Web Analytics Made Easy - StatCounter
Bal Ahya

بل احیاء

بعض کتابیں بازار کی زینت بننے کے لیے لکھی جاتی ہیں، بعض لائبریریوں کی الماریوں میں خاموشی سے عمر گزار دیتی ہیں اور بعض ایسی ہوتی ہیں جنہیں وقت خود اپنے ہاتھوں سے لکھواتا ہے۔ وہ کسی ادبی ذوق کی تسکین یا علمی شہرت کی خواہش کا حاصل نہیں ہوتیں بلکہ تاریخ کے زخمی سینے سے پھوٹنے والی ایک آہ کا جواب ہوتی ہیں۔ فلسطین پر لکھی جانے والی ہر سنجیدہ تحریر بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے اس لیے کہ فلسطین آج محض ایک سیاسی تنازع یا جغرافیائی اختلاف کا نام نہیں، بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان، ہماری غیرت کا پیمانہ اور ہماری انسانی حسیت کا آئینہ ہے۔ اس سرزمین کی مٹی میں صرف شہیدوں کا خون نہیں، بلکہ امت کی خاموشیوں کا بوجھ بھی دفن ہے۔ اس لیے جب کوئی قلم فلسطین کے لیے اٹھتا ہے تو وہ محض الفاظ نہیں لکھتا بلکہ تاریخ کے ایک ایسے باب کی شہادت قلم بند کرتا ہے جس کے اوراق آج بھی خون سے تر ہیں۔

اردو میں فلسطین پر بہت کچھ لکھا گیا، مظالم بھی بیان ہوئے، سیاسی تجزیے بھی سامنے آئے اور جذباتی مضامین بھی رقم کیے گئے؛ لیکن ان لوگوں کو سامنے لانا جنہوں نے اس سرزمین کی بقا کے لیے اپنی پوری زندگیاں وقف کردیں، ان کی سوانح کو اردو کے قاری تک پہنچانا اور ان کے ذریعے فلسطین کی روح کو محسوس کرانا یہ خدمت بہت کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے میرا خیال ہے کہ ہندوستان میں اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت جناب عبدالعلیم اعظمی کے نصیب میں لکھی ہے۔

یہ صرف ایک مصنف کا کام نہیں، بلکہ ایک امانت ہے جسے ہر شخص اٹھانے کی ہمت نہیں کرتا ہر قلم کو یہ توفیق بھی نہیں ملتی کہ وہ بیت المقدس کی مٹی سے اپنا رشتہ جوڑ سکے اور وہاں کے اہلِ عزیمت کو اردو دنیا میں زندہ کر دے۔

صاحبِ تصنیف سے میری کوئی ذاتی شناسائی نہیں نہ کبھی ملاقات ہوئی، نہ تعارف کا موقع حاصل ہوا۔ میری ان سے پہلی اور اب تک کی شناخت صرف ان کے ان مضامین کے ذریعے ہے جو فلسطین اور اہلِ عزیمت کے حوالے سے مختلف مقامات پر پڑھنے کو ملے بہت ممکن ہے کہ وہ میرے نام سے بھی واقف نہ ہوں، لیکن میں ان کے قلم سے بخوبی واقف ہوں۔ قلم کی بھی اپنی شناخت ہوتی ہے؛ بعض قلم اپنے لکھنے والے کا تعارف پوچھنے نہیں دیتے بلکہ ہر تحریر کے ساتھ خود اپنا تعارف کراتے چلے جاتے ہیں عبدالعلیم اعظمی کا قلم بھی انہی قلموں میں سے ہے اسی لیے جب ان کی اس نئی تصنیف کی اطلاع ملی تو دل میں ایک اشتیاق پیدا ہوا کہ دیکھا جائے اس مرتبہ انہوں نے فلسطین کی داستان کو کس زاویے سے رقم کیا ہے۔

یہ کتاب پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف نے شخصیات کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ زندہ تاریخ کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کردیا ہے یہاں ہر کردار اپنے خون سے لکھا ہوا محسوس ہوتا ہے کوئی معلم ہے، کوئی طبیب، کوئی صحافی، کوئی مجاہد، کوئی داعی؛ مگر سب کے درمیان ایک قدر مشترک ہے، اور وہ ہے اپنی سرزمین، اپنے دین اور اپنی شناخت کے لیے بے مثال استقامت یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کو یہ سکھایا کہ آزادی صرف نعروں سے نہیں ملتی، بلکہ اس کے لیے نسلیں اپنے خواب، اپنی جوانیاں اور اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرتی ہیں۔

عبدالعلیم اعظمی کے اسلوب پر گفتگو کی جائے تو سب سے پہلے ان کی سادگی متوجہ کرتی ہے ان کی عبارت قاری کو مرعوب نہیں کرتی بلکہ اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ وہ لفظوں کے طلسم سے متاثر کرنے کے قائل نہیں، بلکہ حقیقت کے وزن سے قاری کے دل میں ہل چل پیدا کردیتے ہیں ان کے یہاں تصنع نہیں، غیر ضروری خطابت نہیں، عبارت آرائی کا بوجھ نہیں، زبان شستہ، اسلوب رواں، جملے مختصر اور تاثیر دیرپا۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک تحقیقی کتاب کو عام قاری کے لیے بھی قابلِ مطالعہ بنا دیتا ہے۔

اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ فلسطین کو محض مظلومیت کے استعارے کے طور پر پیش نہیں کرتی، بلکہ عزیمت، امید اور کردار کی سرزمین کے طور پر متعارف کراتی ہے کتاب بند کرنے کے بعد قاری کے ذہن میں صرف تباہ شدہ عمارتوں کی تصویریں باقی نہیں رہتیں، بلکہ ایسے انسانوں کے نقوش ثبت ہوجاتے ہیں جنہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ ظلم وقتی ہوسکتا ہے مگر حق کی راہ ہمیشہ ظلم و زیادتی سے بہتر ہوتی ہے۔

اس کتاب کا مطالعہ ختم ہونے کے بعد قاری صرف چند شخصیات سے واقف ہو کر نہیں اٹھتا، بلکہ اپنے اندر ایک نئے احساس کے ساتھ لوٹتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ صرف بڑے معرکوں سے نہیں بنتی، بلکہ بہادر انسانوں کے ایثار، استقامت اور خاموش قربانیوں سے بھی اپنا راستہ تراشتی ہے یہی اس کتاب کا اصل امتیاز ہے کہ یہ فلسطین کو ایک خبر یا حادثے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک زندہ تہذیب، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک ایسی امانت کے طور پر پیش کرتی ہے جس کی حفاظت میں نہ جانے کتنی نسلیں اپنی عمریں کھپا چکی ہیں۔

یہ تصنیف اردو دنیا کے لیے ایک قیمتی اضافہ ہے میں اسے صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک علمی امانت سمجھتا ہوں، جس کا مطالعہ ہر اس شخص کو کرنا چاہیے جو فلسطین کو خبروں کی سرخیوں سے آگے بڑھ کر اس کے افراد، اس کے مجاہدوں اور اس کی زندہ روح کے ساتھ سمجھنا چاہتا ہےـ

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ تصنیف کے قلم میں اسی طرح خیر، اخلاص اور تاثیر عطا فرمائے اور انہیں آئندہ بھی امت کے ایسے ہی زندہ موضوعات پر لکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور باری تعالیٰ اس کتاب کو اپنے شایانِ شان مقبولیت عطا فرمائےـ

آمین یارب العالمین

عمیر الٰہی عثمانی دیوبند

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login