کرپٹو کرنسی: حقیقت، ماہیت اور احکام
سالم برجیس
بعض چیزوں میں انسان کو جلد بازی نہیں دکھانی چاہیے۔ جلد بازی میں کیا ہوا کام اکثر ٹیڑھا ہوجاتا ہے، لیکن طبیعت بھی تو آخر انسانی ہے، خاص خاص موقعوں پر ہی اس میں ایسی سرسراہٹ پیدا ہوتی ہے کہ کچھ بھی انسان کے اپنے بس میں نہیں ہوتا۔ یہی انسانوں کی کامیابی کا راز بھی ہے اور یہی اس کی کمزوری بھی۔ کم ہی لوگ ہیں جو اس روا روی کے موقع پر ٹھہراؤ سے کام لیتے ہیں۔
سال 2024ء کی سردیوں کی بات ہے، راقم کی کتاب “کرپٹو کرنسی” کی اشاعت طے پائی۔ طبیعت میں یک گونہ خوشی تھی اور پہلی کتاب کی اشاعت پر دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ انسان کی پہلی تحریر ہو یا کہ کتاب، کہا یہ جاتا ہے کہ اس کا احساس پہلی اولاد سے کچھ کم نہیں ہوتا۔ مجھے یہ احساس پہلی بار ہورہا تھا کہ اچانک اس خوشی کو گہن لگی اور چیزیں ٹھنڈے بستے میں چلی گئیں۔ اداروں کے اپنے اصول ضابطے ہوتے ہیں، ان کی نزاکتیں محبوب کی نزاکتوں سے کچھ کم نہیں ہوتیں، سو یہ لمحے بھی مجنوئے سر پھرے کی طرح کاٹنے پڑے۔ یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ آئندہ جب قسمت یاری کرے گی تو خوشیوں کے ضرور دن پلٹیں گے۔ اب جب گزرے دنوں پر نظر ڈالتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ان لمحوں میں کیے ہوئے صبر زیادہ ضروری تھے۔ تیز طبیعت کو لگام دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے، جتنا ضروری اشیائے خورد و نوش۔
اس مدت میں یہ فائدہ ہوا کہ کتاب کو نکھارنے اور مزید مزین کرنے کا موقع مل گیا۔ بار بار اور کئی کئی بار دیکھا۔ دوست و احباب اور اساتذہ سے مشورے ملے۔ ادارے کے افراد اور ذمہ داران نے بھی فراخ دلانہ تعاون کیا اور تصنیفی راہ کی مشکلات سے آگاہ کرتے رہے۔ بالآخر کتاب کو منظوری ملی اور اب یہ کتاب “کرپٹو کرنسی” بہت جلد آپ تک پہنچے گی۔
جدید دنیا کا یہ نیا موضوع ہے۔ عالمی طور پر اب تک کافی پیش رفت ہوچکی ہے اور ابھی بھی یہ سفر ترقیوں کی جانب گامزن ہے۔ اسلامی دنیا کے لیے یہ اب تک ایک بڑا چیلنج رہا ہے، اس سلسلہ میں ہمارے یہاں اب تک سکوت پایا جاتا ہے، حالاں کہ سکوت کا یہ سلسلہ اب ٹوٹ جانا چاہیے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اور تجارتی دنیا کے افراد اس میں شامل ہورہے ہیں، انھیں رہنمائی کی شدید ضرورت ہے۔ یہ کام اسی نیت کے ساتھ شروع کیا گیا تھا کہ اس سلسلہ میں درست رہنمائی فراہم ہو۔ کرپٹو کرنسی کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھے، اس کی ماہیت معلوم ہو اور شرعی رہنمائیاں بھی فراہم ہوں۔ اس پر گوکہ اردو زبان میں اب تک کئی کتابیں سامنے آچکی ہیں، لیکن موضوع کے لحاظ سے ذرا مشکل معلوم ہوتی ہیں اور خاطر خواہ شرعی رہنمائیاں بھی ان میں کم ہی ملتی ہیں۔ میری یہ کوشش رہی ہے کہ اس نئے موضوع کو ایک عام شخص بھی اگر سمجھنا چاہے اور اس کی عالمی پیش رفت سے آگاہ ہونا چاہے تو بہ آسانی ہوسکتا ہے اور ٹریڈنگ کے شرعی اصول و ضوابط کی روشنی میں اس کی حلت و حرمت بھی جان سکتا ہے۔
یہ بساط بھر ایک ادنی سی کوشش ہے، جسے آپ کے سامنے پیش کرنے کی جسارت پارہا ہوں۔ امید ہے کہ علمی حلقوں میں اسے تحسین کی نظر سے دیکھا جائے گا اور جو کمیاں رہ گئی ہیں، اس سے باخبر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ادنی سی کوشش کو قبول فرمائے، آمین






