پیغمبرِ انقلابﷺ
ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیرس)
ترجمہ: ذکی الرحمٰن غازی مدنی
جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ
اللہ کے آخری نبیﷺ جس خدائی مشن پر مامور کیے گئے تھے وہ اپنے آپ میں کافی سخت اور مشکل تھا، مگر طمانیت اور تشفی کے لیے یہ جاننا کافی ہے کہ آپﷺ نے یہ مشن تاریخ کے کسی بھی دوسرے مصلح اور محسنِ انسانیت سے سے بڑھ کر پورا کر دکھایا۔
آپﷺ کے مشن کا آغاز ’’جبل النور‘‘ (Mont de la Lumiere) کے ایک غار (غارِ حراء) میں ہوا تھا۔ یہاں آپﷺ نے پہلی وحیِ ربانی کا تجربہ کیا۔ مخالفتوں کے اندھیروں (Tenebres) کے بیچ میں اس وقت سپیدۂ سحری نمودار ہوا جب اللہ کے نبیﷺ اور حضرت ابوبکرؓ ایک دوسرے پہاڑ ’’جبل الثور‘‘ کے غار میں پناہ گزیں ہوئے۔ یہ سفرِ ہجرت کا واقعہ ہے اور یہ پڑاؤ مکہ سے مدینے کے سفر کے آغاز میں کیا گیا تھا تاکہ ایک نئی زندگی کی شروعات کی جائے۔ اور آخر میں اس مشن کی تکمیل (Parachevement) اس وقت ہوئی جب سن۱۰ھ میں لاتعداد قدوسیوں (Saintes Myriades) کی بھیڑ آپﷺ کا الوداعی خطاب اور پیغام سننے کے لیے جبلِ رحمت (Mont de la Misericode) کے اردگرد اکٹھا تھی۔
آپﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں اپنی سماجی تعلیمات کا لبِ لباب ذکر کیا۔ یعنی آداب واخلاقیات کی وہ کم سے کم مقدار جو انسان کو انسان باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے، چاہے اس کا تعلق شہنشاہوں سے ہو یا عام لوگوں سے۔ آپﷺ نے اہلِ ایمان کو صرف ایک مذہب نہیں دیا جس میں انسان اور خالق کے تعلقات تک بات محدود رہ گئی ہو، بلکہ احکام وقوانین کا ایسا مجموعہ بھی عطا فرمایا جو روزمرّہ زندگی کی تمام ضروریات کی تکمیل کرتا ہے، تمام زمانوں اور خطوں کے لیے قابلِ عمل ہے اور اس ضابطۂ اخلاق اور نظامِ حیات کو وہ ذرائع اور وسائل دیے گئے ہیں جن سے کام لے کر اسے وقت اور حالات کے تقاضوں سے بہ آسانی ہم آہنگ (S’adapter) کیا جاسکتا ہے۔
اللہ کے نبیﷺ کے کارناموں کی قدروقیمت کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ آپﷺ نے جسم وجان سے جدّوجہد کی، تمام میسر وسائل وذرائع اختیار کیے، اپنے کاز کے لیے مکمل قربانی اور جاں فشانی کا مظاہرہ کیا، کسی بھی چیز کو یہ حیثیت نہیں دی کہ اصل مقصدِ زندگی سے پھیر دے اور جہدِ مسلسل کا یہ سلسلہ آخری سانس تک جاری رہا۔
یہ آپﷺ کے لیے اور اہلِ ایمان کے لیے کس قدر مسرت اورشادمانی کا موقع تھا جب جبلِ رحمت پر آپﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں اعلان فرمایا اور یہ خدائی اعلان سننے والے لاکھوں اہلِ ایمان وہاں موجود تھے: ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا﴾ (مائدہ، ۳) ’’آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔‘‘
یہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ محمدﷺ نے اپنا مشن مکمل فرمادیا۔ نہ صرف یہ کہ تعلیم دی، بلکہ اپنے اصولوں اور نظریوں کا عملی نمونہ بھی دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔میں بات کی تکمیل کے لیے ایک غیر مسلم صاحبِ قلم پروفیسر الفانسے ڈے لامارٹن کے الفاظ مستعار لیتا(Emprunter) ہوں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’کبھی کسی انسان نے خواہی نہ خواہی ایسا اعلیٰ مقصد اپنے لیے طے نہیں کیا؛ گویا کہ اس کا نشانہ مافوق البشری (Surhumain) ہے۔ نشانہ یہ کہ خالق اور مخلوق کے درمیان در آئے اوہام وخرافات کی جڑ کاٹی(Saper) جائے، خدا اور انسان کو ایک دوسرے سے متعارف کرایا جائے،بت پرستی کی بگڑی ہوئی شکلوں (Defigures de l’Idolatrie) اور مادی خدائوں کی ہنگامہ خیزی(Chaos) کے درمیان خدائی(Divinite) کے معقول اور مقدس تصور کو بحال اور ازسرِ نوتازہ وتوانا کیاجائے۔‘‘
’’کبھی کسی انسان نے اتنی بے بضاعتی اور کم مائیگی کے ساتھ اتنا بڑا کام اپنے ذمے نہیں لیا جو انسانی صلاحیتوں کے لیے ناقابلِ برداشت(Demesuree) ہو۔ پھر یہ بھی ہے کہ تصور اور عمل کی سطح پر آپﷺ کی دسترس میں کوئی قائم شدہ نظام نہیں تھا۔وسائل میں صرف آپﷺ کے ہاتھ آپ کے پاس تھے۔ مددگاروں (Auxiliaires) کی بات کریں تو صحرائے عربستان کے ایک کونے میں چند مٹھی بھر تہذیب ناآشنا (Barbares) بدو تھے۔‘‘
’’کبھی کسی انسان نے اتنے کم وقت میں اتنا عظیم اور پائے دار(Durable) انقلاب دنیا میں برپا نہیں کیا اور وہ بھی محض دو صدیوں کے اندر اندر۔”(یہاں دو دہائیاں پڑھنا چاہیے۔ دیکھیں کتاب کا پہلا باب۔ صرف فرانس (Gaule)کی تسخیر کا واقعہ امیر المومنین حضرت عثمانؓ بن عفان کی خلافت کے بعد کا واقعہ ہے۔ حمید اللہ)
آپﷺ کی پیش گوئی کے مطابق اس مختصر عرصے میں مسلم مبلغین اور مجاہدین جزیرۃ العرب (یمن وعمان سمیت)کے حکمراں تھے۔ انھوں نے توحیدِ باری کی بنیاد پر فارس، خراسان، عراق، ہندوستان کے مغربی ساحلی علاقوں اورشام، مصر، حبشہ کو اپنا ہم نوا بنالیا تھا اور پورا برِ اعظم افریقہ اور بحیرۂ روم (Mediterranee) کے بیشتر جزائر اور اندلس(Espagne) اور فرانس کے ایک حصے کو اپنے زیرِ نگیں کر لیا۔‘‘
’’اگرمقصد کی وسعت (Grandeur du Dessein)اور وسائل کی قلت (Petitesse des Moyens)اور نتیجے کی بے پناہی(Immensite du Resultat) کسی بھی انسان کی عبقریت کو جانچنے کا پیمانہ ہے تو کس میں جرأت (Oser)ہے کہ انسانی سطح پر جدید تاریخ کے عظیم ترین انسان محمدِ عربیﷺ سے برابری کا دعویٰ کرے؟ تاریخ کی مشہور ترین شخصیات نے ہتھیار چلائے، قوانین بنائے اور حکومتیں قائم کیں،مگر انھوں نے انھی مادی قوتوں سے کام لے کر ان چیزوں کی بنیاد رکھی جو ان کے سامنے آپڑی (Ecrouler)تھیں اور یہ تب ہے جب ہم تسلیم کریں کہ انھوں نے کسی چیز کی بنیادی کاری کی ہے۔ لیکن محمدﷺ نے بیک وقت فوجوں، قانون ساز مجلسوں،حکومتوں، عام لوگوں، خاندانوں اور ایک تہائی آباد دنیا کے انسانوں کو مہمیز (Remuer) کیا۔ آپﷺ کا دائرۂ عمل یہاں ختم نہیں ہوا۔ بلکہ آپﷺ نے قربان گاہوں (Autels)، جھوٹے خدائوں، باطل مذہبوں، بے بنیاد نظریوں،کمزور عقیدوں اور فاسد انسانوں کو زیروزبر کر ڈالا۔ ایک کتابِ مبین جس کا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتا ہے؛ اس کتاب کی بنیاد پر آپﷺ نے ایک روحانی قومیت کی بنیاد رکھی جس نے کسی بھی زبان کے بولنے والے اور کسی بھی نسل سے تعلق رکھنے والے انسانوں کی شیرازہ بندی کر دی اور آپﷺ نے اس اسلامی قومیت کے انمٹ نقوش (Caractere Indelebile) کے طور پر باطل خدائوں سے نفرت اور ایک غیر مادی خداسے محبت کا نشان دلوں پر مرتسم (Imprimer) فرمایا۔”
“دینِ حق کے لیے یہ جاں نثاری اور مقدس آسمان کی بے حرمتی پر انتقام کا جذبہ ہی پیروانِ محمدؐ کی خاصیت ہے۔ دنیا کے ایک تہائی حصے پر آپ ﷺ کے دین ومذہب کی سرخ روئی وفتح مندی آپﷺ کا معجزہ ہے یا شاید یہ ایک انسان کا معجزہ نہیں ہے، بلکہ عقلیت وعلمیت کا معجزہ ہے۔خدا کی وحدانیت کا عقیدہ جسے خدائی نسل ہونے کے باطل دعوے داروں(Theogonies Fabuleuses) نے تھڑدلے پن (Lassitude) کے ساتھ دنیا کو بتایا تھا؛ یہ عقیدہ اپنے اندر ایسی لامتناہی قوت اورطاقت رکھتا ہے کہ آپﷺ کے لبوں سے یہ ایک دھماکے کی شکل میں نکلا اور اس نے بت پرستی کے تمام پچھلے ٹھکانوں کو خاکستر(Incendier) اور ایوانوں کو زیروزبر کر دیا اور دنیا کا ایک تہائی رقبہ عقیدۂ توحید کی تابانیوں (Lueurs) سے جگمگا (Allumer)اٹھا۔‘‘
’’ایسا انسان کیا جھوٹا مدعیِ نبوت(Imposteur) ہوسکتا ہے؟آپﷺ کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم ایسا نہیں سوچ سکتے۔جھوٹ کا دوسرا نام منافقت (Hypocrisie) ہے۔منافقت کے اندر کبھی بھی یقین واذعان (Conviction)کی قوت وصلابت پیدا نہیں ہوتی، ویسے ہی جیسے جھوٹ کے اندر کبھی صداقت(Verite) کی تاثیر نہیں آسکتی ہے۔‘‘
’’اگرمشینوں کی دنیا میں قوتِ تحریک (Force d’Impulsion) کو ماپنے کا درست پیمانہ قوتِ اظہار(Force de Projection) ہے تو تاریخ میں عمل ہی وہ پیمانہ ہے جس سے جذبے کی قوت(Force d’Inspiration) کا درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ایک فکر (Pensee) جو اس قدر بلندی، دوری اور زمانی عرصے تک جاری رہی وہ یقینا بے حد طاقتور فکر ہے اور فکر کے اس حددرجہ طاقتور(Forte) ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پورے اخلاص (Sincere)اور شرحِ صدر (Convaincue) کے ساتھ پیش کی گئی ہو۔‘‘
’’مگر آپﷺ کی زندگی، گہرا مراقبہ(Recueillement)،۔ مقامی توہمات کے خلاف دلیرانہ تنقید (Blaspheme Heroique)، بت پرستوں کے غیظ وغضب (Fureurs) کا سامنا کرنے(Affronter) کی جرأت وہمت(Audace)،مکہ(حجاز) میں بائیس [تیئیس] سالوں تک ہر ظلم وستم برداشت کرتے رہنا (Supporter Constance)، سماجی بدنامی اور رسوائی (Scandale Public) کو اعلیٰ مقصد کی خاطر گلے لگانا اور خود اپنے ہم وطنوں کا نشانۂ تضحیک بننا، بالآخر گھر چھوڑنا(Fuite)، بے تکان دعوتِ دین اور نامساوی جنگوں کا سلسلہ، اپنی کامیابی کا یقینِ واثق، پسپائی کے مواقع (Revers) پر اپنی حفاظت کا مافوق الفطری اعتقاد،فتوحات پانے پر عاجزی وفروتنی (Longanimite)،فکرکے لیے قربانی، نہ کہ حکومت واقتدار کی ہوس،کبھی نہ ختم ہونے والی عبادت وریاضت،اللہ جل شانہ سے روحانی ہم کلامی (Conversation Mystique)، وفات اور مرنے کے بعد بھی فتح مندی؛ یہ سب چیزیں گواہی دیتی ہیں کہ آپﷺ اپنے مشن پر پورا ایمان وایقان رکھتے تھے۔”
“کوئی جھوٹا شخص ایسا نہیں ہوسکتا ہے۔ یہی یقین واذعان تھا جس نے آپﷺ کو عقیدۂ توحید کی بحالی کا حوصلہ دیا۔آپﷺ کا پیش فرمودہ عقیدۂ توحید دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ جل شانہ ایک ہے اور دوسرا یہ کہ وہ غیر مادی(Immaterial) ہے۔ورنہ اس سے پہلے ایک کہتا تھا کہ خدا یہ ہے اور دوسرا کہتا تھا کہ خدا یہ نہیں ہے۔آپﷺ نے شمشیر کے دم پر تمام جھوٹے خدائوں کا تخت الٹ(Renverser) دیا اور ایک جامع اور متوازن عقیدۂ توحید دیا۔‘‘
’’فلسفی،خطیب(Orateur)، رسول(Apotre)، قانون ساز، جنگجو (Guerrier)، افکار کا فاتح(Conquerant d’Idees)، عقلی تصورات وعقائد کا بنیاد گزار، ایسے دین کا مبلغ جس میں تصویریں اور مورتیں نہیں ہیں، بیس زمینی شہنشاہیوں کا مؤسس اور ایک عالم گیر روحانی شہنشاہی کا موجد؛ یہ ہے محمدﷺ۔ وہ تمام پیمانے (Echelles) جن سے انسانی عظمت وشوکت ماپی جاتی ہے، ان میں کونساانسان محمدﷺ سے بڑا ہے؟‘‘
(’’Alphonse de Lamartine‘‘ کی کتاب’’Histoire de la Turquie‘‘:۱/۲۷۶-۲۸۰)
(سیرت رسولِ اسلام ﷺ، ڈاکٹر محمد حمید اللہ: 2/ 813-816)
سیرتِ پاک پر فرانسیسی زبان میں ڈاکتر محمد حمید اللہ علیہ الرحمہ کے گہر بار قلم سے نکلی عالمی شہرت یافتہ کتاب “Le Prophète de l’ islam ; sa vie, son oeuvre” کا مکمل اردو ترجمہ، مفید تحقیقی حواشی کے ساتھ
(اردو کتبِ سیرت کی فہرست میں بیش بہا علمی وتحقیقی اضافہ)
مترجم : ذکی الرحمٰن غازی مدنی




