

ایک اور واقعہ سنا جس سے بڑی عبرت ہوئی کہ ایک مصری عالم کا انتقال ہوا، جنھوں نے اسلام پر انگریزی میں ایک اچھی کتاب لکھی ہے، ان کی بیگم امریکن تھیں، مسلمانوں کا قبرستان ذرا دور تھا، عیسائیوں کے قبرستان میں انھیں دفن کر دیا گیا، یہ چیزیں وہ ہیں، جنھیں ایک مسلمان خواب میں دیکھ لے تو چیخ اٹھے کہ یا اللہ خیر فرما، تو ہی حفاظت فرما، چہ جائیکہ یہ واقعات عام ہو جائیں اور ہم سن کر کوئی فکر نہ کریں۔

بھائیو! اپنی فکر کرو ، اپنے اولاد کے اسلام پر قائم رہنے کا بندوبست کرو، ورنہ آپ لوگوں کا یہاں رہنا ہماری سمجھ میں نہیں آتا، ایک تو آپ خطرے میں ہیں، دوسرے آپ کا ملک خطرے میں ہے، ہندوستان و پاکستان کے جو تعلیم یافتہ نوجوان یہاں آ رہے ہیں، اگر وہاں رہتے تو جو دس بیس آدمی ان کے ماتحت کام کرتے ، ان کو تقویت ہوتی، ان کے والدین اور ہم قوم افراد کو تقویت ہوتی ، عرب ممالک کے نوجوان کثرت سے یہاں ہیں، اگر یہ اپنے وطن میں ہوتے تو اسے منظم بناتے، طاقت ور بناتے اور اپنی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچاتے ، محض تنخواہ کی زیادتی، اچھے مکان اور بہتر خوردونوش کے لیے یہاں آنا سمجھ میں نہیں آتا، یہ بات بہت سوچنے کی ہے، آپ کو مجھ سے یہ توقع ہو گی کہ میں آپ کے لیے دل خوش کن باتیں کرتا، میں نے وہ باتیں کہیں جس سے آپ کے دل کو چوٹ لگے، اور آپ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کریں۔‘‘(۹۷۔۱۰۰)

’’…آپ اس بات کی بھرپور کوشش کریں گے کہ آپ کے پاس اسلام کا جو سرمایہ ہے، وہ کھونے نہ پائے، اگر آپ کو ذرا سا تصور آجائے کہ دنیا کی زندگی کتنی مختصر ہے اور آنے والی زندگی کتنی طویل ہو گی اور آخرت میں کن مراحل سے گزرنا پڑے گا تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کا شدت پریشانی میں دم نکل جائے، اگر ہم نے اس ملک میں سب کچھ کیا لیکن آخرت کے استحضار اور خدا کے خوف کی یہ کمائی لٹا دی تو ہم سے بڑھ کر کوئی بدنصیب نہ ہو گا، میں ایک حقیقت پسندانہ انسان کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ خدا کی قسم دانے دانے کا محتاج ہونا اس سے کہیں بہتر تھا کہ ہم اپنے آپ کو اس خطرے میں ڈالیں، اور اپنی اولاد کے دینی مستقبل کو داؤں پر لگائیں، سب کچھ ملا اور ہم اپنے ایمان کی دولت کو کھو بیٹھے تو یہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔
اپنے دل کا، اعمال کا، نفس کا محاسبہ کرتے رہیں، خود اپنے ممتحن بن جائیں، اور اس کو ٹٹولتے رہیں، اس کے لیے میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ سال دو سال کے بعد اپنے اپنے ملک کچھ عرصے کے لیے ضرور جایا کریں، وہاں سے رابطہ قائم رکھیں، ہندوستان، پاکستان اور حرمین شریفین ہو تو اور زیادہ بہتر ہے، اور وہاں رہ کر اچھے حقانی، ربانی لوگوں کے خدمت میں حاضر ہوں، جو بے غرض ہیں، جن کے پاس بیٹھ کر خدا یاد آتا ہو، ان سے ملاقات کریں، یا کسی دینی ماحول میں تھوڑا وقت گزاریں، اگر یہیں رہیں گے تو تعلق باللہ اور ایمانی کیفیات کا سرمایہ خرچ ہوتا جائے گا۔ جیسے کہ بیٹری برابر استعمال میں رہے تو اس کا مسالہ ختم ہو جائے گا اس کو نئے سیلس(Cells) کی ضرورت ہو گی، اس طرح سے اپنے دلوں کی بیٹری کو بھی ہمیشہ نئے سیل دیتے رہیں، اور تھوڑے تھوڑے وقفے دو برس کے بعد ، چار برس کے بعد سہی مگر آپ وطن چلے جائیں، ہم نے دیکھا ہے کہ جو لوگ اپنے ملک سے تعلق رکھتے ہیں،ان میں کچھ اور بات ہوتی ہے، اور وہاں سے جو لوگ منقطع ہوگئے ان میں وہ بات نہیں رہی، انھیں معلوم نہیں کہ دین کا کیا معیار ہے، کیا کیفیات ہیں۔ ‘‘(۱۲۶۔۱۲۷۔۱۳۱)

ان اقتباسات سے اند ازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کتا ب کس قدر غیر معمولی ہے ، لیکن اس کے باوجود یہ بہرحال ایک انسانی کاوش ہے ۔اس میں بعض ایسے مقامات بھی آتے ہیں جہاں مولانا کے ساتھ علمی پہلوسے اتفاق کرنا مشکل ہوتا ہے ، لیکن ہم یہاں ان معاملات کو زیر بحث نہیں لائیں گے ۔ اس لیے ایک توایسے مقامات بہت کم ہیں اور دوسرے ہمارے پیش نظر اس کتاب پر بحیثیت مجموعی تبصرہ کرنا نہیں ہے ۔ ہما را مقصد اس کتاب کے دعوتی اوصاف کو نمایاں کرنا ہے جو علماے دین کی کتابوں میں بہت کم ہوتے ہیں اور جن سے ہم مسلمان انفرادی اور اجتماعی ، دونوں سطحوں پر محروم ہوتے جارہے ہیں ۔ضمنی اور اختلافی امور کو چھیڑ کر ہم اس دعوتی فضا کو خراب نہیں کرنا چاہتے جس میں اس کتاب کا قاری بہت جلدچلا جاتا ہے۔وہ پستیوں سے اٹھ کر بلندیوں میں پرواز کرنے لگتا ہے اوران جہانوں کابصیرت کی نگاہ سے مشاہدہ کرنے لگتا ہے جن کے بارے میں شاعر مشرق نے کہا ہے:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
 

اور پھر ان جہانوں کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے پر آمادہ اور ان کے بلند مقامات کوپانے کے لیے بے تاب ہونے لگتا ہے۔

نئی دنیا امریکہ میں صاف صاف باتیں

Spread Islam
Read More

Leave a Reply

*