Web Analytics Made Easy -
StatCounter

Fiqh ul Buyu Ka Urdu Tarjuma, فقہ البیوع کا اردو ترجمہ

فقہ البیوع کا اردو ترجمہ

Fiqh ul Buyu Ka Urdu Tarjuma, فقہ البیوع کا اردو ترجمہ

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتھم کے بیان پر نظر پڑی جس میں آپ نے اپنی عربی تصنیف فقہ البیوع کے شائع شدہ اردو ترجمہ سے اظہار براءت کیا ہے، بیان کی اس عبارت نے خاص طور پر اپنی جانب متوجہ کیا:” کتاب کے مضامین اتنے دقیق ہیں کہ عوام کے لئے اس کا ترجمہ بذات خود محل نظر ہے اور غلط فہمیاں پیدا کرسکتا ہے”۔

معاشیات اور اقتصادیات دور حاضر کے اہم ترین موضوعات ہیں، اور اس میدان میں اسلام کی رہنمائی کی تلاش نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کو بھی رہتی ہے، اور اس کا براہ راست تعلق فقہ البیوع سے ہے،اور اس میدان میں مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کی رائےسند کی حیثیت رکھتی ہے، مفتی صاحب کی قیمتی تصانیف بہت ساری ہیں، لیکن اس کتاب کو جو مرجعیت حاصل ہے،ہماری رائے میں وہ کسی اور کتاب کو حاصل نہیں۔ موضوع بہت ہی حساس اور خالص فنی نوعیت کا ہے، اور علمی وفقہی پس منظر اور استاد سے موضوع سمجھے بغیر اس کا کما حقہ سمجھنا بہت دشوار ہے۔

چاہے اردو زبان ہو یا عربی ، کسی بھی زبان میں جب تک دوسری زبانوں کا علمی ، تحقیقی اور ادبی مواد ترجمہ ہوکر نہ آئے اس وقت تک اس کی حیثیت ایک بولی سے آگے نہیں بڑھ پاتی، انگریزوں کی آمد سے قبل اردو کی حیثیت کچھ ایسی ہی تھی، لیکن جب انگریزوں نے برصغیر میں مسلمانوں کو ہزار سالہ ملی ورثہ سے کاٹنے کے لئے فارسی کی جگہ اردو کو رائج کرنے کا منصوبہ بنایا تو مسلم علمائ و دانشوروں نے اس سازش کو بر وقت بھانپ لیا اور فارسی لٹریچر کو اردو میں منتقل کرنے کی ٹھانی، جس کے بعد یہ زبان

فقہ البیوع کے ترجمے کے سلسلے میں اس پوسٹ کے بعد کتاب کے ترجمے کی ضرورت کے سلسلے میں متضاد آراء آئی ہیں، ہماری رائے میں اس معیار کی کتابوں کے ترجمے کی اردو زبان کو ضرورت ہے۔ لیکن غیر معیاری ترجمے سے فائدے کے بجائے نقصان ہی ہوگا، اور اس سے مصنف کے استناد کو بھی ٹھیس پہنچے گی۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس معیار کی کتابوں کے ترجمے کا کام کرنے کے لئے جس صلاحیت کے افراد اور جس محنت کی ضرورت ہے یہ ناپید ہوتے جارہے ہیں، ہر جگہ سہل پسندی اور تجارتی مفادات غالب آتے جارہےہیں۔چونکہ فقہ البیوع عربی سے اردو میں ترجمہ ہوکر آئی ہے، لہذا عربی سے اردو میں ترجمہ ہونے والی کتابوں سے جن حلقوں کو دلچسپی ہوسکتی ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں دو باتیں کی جائیں۔

ان کتابوں کو پڑھنے والا ایک بڑا حلقہ ہمارے دینی دارلعلوموں کے اساتذہ اور طلبہ کا ہوسکتا ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ اس حلقے کی ساری دلچسپیاں درسی کتابوں اور ان کی اردو شروحات کے گرد محدود ہوکر رہ گئی ہیں، ایک جائزے کے مطابق دیوبند جسے مشہور عالم دارالعلوم کی موجودگی نے اردو کتابوں کی سب سے بڑی مارکیٹ بنانے کی راہ ہموار کردی ہے، یہاں چھپنے والی نوے پچانوے فیصد کتابوں کا تعلق درسیات کے ترجموں یا شرحوں سے ہے، جس طرح کالجوں اور یونیورسٹیوں مین پروفیسر حضرات اپنے لکچرروں کے مجموعے طلبہ میں رائج کرتے ہیں، کچھ اسی طرح ہمارے اساتذہ سلف کے بجائے اپنی شروحات کو طلبہ میں فروغ دیتے ہیں، ہماری رائے میں یہ رویہ فارغین کے علمی وتحقیقی معیار میں انحطاط کا اہم ترین سبب ہے، اب عربی زبان کے ریڈر آخری جماعت تک اردو شروحات کے ذریعہ پڑھی جائیں تو عربی زبان سے کیا خاک تعلق پیدا ہوگا؟لہذا ہمارے طلبہ کی توانائی کسی فن پر عبور پانے کے بجائے کتاب فہمی تک سمٹ کر رہ جاتی ہے۔
یہ بات صرف زبان دانی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ تفسیر وحدیث اور فقہ تک پھیلا ہوا ہے، عربی زبان کی وہ کتابیں جو تھوڑے سے ذوق اور توجہ سے ترجمے کےبجائے براہ راست آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں ان کو بھی طلبہ دیکھنے کے روادار نہیں ہوتے، قسطلانی کی شرح بخاری ، اور نووی کی شرح مسلم جیسی کئی ایک آسان شروحات ہیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے جب ہم پڑھتے تھے تو نورالانوار ، اصول الشاشی جیسی کتابوں کو سمجھنے کے لئے اردو تراجم ہم نے منگوائے تھے، اس وقت ہمیں تو اصل کتاب کو سمجھنا ترجمہ سمجھنے سے زیادہ آسان محسوس ہوا تھا۔

اس وقت ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو خاص کر پڑوسی ملک کی یونیورسٹیوں میں پڑھتا ہے، یونیورسٹیوں میں یم فل اور ڈاکٹریٹ کی اسانید کا مقصد تصنیفی و تحقیقی تربیت دینا ہوتا ہے، اور اس کے لئے بہت ساری کتابوں اور مجلات کا مطالعہ لازمی ہوتا ہے، لہذا اگر استاد اور طالب علم امانت دار ہو اور واقعی سند کے علاوہ اپنے فن میں بھی مہارت کا خواہش مند ہو تو وسیع مطالعہ اس کی ضرورت بن جاتا ہے، علاوہ ازین قانون ، بنکنگ و معاشیات کے میدانوں سے میں کامیابی کے خواہاں افراد کو بھی وسعت مطالعہ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے، اس نےان شعبوں سے وابستہ افراد میں عربی زبان سے ترجمہ شدہ فنی کتابوں کی حصولیابی کی اہمیت کو بہت بڑھا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ کراچی وغیرہ کے علمی کتب فروش یونیورسٹیوں کے حلقوں میں قیمتی کتابوں کی کھپت کی بات کہتے پائے جاتے ہیں، ویسے اپنے فن سے دیانت داری سے پیش نہ آنے کا رویہ ہر جگہ پایا جاتا ہے، صرف یونیورسٹیوں میں علم وتحقیق کے زوال کی بات کرنے والوں کو اپنے گریبان میں بھی کبھی جھانک لینا چاہئے۔

فقہ البیوع ، الفقہ الاسلامی وادلتہ ، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، شرح المجلۃ وغیرہ کے تراجم کی ضرورت ان حلقوں کو زیادہ پیش آتی ہے، برسبیل تذکرہ یہاں یہ بتانا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مجلۃ الاحکام العالیہ جو بیوع اور معاملات پر سلطنت عثمانیہ کے دور سے ایک مرجع کی حیثیت رکھتی ہے، اس کی تصنیف میں ایک عیسائی قانون دان سلیم رستم البستانی شریک رہے، اور ان کی شرح المجلہ ایک اہم مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔

فقہ البیوع ، الفقہ الاسلامی وادلتہ ، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، شرح المجلۃ وغیرہ کے تراجم کی ضرورت ان حلقوں کو زیادہ پیش آتی ہے، برسبیل تذکرہ یہاں یہ بتانا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مجلۃ الاحکام العالیہ جو بیوع اور معاملات پر سلطنت عثمانیہ کے دور سے ایک مرجع کی حیثیت رکھتی ہے، اس کی تصنیف میں ایک عیسائی قانون دان سلیم رستم البستانی شریک رہے، اور ان کی شرح المجلہ ایک اہم مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔

جیسا کہ کہا گیا اس قسم کی کتابوں کے ترجموں میں ضروری ہے کہ مترجم ماہر ہو، اسے سلیس آسان زبان پر عبور حاصل ہو، ترجمہ مفرس اور معرب تعبیرات سے پاک ہو، ضروری حواشی اور فنی فہرستوں کا اہتمام کیا جائے۔

جب ترجمہ اتنی محنت اور اہتمام کا متقاضی ہو تو پھر ترجمہ کے لئے کتابوں کا انتخاب اور معیار بڑی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔

دیکھا یہ گیا ہے کہ تاجران کتب نے کسی کتاب کے ترجمہ کی ضرورت واہمیت سے زیادہ مصنف یا کتاب کی شہرت کو ترجیح دی، مثلا اردو میں تاریخ وحدیث کی تاریخ طبری، سنن بیہقی جیسی بڑی بڑی مسند کتابیں ترجمہ ہوئیں، ان کتابوں کی اصل اہمیت ان کی اسانید میں تھی ، اب اسانید حذف کردی جائیں، اور نسبت مصنف کی طرف کی جائے تو یہ ایک طرح سے علمی خیانت ہے، کیونکہ کئی ایک کتابیں ایسی ہیں جن میں مصنف نے مختلف آراء کو جمع کرنے کا کام انجام دیا ہے، اس کی رائے جانے بغیر اس کی کتاب میں منقولہ عبارت کو اس کی طرف منسوب کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔

فقہ البیوع اپنے موضوع پر بڑی اہم کتاب ہے اردو کتب خانے کو اس کی ضرورت ہے، کاش دارالعلوم کراچی یا اس جیسے کسی بڑے ادارے کی زیر نگرانی اس کا معیاری ترجمہ تیار ہو، جس میں مشکل عبارتوں کی حسب ضرورت وضاحت کا بھی خیال رکھا گیا ہو۔اس سے مصنف کی طرف آراء کی غلط نسبت کی راہ بند ہوجائے گی، آج کا زمانہ تو ای بوک کا ہے، ہرچیز محفوظ رہتی ہے، اب ایک غیر معیاری ترجمہ باقی رہ جائے تو آئندہ کون اسے سند بننے سے روک سکتا ہے۔
عبد المتین منیری

One thought on “Fiqh ul Buyu Ka Urdu Tarjuma, فقہ البیوع کا اردو ترجمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *