شیعیانِ ہند للمولف جان نارمن ہالسٹر (John Norman Hollister) مترجم مترجم ریحان عمر
زیرِ نظر کتاب
The Shi’a of India
جس کا اردو ترجمہ “شیعیانِ ہند” کے نام سے ریحان عمر صاحب نے کیا ہے، مستشرق
John Norman Hollister
جان نارمن ہالسٹر کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ ہے جو ۱۹۴۶ء میں انہوں نے تالیف کیا تھا جبکہ وہ حکومتِ برطانیہ کی طرف سے لکھنؤ ہندوستان میں بطور مشنری تعینات تھے۔ تاہم تقسیمِ ہندوستان کے سبب اس مقالے کی اشاعت کسی قدر تاخیر سے ۱۹۵۱ء کے آس پاس ہی ہوسکی۔ اس مقالے کی خاص بات اس کا معروضی اندازہے۔ یعنی ہندوستان کے شیعوں پر قلم اٹھاتے ہوئے مسٹر ہولسٹر نے تنقیدی کے بجائے معروضی انداز اختیار کیا ہے اور ہندوستانی شیعیت کو انہوں نے جیسا پڑھا اور سمجھا اپنے مقالے میں ہوبہو ویسا ہی پیش کردیا ہے۔ اسی سبب ہم نے بھی ،بجر ہزار ہا اختلافات کے ، کتاب کے کسی مقام پر اہل تشیع کے عقائد و نظریات کی بابت کوئی تنقیدی حاشیہ لگانا مناسب نہ جانا کہ ایسے میں کتاب کی معروضیت اور غیر جانبداریت برقرار رہتی ہے۔
پھر کتاب کے ترجمے کا اصل مقصد بھی ہندوستان میں شیعیت کے معروضی مطالعہ کا استحضار ہے، اسی سبب کوشش کی گئی کہ مسٹر ہولسٹر نے کتاب”شیعیان ہند” جیسے لکھی ہے، اس کو من و عن اردو قارئین کے لیے ویسا ہی پیش کردیا جائے۔ پس کتاب کے تمام مندرجات سے نہ مترجم کو متفق سمجھاجائے اور نہ ادارے کو۔
اس مقالے میں مسٹر ہالسٹر نہایت تفصیل کے ساتھ نہ صرف شیعیت کے عقائد و نظریات سے بحث کرتے ہیں بلکہ ہندوستان میں شیعوں کی آمد اور ہندوستانی اور ایرانی حکمرانوں کے مابین شیعیت کو لے کر جو کچھ تعلقات رہے اور مراحل گزرے ہیں، ان پر بھی مسٹر ہولسٹر نہایت سیرِ حاصل بحث کرتے ہیں۔ یہ کتاب اثناء عشریہ شیعوں کے ساتھ ساتھ اسماعیلی شیعوں جیسے داؤدی بوہرہ اور آغا خانیوں کے حالات اور نظامِ فرق پر بھی عمدہ روشنی ڈالتی ہے۔
گرچہ مسٹر ہالسٹر نے اس مقالے کی تالیف و تدوین میں زیادہ تر شیعیت پر لکھے ثانوی ماخذ سے استفادہ کیا ہے لیکن جن حضرات کی شیعیت کے بنیادی ماخذ پر گہری نظر ہے، ان سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ مسٹر ہالسٹر نے ثانوی ماخذ کے تحت جو کچھ نقل کیا ہے، ان سب کی تائید شیعیت پر لکھی بنیادی کتب اور ماخذ و مصدر سے ہوجاتی ہے۔
فیس بک کے نہایت قابل و محترم اور وسیع المطالعہ بزرگ مشتاق احمد صاحب نے کچھ چار پانچ سال قبل اس کتاب کے اردو ترجمہ کی بابت توجہ کروائی تھی جبکہ علامہ محمود احمد عباسیؒ کی شائع کردہ کتاب “وقائع دلپذیر ۔ بادشاہ بیگم اودھ” مولف عبدالاحد رابط میں علامہ عباسی نے مسٹر ہالسٹر کی کتاب کے کئی اقتباسات حواشی میں نقل کیے تھے جن سے اس کتاب کی افادیت کا اندازہ ہوتا تھا۔ پس یہ وہ دو اسباب تھے جو اس کتاب کے اردو ترجمے کے اصل محرک بنے۔
ابتداً اس کتاب کے ترجمہ کے لیے فیس بک کے رفیق مہر محمد ندیم صاحب کے توسط سے سرمد بلال صاحب کی خدمات لی گئیں اور سرمد بلال صاحب نے نہایت جانفشانی اور تندہی سے کتاب کا ترجمہ مکمل بھی کردیا لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی وجہ سے اس ترجمہ کی نظر ثانی کا کام التواء کا شکار ہوگیا اور ترجمہ شدہ رجسٹر ہنوز پڑے رہ گئے۔ بعد ازاں ریحان عمر صاحب نے اس کتاب کے ترجمے کی ذمہ داری لے کر نہایت سرعت کے ساتھ محض چند ماہ میں اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا جس پر “دودھ کا جلا چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے “کے مصداق ہم نے بھی فی الفور نظر ثانی کا کام شروع کرکے کتاب کو پریس کے لیے روانہ کردیا کہ کہیں سرمد بلال صاحب کے کئے ترجمے کی طرح یہ ترجمہ بھی ہماری غفلت و سستی کے سبب پڑا ہی نہ رہ جائے۔






