نگاہِ اوّلیں
محمد انس فلاحی مدنی
(معاون مدیر، مجلّہ سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی، علی گڑھ)
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، سيدنا ونبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
پیغمبرِ اسلام محمد رسول اللہﷺ پر ایمان اور آپﷺ سے محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ذاتِ اقدس کے ہر گوشے، پہلو، جہت، نسبت، تاریخ اور سنت سے محبت کی جائے اور اس کی حفاظت کا سامان کیا جائے۔ یہی جذبہ اور محبت سیرت نگاری کا محرکِ اوّل ہوئی۔ عروہ بن زبیر ؓ سے شروع ہونے والا یہ مبارک سلسلہ پوری آب وتاب کے ساتھ ہر عہد میں جاری رہا۔ ’سیرت ابن اسحاقؒ‘، ’سیر ت ابن ہشامؒ‘، ’زاد المعاد في هدي خير العباد‘ (ابن القیمؒ) اور ’الشفا بتعريف حقوق المصطفى‘ (قاضی عیاضؒ) اسی سلسلۃ الذہب کا حصہ ہیں۔
سیرت نگاری اور نعت گوئی میں برّصغیر کوممتاز مقام حاصل ہے۔ یہاں سیرت نگاری کا آغاز شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ (م۱۶۴۲ء) کی فارسی تصنیف ’مدارج النبوۃ‘ سے ہوا۔ اس کے بعد سرسید احمد خاںؒ نے ولیم میور [William Muir] (م۱۹۰۵ء) کے سیرتِ رسولﷺ پر اعتراضات کے جواب میں ’الخطبات الأحمديه في العرب والسيرة المحمديه‘ پیش کی۔ علامہ شبلیؒ (م۱۹۱۴ء) اور علامہ سید سلیمان ندویؒ (م۱۹۵۳ء) کی کتاب ’سیرۃ النبی ﷺ‘ سیرت نگاری میں محقق ومستند مواد کے اندراج، موضوعات اور واقعات کی عمدہ ترتیب کی بہ دولت منفرد مقام کی حامل ہوئی۔ مولانا حکیم ابو البرکات عبد الرؤف داناپوریؒ (م۱۹۴۸ء) کی ’اصح السیر فی ھدی خیر البشر ‘، قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ (م۱۹۳۰ء) کی ’رحمۃ للعالمین‘، مولانا مناظر احسن گیلانیؒ (۱۹۵۶ء) کی ’النبی الخاتم‘ اور مولانا نعیم صدیقیؒ (م۲۰۰۲ء) کی ’محسن انسانیتؐ‘ نے اردو کتبِ سیرت میں گراں قدر اضافہ کیا۔ ’نقوش‘ رسالے کا سیرتِ رسولﷺ نمبر اردو سیرت نگاری میں لازوال کارنامہ ہے۔ اس کی ترتیب، موضوعات کی انفرادیت، مواد کی تنقیح اور سیرتِ رسولﷺ کا جامع احاطہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی طرح مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ (م۱۹۷۴ء) کی ’سیرۃ المصطفیٰ‘، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ (م۱۹۷۹ء) کی ’سیرت سرور عالمﷺ‘، مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوریؒ (م۲۰۰۶ء) کی ’الرحیق المختوم‘ اور علامہ خالد مسعودؒ (م۲۰۰۳ء) کی ’حیاتِ رسولِ امی ﷺ‘ کو بھی کتبِ سیرت میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
جیسے جیسے سیرت نگاری کا شہرہ ہوا، ویسے ہی سیرت نگاری میں نئے نئے رجحانات واصناف نے جنم لیا؛ قرآن کی روشنی میں سیرت نگاری، صحیح اور مستند روایات کا اہتمام، دفاعی اسلوب میں سیرت نگاری، عصری مسائل کے تناظر میں سیرت نگاری، واقعاتِ سیرت ﷺ کے دروس وعبر، جغرافیائی سیرت نگاری، تجزیاتی سیرت نگاری، موضوعاتی سیرت نگاری، ادبیانہ سیرت نگاری، افسانوی سیرت نگاری، غیرمنقوط سیرت نگاری اور منظوم سیرت نگاری وغیر ہ نے سیرتِ رسول ﷺ کی پیش کش کو نہایت مؤثر بنایا۔
برّصغیر میں سیرت نگاری میں جن افراد کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی مقبولیت اور محبوبیت عطا فرمائی ان میں: امامین ھمامین علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کے علاوہ ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ، مدیرِ ’نقوش‘ جناب محمد طفیلؒ (م۱۹۸۶ء) اور پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقیؒ (۲۰۲۰ء) کا نام نمایاں ہے۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ (۹؍فروری ۱۹۰۸ء – ۱۷؍دسمبر ۲۰۰۲ء) کی دل ربا شخصیت، اسلام کی ہمہ جہت خدمت اور علومِ اسلامی پر متنوع کام انھیں معاصرین میں ممتاز کردیتا ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں اسلاف کے کردار کا نمونہ اور ان کی میراث کے سچے جانشین اور وارث تھے۔ تقویٰ، زہدوورع، سادگی، قناعت، بےنفسی اور تواضع کا مجسمہ تھے۔ بے نیازی کا عالم ایسا کہ دنیاوی اعزازات کو کبھی لائق التفات ہی نہیں سمجھا۔ علم، مطالعہ وتحقیق کے لیے انتھک محنت، جہدِمسلسل اور لگن میں اپنی مثال آپ تھے۔ اسی تقویٰ وخداترسی اور علمی گہرائی وگیرائی کے حسین امتزاج نے انھیں اہلِ علم اور عوام دونوں کی نگاہ میں مقبول ومحبوب بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے علمی کام کو ایسا اعزاز بخشا کہ وہ ’مجدّدِ علومِ سیرت‘ کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر محمدحمید اللہؒ دینی وعصری علوم کے منتہائے کمال تک پہنچے۔ بی.اے، ایم.اے، ایل.ایل.بی جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد سے کیا، ڈی فل ۱۹۳۳ء میں بون یونی ورسٹی، جرمنی سے اور ڈی لٹ ۱۹۳۵ء میں سوربون یونی ورسٹی، پیرس سے کیا۔ محض ۲۸؍ سال کی عمر میں انھوں نے تعلیم کے تمام مراحل بہ حسن وکمال پورے کر لیے۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی ہمہ جہت علمی خدمات اور تنوع دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کس قدر غیرمعمولی جاں فشانی، عرق ریزی اور دماغ سوزی سے ان کاموں کو انجام دیا ہوگا۔ فرانسیسی زبان میں ترجمۂ قرآن، حدیث کے نادر اور نایاب مخطوطے ’صحیفہ ہمام ؓبن منبہ۵۸ھ‘ (عربی متن ۱۹۵۳ء) کی دریافت اور تحقیق وتدوین، سیرت میں ’سیرت ابن اسحاقؒ‘ اور ’مجموعة الوثائق السياسية للعهد النبوي والخلافة الراشدة‘ کو منصۂ شہود پر لانے کی غیر معمولی سعی اور قانون کے میدان کے میں ۱۹۳۵ء میں بون یونی ورسٹی سے ’اسلام کے بین الاقوامی تعلقات‘ کے موضوع پر مقالہ نویسی، یہ سب انھیں علمی دنیا میں نیک نام کرنے کے لیے کافی تھے، لیکن وہ یہیں تک نہیں رکے، بلکہ انھوں نے اسلامیات کی متعدد جہات پراپنی گراں قدر نگارشات پیش کیں۔ ان کے مقالات کی تعداد ’۹۳۷‘ اور کتابوں کی تعداد ’۱۶۵‘ بیان کی جاتی ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ پر تو ان کا کام اتنا ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک شخص نے پوری انجمن اور اکیڈمی کا کام خود ہی کر ڈالا۔ تصانیفِ سیرت میں؛ رسولِ اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی، عہدِ نبوی ﷺ کے میدانِ جنگ، عہدِ نبویﷺ میں نظامِ حکم رانی اور محمد رسول ﷺ (انگریزی سے ترجمہ) کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ’خطباتِ بہاولپور‘ ان کے بارہ خطبات کا مجموعہ ہے، جو انھوں نے بہاولپور یونی ورسٹی میں پیش کیے تھے۔ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے مقبولِ عام بنایا۔
ڈاکٹر محمد حمیداللہؒ کا زیادہ تر علمی کام فرانسیسی اور انگریزی زبان میں ہے۔ انھوں نے اپنا عہدِ جوانی اور عہدِ پیری پیرس میں ہی گزارا۔ یہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا اور سیرتِ رسول ﷺ سے واقف کرانا، ان کی اوّلین ترجیحات میں شامل تھا۔ اسی لیے انھوں نے فرانسیسی زبان میں قرآنِ مجید کا ترجمہ کیا اور سیرت پر اپنی سب سے اہم کتاب Le Prophete de l’Islam: Sa vie, son oeuvre لکھی۔ ان دونوں علمی کاموں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ان کے بہ دست ہزاروں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی شخصیت، فکر اور علمی کاموں کے احاطے پر مشتمل کئی رسالوں کے خصوصی نمبرات، مستقل کتابیں، مضامین اور مجموعۂ مقالاتِ سمینار اور متعدد ڈاکٹریٹ کے مقالے لکھے جاچکے ہیں۔ مجلّہ شش ماہی فکر ونظر کا خصوصی شمارہ بہ یاد ’ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ ‘ (اپریل –ستمبر۲۰۰۳ء) نہایت اہتمام سے شائع ہوا تھا۔ اس میں ان کی شخصیت، جہاتِ علمیہ اور مطبوعات ومقالات کی فہرست شامل ہے۔ اسی طرح مجلّہ شش ماہی معارفِ اسلامی کا ’ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ نمبر‘ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں ان کی متنوع علمی خدمات کا تجزیاتی مطالعہ شامل ہے۔ اسلامی معاشیات میں ان کی خدمات کے تجزیاتی مطالعے پر پروفیسر عبد العظیم اصلاحی کی انگریزی کتاب Muhammad Hamidullah and His Pioneering Works on Islamic Economics بہت مفید ہے۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی کتابوں کے ترجمہ کا زیادہ تر کام پروفیسر خالد پرویز (پاکستان) نے کیا۔ ’محمد رسول اللہ ﷺ‘، ’داعی اسلام ﷺ‘ اور ’رسول اللہ کی حکم رانی وجانشینی‘ کا ترجمہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ فرانسیسی زبان میں مشہورِ زمانہ کتاب Le Prophete de l’Islam: Sa vie, son oeuvre کے اردو ترجمہ کی اوّلین کوشش’ پیغمبرِ اسلام‘ کے نام سے انھوں نے ہی کی ہے، لیکن یہ ناقص اور نامکمل ترجمہ ہے۔ ترجمہ پن نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے، مترجم نے اصل عبارت کے ترجمے میں جگہ جگہ اپنی خیال آفرینی کی آمیزش کی ہے۔ اصل کتاب کے حواشی کا ترجمہ سرے سے ہی چھوڑ دیا ہے۔ Le Prophete de l’Islam: Sa vie, son oeuvre کا انگریزی ترجمہ ’The Life and Work of the Prophet of Islam‘ کےنام سے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ (م۲۰۱۰ء) نے کیا ہے، افسوس وہ بھی نامکمل ہے۔ پروفیسر خالد پرویز نے اردو ترجمہ راست فرانسیسی زبان سے کیا ہے یا ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے انگریزی ترجمہ کو ہی اردو قالب عطا کیا ہے، اس سلسلے میں حتمی طور سے کچھ کہنا مفید ہے اور نہ اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ہاں یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ انگریزی ترجمہ جہاں ختم ہوا ہے، وہیں اردو ترجمہ بھی رک گیا ہے۔
پروفیسر خالد پرویز کے بہ قول ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے ان کے اردو ترجمے پر نظرثانی کی ہے، مگر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے ہی ’محاضراتِ سیرت‘ میں صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اردو ترجمہ انگریزی ترجمے سے کیا گیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ”[ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ] کی سب سے جامع کتاب فرانسیسی زبان میں ہے۔ دو جلدوں میں ہے۔….. ان دونوں جلدوں میں سے جلد اول کا انگریزی ترجمہ ہوگیا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ اس انگریزی ترجمہ سے اردو ترجمہ بھی چھپ گیا ہے۔“ (ص:۶۷۸)
تعجب ہے کہ پروفیسر موصوف نے بھی اس کی کوئی صراحت نہیں کی ہے، انھوں نےڈا کٹر محمود احمد غازیؒ کے تعاون کا تو ذکر کیا ہے، لیکن اس کو راز ہی رکھا کہ یہ ترجمہ راست کتاب سے کیا گیا ہے یا پھر انگریزی ترجمہ کو اردو میں منتقل کیا گیا ہے۔
بحمد اللہ اس کا پہلا مکمل اردو ترجمہ بہ عنوان ’سیرت رسولِ اسلام ﷺ مبارک زندگی، روشن کارنامے‘ ہو گیا ہے۔ ترجمہ کی یہ سعادت مولانا ذکی الرحمٰن غازی مدنی کو حاصل ہوئی ہے۔ اصل کتاب (فرانسیسی زبان میں) چھوٹے خط کے کل ۸۴۴؍صفحات پر مشتمل ہے۔ اردو ترجمہ کی دو جلدوں کے کل ۱۷۶۸؍صفحات ہیں۔ مترجم کی تعلیقات سےا س کی ضخامت بڑھ گئی ہے۔
یہ کتاب سیرتِ رسول ﷺ کا جامع احاطہ ہے۔ اس میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت، سیرت کا مواد اور اولین مآخذ، کارِپیغمبری، ہجرتِ مدینہ، مذہبی اور سیاسی زندگی، احابیش قبائل، اہل حبشہ سے تعلقات، مصر سے تعلقات، قبا ئل عرب، روشن کارنامے، تعلیماتِ محمدیﷺ، علوم وفنون کی ترقی، نبیﷺ کی حکم رانی، عہدِ اسلامی میں تصوّرِریاست، اخلاقیاتِ سیاست، سیاستِ محمدی ﷺ کے نمایاں اصول، عہدِ نبوی کی سماجی زندگی اور دیگر جہاتِ سیرت پر غیر معمولی مواد شامل ہے۔ پہلی جلد تاریخی نوعیت کی ہے اور دوسری جلد تعلیماتِ نبویﷺ سے متعلق ہے۔ احابیش قبائل اور ہم عصر فرماں رواؤں سے متعلق شاملِ کتاب مواد اس کی خاص خصوصیت ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اتنا جامع اور تفصیلی مواد یکجا طور پر شاید ہی کسی کتاب کا حصہ رہا ہو۔ واضح رہے کہ اصل کتاب کی پہلی اشاعت ۱۹۵۹ء میں ہوئی تھی۔ مصنّف کی حیات میں اس کا پانچواں محقق اور اضافہ شدہ ایڈیشن ۱۹۸۹ء میں منظرِ عام پر آیا تھا۔ مترجم کے پیش نظر ترک اسکالر Mustapha Tougui کانظرِ ثانی شدہ ساتواں ایڈیشن طبع ۲۰۰۹ء رہا ہے۔
’سیرت رسولِ اسلام ﷺ مبارک زندگی، روشن کارنامے‘ صرف اصل کتاب کا اردو قالب نہیں ہے، بلکہ مترجم نے اصل متن میں موجود اسلامی نصوص کی تخریج وتحقیق کے ساتھ اپنی گراں قدر تعلیقات بھی شامل کی ہیں۔ اصل کتاب میں قرآنی آیات کے نمبرات کے اندراج میں سہو، بعض مقامات پر محض اشارہ، حدیث کا مجمل حوالہ، کتبِ سیرت اور کتبِ تاریخ کے مجمل اشارے تھے، مترجم نے ان سب کی تخریج کی ہے اور صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے، بلکہ مصنّف نے جہاں صرف ایک حدیث ذکر کی تھی، یا اس کا مفہوم ذکر کیا تھا، فاضل مترجم نے دوسری احادیث بھی صحیح متن کے ساتھ ذکر کردی ہیں اور ان کا حوالہ بھی نقل کردیا ہے۔ مصنّف نے جہاں کتاب کا صرف مجمل حوالہ ذکر کیا ہے یا اشارہ کیا ہے، مترجم نے کتاب تلاش کرکے اصل متن کا اندراج کردیا ہے۔ یہ صرف ایک دو احادیث یا چند کتابوں کے حوالے کا مسئلہ نہیں ہے، مصنّفؒ کی کتاب میں جگہ جگہ ایسا ہوا ہے کہ انھوں نے مفہوم ذکر کردیا یا صرف کتاب کا ذکر کردیا۔ اسی طرح مصنّف نے جہاں ضعیف احادیث کی بنیاد پر واقعات نقل کیے ہیں تو مترجم نے حدیث پرائمۂ حدیث کے حکم کو بھی بیان کیا ہے؛ جیسے الجنة تحت أقدام أمهاتكم، إيمان العجائز، الصلاة معراج المؤمن، ان احادیث کی مترجم نے تخریج کرکے ان پر ضعف کا حکم نقل کیا ہے۔ اسی طرح مصنّف سے جہاں اصل متن کے اندارج اور ترجمے میں تسامح ہوا ہے، مترجم نے اپنی تعلیقات میں اس کی تصحیح کردی ہے۔ الغرض مترجم نے اصل حواشی کے ترجمہ کے ساتھ اپنی جو تعلیقات درج کی ہیں، اس سے اصل کتاب کی افادیت دو چند ہوگئی ہے۔
مترجم نے ترجمۂ کتاب کے دوران کس جاں فشانی سے کام کیا ہوگا، اس کا کسی قدر اندازہ قاری کو تعلیقات دیکھ کر ضرور ہوگا کہ مترجم نے کتبِ سیرت وتاریخ اور متونِ احادیث کو کس طرح کھنگالا ہوگا۔ بعض احادیث، اقتباساتِ کتب، الفاظ اور اشعار کی تحقیق میں انھوں نے کتنے ہفت خواں طے کیے ہوں گے!
کتاب کا اردو ترجمہ اتنا معیاری ہے کہ اصل کا گمان ہوتا ہے۔ اتنا سلیس، رواں، شستہ اور دل نشیں ہے کہ قاری پڑھتا ہی چلا جائے۔ حواشی میں مترجم کی تعلیقات پڑھے تو عش عش کرے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ مترجم نے ان تحقیقی حواشی کو لکھنے میں کتنی جاں فشانی، عرق ریزی اور دماغ سوزی کی ہوگی۔
ترجمہ کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ مصنّفؒ نے اصل کتاب میں مرکزی عنوان کے تحت پیراگرافنگ کی ہے اور اس پر نمبر درج کیے ہیں۔ مترجم نے ترجمے میں ذیلی عناوین کے اضافے کے ساتھ نمبردار پیراگراف ختم کرکے اس کو مسلسل تحریر بنا دیا ہے۔ اسی طرح مصنّفؒ نے جہاں بعض غیر مستند واقعات کتبِ سیرت سے نقل کیے ہیں، مترجم نے اصل واقعے کی تنقیح کتبِ حدیث کی روشنی میں کی ہے۔ بہ طور مثال ہجرتِ مدینہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا اپنے بستر پر امیر المومنین حضرت علی ؓ کو سلانا، مترجم کے نزدیک تحقیق طلب ہے۔ انھوں نے اس واقعے پر کئی سوالات اٹھائے ہیں اور واقعے کی مستند احادیث کی روشنی میں توضیح کی ہے۔ علاوہ ازیں مترجم نے مصنّفؒ کی بعض آرا وتفردات پر بھی نقد کیا ہے۔
کتاب، مصنّف اور اردو ترجمے پر گفتگو کے بعد قاری کو مترجم سے واقف کرانا ضروری ہو جاتا ہے۔ مترجم مولانا ذکی الرحمٰن غازی مدنی، علمی دنیا میں نوجوان مصنّف اور مترجم کی حیثیت سے معروف ہیں۔ فی الوقت جامعۃ الفلاح، بلریاگنج، اعظم گڑھ میں صدر مدرّس ہیں۔ تقریباً ایک دہائی سے اسی مدرسے میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں۔ دینی تعلیم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے حاصل کی۔ تصنیف وتالیف اور ترجمہ کے شہ سوار ہیں۔ پہلی اردو کتاب ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی اور اب تک کئے درجن کتابیں شائع ہوچکی ہیں، ا ن میں طبع زاد اور ترجمہ شدہ دونوں ہیں۔ قرآن، حدیث، فقہ، عصری مسائل، فکرِ اسلامی اور منحرف افکار کا تنقیدی جائزہ ان کے تصنیف وتالیف اور ترجمے کے میدان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے وقت میں بڑی برکت اور قلم میں بڑی قوت بخشی ہے، لکھتے ہیں تو بغیر تکان لکھتے چلے جاتے ہیں۔ کتابوں کی ضخامت اس بات کی شاہد ہے کہ مصنّف کا قلم سیّال ہے اور اس میں غیر معمولی رفتار بھی ہے۔ اردو، عربی، انگریزی، ہندی، فارسی اور فرانسیسی زبانوں پر یکساں قدرت ہے۔ فرانسیسی زبان خود شوق سے سیکھی، اس میں کس قدر غیر معمولی قدرت حاصل کی ہے، یہ کتاب اس کا بہترین مظہر ہے۔ اس کتاب کے ترجمے میں انھوں نے غیر معمولی محنت کی ہے۔
راقم نے اس کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے۔ اس کے ترجمے، حواشی اور مترجم کی تعلیقات کو بہ غور پڑھا ہے۔ کتاب کو ترجمے کے لحاظ سے بہت عمدہ پایا۔ حواشی وتعلیقات میں نصوصِ اسلامی کی تخریج، متن کی تصحیح، موضوع اور ضعیف روایات کی نشان دہی نے اس کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ کتاب کے بارے میں یہ کہنا بجا طور پر مناسب ہوگا کہ موجودہ صورت میں یہ کتاب کتبِ سیرت اور کتبِ حدیث کے جامع مواد پر مبنی سیرتِ نبویﷺ کے ذخیرے میں ایک منفرد اضافہ کہلانے کی مستحق ہے۔ بہرکیف اہلِ علم ہی اس کتاب کی افادیت واہمیت کو حقیقی معنوں میں سمجھیں گے۔
مترجم مولانا ذکی الرحمٰن غازی اس کتاب کے ترجمے پر اردو دنیا کی جانب سے مبارک باد اور شکریے کے مستحق ہیں۔ انھوں نے اس ترجمے کے ذریعے اردو دنیا کو عظیم تحفے سے روشناس کرایا ہے، جب کہ ابھی تک فرانسیسی سے کسی دوسری زبان میں اس کا مکمل ترجمہ نہیں ہوسکا ہے۔ مقامِ حیرت ہے کہ نقوش کے رسول نمبر کے وقت اس کتاب کے اردو ترجمہ کی سعی کیوں نہ ہوسکی!
اللہ تعالیٰ برادرِ مکرم مولانا ذکی الرحمٰن غازی مدنی کے اس علمی کام کو شرفِ قبولیت بخشے، قدردانوں کے ہاتھوں میں کتاب جلد پہنچے، مترجم کو اللہ تعالیٰ صحت وعافیت سے رکھے اور ان کے دل ودماغ اور سیّال قلم کو ہمیشہ ہمیش توانا اور تازہ رکھے تاکہ ان کی صلاحیتوں سے امت کو فیض پہنچتا رہے، آمین!






