Web Analytics Made Easy - StatCounter
Seerat Rasool e Islam Dr Hameedullah

سیرت رسول اسلام ڈاکٹر حمید اللہ

کتابِ سیرت: شادم از زندگیِ خویش۔۔۔۔۔۔۔

ذکی الرحمٰن غازی مدنی
جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ

شاعر نے کہا ہے اور خوب کہا:

کاش میری ناکامی میرے کام آجائے
نبیؐ کے غلاموں میں ، میرا نام آجائے
پیش کر محبت کا تحفۂ درود اُن(ﷺ) پر
جب زبان پر تیری، ان کا نام آجائے

اعتماد ویقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ہر فردِ ملت چاہے اس کی ایمانی ودینی حالت جیسی بھی ہو؛ اس کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفیﷺ کے ادنیٰ غلاموں اور خادموں کی فہرست میں اس کا نام شامل ہوجائے۔ قلم وقرطاس سے شناسائی وآشنائی رکھنے والا ہر مسلمان آرزومند ہوتا ہے کہ اللہ کے نبیﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور حیاتِ طبیہ کے بارے میں کچھ سطریں لکھ کر اپنی وفاداری وجاں نثاری،چاکری وغلامی اور ممنونیت وسپاس مندی کا اذعان واقرار کرے اور آس لگائے کہ یہ آڑھی ترچھی لکیریں آخرت میں اس کے لیے توشۂ سفر اور زادِ راہ ثابت ہوں گی اور ربِ کریم کی نگاہِ فضل وکرم کے التفات کا سبب بنیں گی۔

عاجز راقم کی بھی یہی دیرینہ تمنا تھی جس کی تکمیل اللہ جل شانہ کے انعام واحسان سے اس شکل میں آج ہوئی اور ایک عظیم المرتبت کتابِ سیرت کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔اللّٰہم لک الحمد حمداً کثیرا طیّبا مبارکا فیہ، ربِّ لا أحصی ثناء علیک، أنت کما أثنیت علی نفسک، لک الشکر ولک الحمد ،لا إلٰہ إلا أنت، أنت المستعان وعلیک التُّکْلان وبیدک الخیر کلہ۔

حــاصـــلِ عُـــمـــر، نثــــارِ رہِ یارے کــردم
شادم از زندگیِ خویش کہ کارے کردم

(میں نے زندگی بھر کی کمائی اپنے محبوب کی راہ میں نچھاور کر دی, اور اب سوچ کر خوش ہوں کہ الحمد للّہ میں نے کوئی کام کیا ہے۔ )

تقریباً تمام عالمی وعلاقائی زبانوں میں کتبِ سیرت کم وبیش موجود ہیں۔ اردو لٹریچر میں سیرت کی کتابوں کا بڑا سرمایہ فراہم ہے۔ عقیدت ومحبت میں افزائش کے لیے اور سرسری طور سے واقعاتِ سیرتِ مبارکہ سے واقفیت کے لیے ان میں سے ہر کتاب -انشاء اللہ- سود مند اور مفید ثابت ہوگی۔تاہم معدودے چند کتابیں ہیں جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ خاص طور سے علمی ذوق اور تحقیقی مزاج رکھنے والوں کے لیے لکھی گئی ہیں۔ اردو زبان میں سیرت پر اس نوعیت کی اہم کتابوں میں ایک وقیع اضافہ یہ زیرِ نظر کتاب ہے۔ اس کی قدروقیمت کی کما حقہ تفہیم اورتوقیع شاید اُن خوانندگانِ کرام کے لیے زیادہ ممکن ہوگی جو پہلے سے کافی کچھ سیرت لٹریچرکا مطالعہ کر چکے ہیں اور انھیں بارگاہِ ایزدی سے علمی افتاد اورتحقیقی ذہن عطا ہوا ہے۔ عام قارئین بھی بہ قدرِ ظرف وامکان کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں، تاہم راقم عاجز کا مشورہ یہی ہے کہ اسے پڑھنے سے پہلے کم از کم سیرتِ پاک پر لکھی گئی کسی ایک کتاب کا مطالعہ کر لیا جائے تو اچھا ہوگا۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ علیہ الرحمہ نے دو جلدوں میں فرانسیسی زبان میں سیرتِ پاک پر ایک ضخیم کتاب لکھی تھی جس کا مکمل ترجمہ فی الوقت قارئین کے سامنے ہے۔ اس کے پہلے حصے میں نبیِ کریمﷺ کی ابتدائی زندگی، مقاصدِ بعثت اور سیاسی ومذہبی معاملات اور واقعات کا تذکرہ ہے۔اور دوسری جلد میں آپﷺ کی تعلیمات اور پیغام، عہدِ نبوی کے معاشی اور سماجی حالات ومعاملات پر سیرحاصل گفتگو کی گئی ہے۔ تبلیغ واشاعتِ اسلام کے تناظر میں مختلف قبائل کے کردار پر بحث اس کتاب کا اہم حصہ ہے۔

مصنف علیہ الرحمہ نے سیرتِ پاک پر نسبتاً مختصر ایک کتاب انگریزی زبان میں بہ عنوان ’’Muhammad Rasulullah: Concise Survey of the Life and Work of the Founder of Islam‘‘ لکھی تھی جس کا ترجمہ پروفیسر خالد پرویز صاحب نے اردو میں بہ عنوان ’’محمد رسول اللہﷺ‘‘ کیا ہے۔اس ترجمے میں چند درچندتسامحات ہیں۔ اسی وجہ سے جناب منور علی قریشی صاحب نے دوبارہ اس کا ترجمہ ’’سیرتِ محسنِ انسانیتﷺ‘‘ کے نام سے کیا ہے جو طبع شدہ ہے۔

یہاں ذہن میں صاف رہنا چاہیے کہ زیرِ نظر ترجمہ ڈاکٹر حمید اللہ -علیہ الرحمہ-کی فرانسیسی کتابِ سیرت سے متعلق ہے، نہ کہ انگریزی کتابِ سیرت سے۔فرانسیسی کتاب کا حجم انگریزی کتاب سے لگ بھگ پانچ گنا زیادہ ہے۔ ترجمۂ ہذا براہِ راست فرانسیسی زبان سے ہوا ہے۔ اصل کتاب کے کسی عربی یا انگریزی ترجمے کا علم مجھے جستجوئے بسیار کے باوجود نہیں ہوسکا۔ ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ کی حیات وخدمات پر لکھی گئی کتابوں اور مقالوں میں بھی کسی صاحبِ علم نے میری ناقص معلومات کی حد تک کسی مطبوعہ عربی یا انگریزی ترجمے کا تذکرہ یا اشارہ نہیں کیا۔پڑوسی ملک کی ایک علم دوست شخصیت نے بتایا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے متعلق کتاب کے ابتدائی حصے کا انگریزی ترجمہ کیا تھا،مگر مجھے کوشش کے بعد بھی وہ نہیں ملا۔وکی پیڈیا پر ڈاکٹر غازیؒ صاحب کے انگریزی تراجم کی فہرست میں یہ ترجمہ ’’The Life and Work of the Prophet of Islam‘‘کے نام سے مذکور ہے،مگر مطبوعہ شکل میں یہ دکھائی نہیں دیا اور نہ اس کی سافٹ کاپی ہی مل پائی۔ البتہ تکمیل کے بعد یہ ترجمہ بالاستیعاب مطالعے کے لیے عزیزِ مکرم مولانا انس مدنی صاحب کو دیا گیا تو انھوں نے برادر عبید اللہ طاہر فلاحی مدنی صاحب کے ساتھ یا ان کی مدد سے یہ انگریزی ترجمہ ڈھونڈ نکالا۔ مگر یہ انگریزی ترجمہ بھی نصف کتاب تک ہے اور عرضِ مترجم میں ڈاکٹر محمود غازی صاحب نے اعتراف کیا ہے کہ ایک ترکی الاصل صاحب علم کے انگریزی ترجمے کی ایڈیٹنگ ہے جس پر کافی محنت خود ڈاکٹر غازی نے کی ہے۔

مصنف علیہ الرحمہ نے فرانسیسی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کے مقدمے میں لکھا تو تھا کہ بعض بھائیوں نے اس کتاب کو اردو، عربی اور انگریزی زبانوں میں منتقل کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ مگر خود مصنف علیہ الرحمہ کا احساس اور تاثر ہے کہ شاید لوگ تھک ہار کر بیٹھ گئے اور کام مکمل نہیں ہوا۔ اصل فرانسیسی کتاب کا ایک ادھورا اردو ترجمہ ہوا ہے جس کا مختصر تنقیدی جائزہ ہم آئندہ اقساط میں مترجمِ کتابِ ہذا کے پیشِ لفظ کے زیرِ عنوان لیں گے۔ پہلی اور بڑی وجہ تو یہی ہے کہ پیشرو اردو ترجمہ تقریباً نصف کتاب پر رک گیا ہے اور بے شمار اغلاط وتسامحات پر مشتمل ہے اور غالب گمان ہے کہ وہ ڈاکٹر محمود غازی کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login