حضرت ام فضل رضی ﷲ عنہا

حضرت ام فضل رضی ﷲ عنہا

حضرت ام فضل اپنی کنیت سے مشہور ہیں۔ ان کااصل نام لبابہ (لبابۂ کبریٰ)تھا۔حارث بن حزن ان کے والد اور ہند (خولہ) بنت عوف کنانیہ (یا حمیریہ) والدہ تھیں۔ فضل بن عباس ان کے بڑے بیٹے تھے جن کی کنیت سے وہ مشہور ہیں۔ بارھویں پشت پر حضرت ام فضل کا سلسلۂ نسب ہوازن بن منصور سے اور سولھویں پشت پر مضر کے پوتے قیس بن عیلان سے جا ملتا ہے۔ابن سعد نے ان کا شمار اجنبی عرب عورتوں میں کیا ہے۔اپنے ساتویں جد ہلال بن عامر کی نسبت سے ہلالیہ کہلاتی ہیں۔

حضرت ام فضل پہلی خاتون تھیں جو سیدہ خدیجہ کے بعد ایمان لائیں۔ حضرت عبداﷲ بن عباس فرماتے ہیں:میں اور میری والدہ مستضعف عورتوں اور بچوں میں شامل تھے جنھیں اﷲ تعالیٰ نے اہل عذر قرار دیا ہے (بخاری، جنائز ۷۹)۔ ذہبی کہتے ہیں کہ اس قول سے پتا چلتا ہے کہ دونوں ماں بیٹا حضرت عباس سے پہلے ایمان لائے تھے، لیکن ہجرت نہ کر سکے۔ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے آزاد کردہ حضرت ابورافع کہتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبد المطلب اسلام قبول کر چکے تھے، لیکن اپنی قوم سے ڈرتے تھے، اس لیے ایمان چھپائے رکھا۔ ابن حجر کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کی بہن، سعید بن زید کی اہلیہ حضرت فاطمہ اسلام قبول کرنے والی دوسری عورت تھیں۔

حضرت ام فضل کی بہنیں: ام المومنین میمونہ بنت حارث حضرت ام فضل کی سگی بہن تھیں۔ حضرت خالد بن ولید کی والدہ عصما بنت حارث جنھیں لبابۂ صغریٰ کہا جاتا ہے ، عزہ بنت حارث اور ہزیلہ(ام حفید) بنت حارث ان کی باپ شریک بہن تھیں۔ حضرت ام فضل کے ماں شریک بہن بھائیوں کے نام یہ ہیں:محمیہ بن جز زبیدی،عون بن عمیس، اسماء بنت عمیس اور سلمیٰ بنت عمیس ۔ابن عبدالبرا ور مزی نے لبابۂ صغریٰ اور عصما کو حضرت ام فضل کی دو الگ الگ بہنیں بتایا ہے ،انھوں نے حضرت ام فضل ، ام المومنین میمونہ، لبابۂ صغریٰ،عصما(یا عصمہ)،عزہ اور ہزیلہ کوچھ سگی بہنیں قرار دیا ہے۔مزی کا کہنا ہے کہ ابی بن خلف عصماکے شوہر تھے۔ ماں شریک بہنوں کی فہرست میں انھوں نے سلامہ بنت عمیس اور زینب بنت خزیمہ کا اضافہ کیا ہے۔ اس طرح ان بہنوں کی کل تعداد گیارہ (ابن عبدالبر: نو)بنتی ہے۔
حضرت ام فضل کا بیاہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب سے ہوا۔عباس سے ان کے چھ بیٹوں، فضل بن عباس، عبداﷲبن عباس،عبیداﷲ بن عباس،معبد بن عباس،قثم بن عباس، عبدالرحمن بن عباس اور ایک بیٹی ام حبیب (ام حبیبہ)کی ولادت ہوئی۔عبداﷲ بن یزید ہلالی کہتے ہیں:

ما ولدت نجیبۃ من فحل
بجبل نعلمہ أو سہل
 

’’کسی اعلیٰ نسب خاتون نے،پہاڑی علاقہ میں رہتی ہویا میدانی میں،ایسے بیٹے جنم نہیں دیے۔‘‘

کستۃ من بطن أم الفضل
أکرم بہا من کہلۃ وکہل

’’جوام فضل کے بطن سے پیدا ہونے والے چھ بیٹوں کی مانند ہوں، یہ کنبہ کیا ہی شریف النسب مرد اورعورتوں پر مشتمل ہے۔‘‘

حضرت ام فضل کی والدہ ہند بنت عوف کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ معزز داماد رکھنے والی خاتون ہیں۔ان کے دامادوں کے نام اس طرح ہیں: سیدہ میمونہ کے شوہرنبی صلی اﷲعلیہ وسلم، حضرت لبابۂ کبریٰ کے میاں حضرت عباس بن عبدالمطلب اور حضرت سلمیٰ کے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب تھے۔ حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد حضرت سلمیٰ کابیاہ شداد بن ہاد (اسامہ) سے ہوا۔ حضرت لبابۂ صغریٰ کی شادی ولید بن مغیرہ سے ہوئی، حضرت خالد بن ولید انھی کے بیٹے تھے۔ حضرت اسماء کی شادی پہلے جعفر بن ابو طالب پھر سیدنا ابوبکر صدیق اور آخر میں سیدنا علی سے ہوئی۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم شعب ابوطالب(شعب ابویوسف) میں تھے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بتایا: میری اہلیہ ام فضل کے ہاں بچے کی ولادت ہونے والی ہے ۔ آپ نے فرمایا: امید ہے، اﷲ تمھاری آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا۔تب حضرت عبداﷲ بن عباس پیدا ہوئے، حضرت عباس انھیں کپڑے میں لپیٹ کر لائے تو آپ نے اپنا لعاب دہن ان کے منہ میں لگایا (کنز العمال: ۳۷۱۹۲۔ تاریخ دمشق: ۳۴۴۵)۔

حضرت عباس بن عبدالمطلب جو جنگ بدر میں فوج مشرکین میں شامل تھے، مسلمانوں کے ہا تھ قید ہوئے اور انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔جنگ کی رات ہوئی تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سو نہ پائے۔صحابہ نے پوچھا: یا رسول اﷲ، کیا بات ہے؟ فرمایا: میں اپنے چچا عباس کے کراہنے کی آواز سن رہا ہوں ۔صحابہ نے ان کی بیڑیاں کھول دیں۔ وہ خاموش ہوئے تو آپ سوئے۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے فرمایا: چچاعباس، اپنا ،اپنے بھتیجوں عقیل بن ابوطالب،نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو بن جحدم کا فدیہ دے دیں۔ حضرت عباس نے جواب دیا: یا رسول اﷲ، میں تو مسلمان ہوں،میری قوم نے مجھے جنگ میں شریک ہونے پر مجبور کر دیا۔ آپ نے فرمایا: اﷲہی آپ کے اسلام کا علم رکھتاہے۔ ہم تو آپ کے ظاہری عمل کو دیکھیں گے۔ حضرت عباس نے فدیہ معاف کرنے کی مکرر درخواست کی تو آپ نے فرمایا: نہیں، یہ وہ مال ہے جو اﷲ نے آپ سے لے کرہمیں عطا کر دیا۔انھوں نے کہا: میرے پاس کوئی مال نہیں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مال کہاں گیا جو ام فضل سے رخصت ہوتے ہوئے آپ نے مکہ میں چھپایا تھا؟ آپ نے اس مال کی وصیت بھی کر دی تھی کہ اس سفر میں اگر میں مارا گیاتو فضل کو اتنا ، عبداﷲ کو اتنا ، قثم کواتنا اور عبیداﷲ کو اتنا حصہ ملے گا۔ حضرت عباس نے کہا: اس اﷲ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا !اس بات کو میرے اور ام فضل کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا،مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ اﷲ کے رسول ہیں۔تب وہ اپنا ،اپنے بھتیجوں اور حلیف کا فدیہ ادا کرکے چھوٹے (مسند احمد، رقم ۳۳۱۰)۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے سو اوقیہ سونا فدیہ میں دیا۔

حضرت ابورافع جو مکہ میں حضرت عباس بن عبدالمطلب کے غلام تھے اور بعد میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے، فرماتے ہیں : جنگ بدر میں مشرکوں کی ہزیمت کی خبر آئی تو ہم مسلمانوں میں نئی طاقت آگئی اورغلبے کا احساس پیدا ہوا۔میں بیر زمزم پر تنے ہوئے خیمے میں بیٹھا تیر چھیل رہا تھا، حضرت ام فضل میرے پاس بیٹھی تھیں۔ہم معرکۂ فرقان میں فتح سے مسرور و شادمان تھے کہ ابولہب جس نے اپنی جگہ لڑنے کے لیے عاص بن ہشام کو بھیج رکھا تھا،پاؤں گھسیٹتا ہوا آیا اور خیمے کی طناب پر ، میری طرف پشت کر کے بیٹھ گیا۔ اسی اثنامیں آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا چچا زاد، عبد المطلب کا پوتا ابوسفیان بن حارث بھی آ گیا،لوگوں نے بتایا کہ یہ ابھی جنگ سے لوٹا ہے۔ ابولہب نے اسے بلایا: بھتیجے، ادھر آؤ، تمھارے پاس جنگ کی کیاخبر ہے؟ ابوسفیان نے کہا: کیا بتاؤں،جوں ہی مسلمانوں سے ہمارا سامنا ہوا، ہم نے اپنے کندھے ڈال دیے۔ انھوں نے جسے چاہا ،قتل کردیا اورجس کو چاہا، قید کر لیا۔ بخدا، اس کے باوجود میں اپنے ساتھیوں کو ملامت نہیں کرتا، ہمارا مقابلہ ایسے گورے چٹے مردوں سے تھا جو چتکبرے گھوڑوں پر سوار آسمان و زمین کے مابین چھائے ہوئے تھے۔ان کے آگے کوئی ٹھہر نہ سکتا تھا۔ حضرت ابورافع نے خیمے کی رسی اٹھا کر کہا: وہ فرشتے تھے۔ابولہب نے ہاتھ بلند کرکے ان کے چہرے پرزور کا تھپڑ مارا۔ حضرت ابو رافع نے اسے گرانے کی کوشش کی تو اس نے اٹھا کر ان کو زمین پر پٹکاپھراوپر جھک کر پیٹنے لگا۔اسی دوران میں حضرت ام فضل نے ایک لکڑی پکڑ کر زور سے اسے دے ماری اوراس کا سر پھاڑ کر کہا: اس کا آقا موجود نہیں تو تو نے اسے کمزور جان لیا۔ابولہب زخمی ہوکر چلتا بنا، اس واقعے کے بعد وہ ایک ہفتہ بھی نہ جی پایا ،اسے گلٹی نکل آئی جس نے اسے جہنم میں پہنچادیا۔تین دن اس کی لاش گھر میں سڑتی رہی ،اس کے بیٹوں نے اسے ہاتھ نہ لگایا، کیونکہ گلٹی کو طاعون کی طرح چھوت (infectious) سمجھا جاتا تھا۔ پھر ایک قریشی کے ملامت کرنے پر اسے مکہ کی ایک دیوار کے پاس پھینک آئے اور دور سے پتھر پھینک کر تدفین کی۔

حضرت ام فضل سے قریبی رشتہ رکھنے کی وجہ سے مکہ میں ر سول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اکثر ان کے گھر تشریف لے جاتے اور وہاں قیلولہ فرماتے۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب بہت بعد میں مسلمان ہو ئے۔ان کے ایمان لانے کے بعد حضرت ام فضل اور حضرت عباس نے مدینہ ہجرت کی۔تب پھر آپ کا ان کے گھر کثرت سے آنا جانا ہو گیا۔آپ نے اپنی چچی حضرت ام فضل کے علاوہ کسی عورت کی گود میں سر رکھا نہ نبوت ملنے کے بعد اﷲ کی طرف سے اس کی اجازت تھی۔وہ آپ کے سر میں جوئیں تلاش کرتیں اور آنکھوں میں سرمہ ڈالتیں۔

حضرت ام فضل نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنا خواب سنایا،میں نے دیکھا کہ گویا آپ کے جسم کا ایک عضو ہمارے گھر میں آگیا ہے۔آپ نے فرمایا: آپ نے اچھا خواب دیکھا ، میری بیٹی فاطمہ کے ہاں بیٹا ہو گا اور آپ اسے اپنی بہو ،قثم بن عباس کی اہلیہ کادودھ پلائیں گی۔ چنانچہ حضرت حسین بن علی کی ولادت ہوئی تو حضرت ام فضل نے ان کی پرورش کی۔ فرماتی ہیں: ایک بار میں حسین کو آپ سے ملانے لے گئی۔آپ انھیں لپٹا رہے اوران سے پیار کررہے تھے کہ انھوں نے آپ پر پیشاب کر دیا۔ فرمایا: ام فضل، اپنے بیٹے کو پکڑ لو،اس نے مجھ پر پیشاب کر دیا ہے۔میں نے حسین کو پکڑا اور چٹکی کاٹ کر (ابن ماجہ، مسند احمد:کمر پر ہاتھ مار کر) کہا: تو نے پیشاب کر کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اذیت دی۔ آپ نے حسین کے رونے کی آواز سنی تو فرمایا: ام فضل،اﷲ بھلا کرے ،آپ نے میرے بیٹے کو رلا کر مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ پھر آپ نے پانی منگوا کر خوب چھڑکا اور فرمایا: جب لڑکا(جس نے کھانا نہ کھایا ہو: ترمذی، رقم ۷۱) پیشاب کرے تواس پر اچھی طرح پانی چھڑک دو اور جب بچی پیشاب کرے تو کپڑے کو اچھی طرح دھو دو (طبقات ابن سعد۶/ ۲۰۴۔ ابن ماجہ۔ رقم ۳۹۲۳)۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ام فضل نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دوسرے کپڑے پہن کر پیشاب والا پاجامہ مجھے دے دیں تاکہ میں دھو دوں تو آپ نے فرمایا: بچی کے پیشاب سے آلودہ کپڑے کو دھویا جائے اور لڑکے کے پیشاب والے کپڑے پر پانی چھڑک دیا جائے (ابوداؤد، رقم ۳۷۵۔ ابن ماجہ، رقم ۵۲۲۔ مسند احمد، رقم ۲۶۸۷۵)۔ حضرت عبداﷲ بن عباس کی ملتی جلتی روایت میں ہے کہ حضرت ام فضل نے اپنی بیٹی ام حبیبہ بنت عباس کو رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی گود میں بٹھایا اور اس نے آپ پر پیشاب کیا (مسند احمد، رقم ۲۷۵۰) ۔

بنو نضیر کا کعب بن اشرف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا۔ اس نے حضرت ام فضل اور دوسری اہل ایمان عورتوں کے بارے میں لغوعشقیہ اشعار کہے تو آں حضور صلی اﷲعلیہ وسلم نے اسے ختم کرنے کا حکم دیا ۔اسے اس کے رضاعی بھائی ابو نائلہ (سلکان بن سلامہ) اور ان کے ساتھیوں نے جہنم واصل کیا۔

۷۷ھ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے عمرۂ قضاکے لیے مکہ کا سفرکیا۔عمرہ کرنے سے پہلے آپ نے حضرت جعفربن ابوطالب کو نکاح کا پیغام دے کر حضرت میمونہ بنت حارث کے پاس بھیجا۔ حضرت میمونہ نے یہ معاملہ اپنی بہن حضرت ام فضل کے سپرد کر دیا، انھوں نے اپنے شوہر حضرت عباس بن عبدالمطلب کو والی مقرر کیا۔چنانچہ حضرت عباس نے چار سو درہم مہر کے عوض حضرت میمونہ کا آپ سے نکاح کر دیا۔ حضرت ابورافع کہتے ہیں کہ تب آپ حالت احرام میں نہ تھے۔سعید بن مسیب اسی بات کی تائید کرتے ہیں۔

حضرت ام فضل بتاتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پروقوف عرفات کے روز صحابہ کو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے روزہ دار ہونے میں شبہ تھا۔ کچھ نے کہا کہ آپ روزہ رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دوسروں کا خیال تھا کہ آپ کاروزہ نہیں۔میں نے یہ دیکھتے ہوئے دودھ سے بھرا ہوا پیالہ آپ کو بھیجا۔ آپ اونٹنی پر سوار تھے، آپ نے دودھ نوش فرما لیا (بخاری، رقم ۱۹۸۸۔ مسلم، رقم ۲۶۰۲۔ا بوداؤد، رقم ۲۴۴۱۔ مسند احمد، رقم ۲۶۸۷۲)۔ دوسری روایت میں یہی واقعہ ام المومنین سیدہ میمونہ سے منسوب ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: ’’لوگ دیکھ رہے تھے (کہ آپ روزے سے نہیں ہیں)‘‘ (بخاری، رقم ۱۹۸۹۔ مسلم، رقم ۲۶۰۶)۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ واقعہ ایک ہی بار رونما ہوا، اگرچہ اس کی نسبت دو خواتین کی طرف کی گئی ہے۔

ایک روز حضرت ام فضل آپ کی آنکھوں میں سرمہ لگا رہی تھیں کہ ان کی آنکھ سے ایک آنسو آپ کے رخسار مبارک پر ٹپکا۔ آپ نے سر اٹھا کر فرمایا: چچی، کیا ہوا؟ کہا: اﷲ نے ہمیں آپ کی رخصتی کی خبر دی ہے۔آپ آنے والوں کو وصیت کر دیتے کہ آپ کے بعدخلافت ہم کو ملے گی یا دوسروں کو؟ فرمایا: میرے جانے کے بعد تم مظلوم اور کمزور ہوجاؤ گے۔

آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مرض وفات میں سیدنا علی کو بلایا، سیدہ عائشہ کے کہنے پر حضرت ابوبکرکو،حفصہ کے کہنے پر سیدنا عمر کو اور حضرت ام فضل کے کہنے پر حضرت عباس کو بلایا۔ سب اکٹھے ہوگئے تو آپ نے نظر اٹھا کر دیکھا، لیکن خاموش رہے۔یہ دیکھ کر سیدنا عمر نے سب کو پیچھے ہٹا دیا۔آپ کو افاقہ ہوا تو حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، پھر دو اصحاب کا سہارا لے کر مسجد میں آئے اور سیدنا ابوبکر کی دائیں طرف بیٹھ کر نمازادا فرمائی(ابن ماجہ، رقم ۱۲۳۵، مسند احمد، رقم ۳۳۵۵)۔
حضرت ام فضل اعلیٰ پائے کی خاتون تھیں۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: چار بہنیں مومنہ ہیں: حضرت ام فضل، حضرت میمونہ، حضرت اسماء اور حضرت سلمیٰ (الاستیعاب ۴/ ۱۹۰۹)۔

ایک بار آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے حضرت میمونہ، حضرت ام فضل اور ان کی بہنوں حضرت لبابۂ صغریٰ، حضرت ہزیلہ، حضرت عزہ، حضرت اسماء اور حضرت سلمیٰ کا تذکرہ ہوا تو فرمایا: یہ سب بہنیں پکی مومنہ ہیں (طبقات ابن سعد ۶/ ۲۰۳)۔

حضرت عبداﷲ بن عباس فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ حضرت ام فضل نے انھیں نماز میں سورۂ مرسلات کی قراء ت کرتے سنا تو کہا: بچے، تو نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلا دیا ہے کہ یہ آخری سورہ تھی جو میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے (آپ کے مرض وفات میں)مغرب کی نماز میں تلاوت فرماتے سنی (بخاری، رقم ۷۶۳۔ مسلم، رقم ۹۶۵۔ ابوداؤد، رقم ۸۱۰۔ ترمذی، رقم ۳۰۸)۔

حضرت ام فضل سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتی تھیں۔
عام روایات کے مطابق حضرت ام فضل نے اپنے شوہر حضرت عباس سے پہلے، عہد عثمانی میں وفات پائی، تاہم اس بات کی نفی کرنے کے لیے طبری کا یہ بیان کافی ہے کہ شہادت عثمان کے بعد حضرت ام فضل نے بنو جہینہ کے ظفر نامی شخص کو خط دے کر سیدنا علی کے پاس بھیجا۔ انھوں نے حضرت عبداﷲ بن عباس کے آزادکردہ کریب کوبھی کسی کام کے لیے معاویہ کے پاس شام بھیجا (مسلم، رقم ۲۴۹۵۔ ابوداؤد، رقم ۲۳۳۲۔ ترمذی، رقم ۶۹۳۔ مسند احمد، رقم ۲۷۸۹)۔

حضرت ام فضل نے انس بن مالک سے گھڑے میں بنائے جانے والے انگور کے شربت( نبیذ)کے بارے میں فتویٰ چاہا۔ انھوں نے اپنے بیٹے نضر کا عمل بتایا کہ وہ ایک گھڑے میں صبح کے وقت خشک انگور بھگوتا ہے اور شام کو ان کا شربت پی لیتا ہے (نسائی، رقم ۵۷۴۶)۔ حضرت عبداﷲ بن عباس کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تازہ بنائی ہوئی نبیذ تین دن تک پیتے اور بچ رہنے والی چوتھے دن بہا دیتے(نسائی، رقم ۵۷۴۲)۔

حضرت ام فضل نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں۔بخاری میں ان سے مروی دو اور مسلم میں تین روایتیں ہیں جن میں ایک متفق علیہ ہے۔ حضرت ام فضل سے روایت کرنے والوں میں شامل ہیں، ان کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن عباس، حضرت تمام بن عباس، حضرت انس بن مالک، حضرت عبداﷲ بن حارث، حضرت ام فضل کے آزاد کردہ حضرت ابو عبداﷲ، حضرت عمیربن حارث، حضرت قابوس بن ابو مخارق، حضرت عبداﷲ بن عباس کے آزاد کردہ حضرت کریب ۔

مطالعۂ مزید: الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ الامم والملوک (طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم (ابن جوزی)، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (مزی)، سیر اعلام النبلاء (ذہبی)، البداےۃ و النہاےۃ (ابن کثیر)، الاصابہ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)۔

Spread Islam
Read More

Leave a Reply

*