سخن ہائے دل”
(کتابے کہ مضمون ہائے او مثال ہائے “از دل خیزد بر دل ریزد” اند، باز بہ قراطیس و قلم شگفتہ بودہ نکہت آفرینی می کنند، الفاظِ او از دہانِ پاک یکی از علماء صالحین اند، وقلمی کہ آنہا را نگارش کردہ، در دستِ یکی از زملاءِ من بود)
بقلم: مبین احمد اعظمی ندوی
رفیقِ محترم جناب مولانا محمد سلمان بجنوری ندوی بڑے ہی موفق اور موہوب شخص ہیں، چشمِ بد دور صاف محسوس ہوتا ہے کہ توفیقِ ایزدی ہمہ وقت ان پر سایہ فگن رہتی ہے، میری خوش بختی ہے کہ وہ میرے زمیلِ درس بھی ہیں، زمیلِ تدریس بھی ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے اور خیر خواہ دوست بھی۔ ان سے میری رفاقت بیس سال سے بھی زیادہ پرانی ہے، اور یہ تاثرات اسی کہنگئ تعلق اور مشاہدے کی بنا پر ہیں، جن میں نہ مبالغہ آرائی ہے، نہ دروغ آمیزی ہے، اور نہ ہی کسی قسم کی بے جا ستائش۔
تعلیم وتعلم کے ساتھ ساتھ سلمان بھائی بلا جھجھک اور کسی چیز کی پرواہ کیے بغیر ہمیشہ اساتذہ کی خدمت میں لگے رہے، یاد آتا ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں بعض مختلف الخیال ساتھی اساتذہ کی خدمت میں لگے رہنے کو نادانی میں “پوّا بازی” سے تعبیر کر بیٹھتے تھے، ع
انہیں دیکھے کوئی میری نظر سے
شعر:
ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے
اس طرح کی باتیں ان تک یقیناً پہنچتی ہوں گی، لیکن ان کی ہمت کو داد دیجئے اور حوصلے کو سلام کیجئے کہ وہ اس کے باوجود اساتذہ کرام کی خدمت کرتے رہے اور اس کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے رہے،
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ، حضرت مولانا برہان الدین صاحب سنبھلی رحمہ اللہ اور حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی اطال اللہ بقاءہ سب کی خوب خدمت کی، ان کی دعائیں لیں، اور ان کے چشمۂ علم وادب سے سیراب ہوتے رہے۔
سلمان بھائی کی ایک عادت جو شاید انہیں اپنے تمام ساتھیوں سے ممتاز کرتی ہے یہ رہی ہے کہ وہ کئی اساتذہ کرام کی باتیں خاموشی سے لکھتے رہتے تھے، اور بعد میں کبھی مجھ سے اور کبھی کسی اور ساتھی سے ان باتوں کا تذکرہ بھی کرتے تھے۔ اس طرح ان کی تالیفی خدمات کا ایک معتد بہ حصہ اسی نوع کی سعی مسلسل اور جہد پیہم کا نتیجہ ہے۔ اور “سخن ہائے دل” تو گویا اب تک کی ان کی تالیفات میں ایک بہترین علمی وادبی اور فکری وفنی شاہکار ہے، جس میں استاد گرامی حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی اطال اللہ بقاءہ کی زندگی اور ان کے سرمایۂ علم وادب اور فکر وفن کا گویا نچوڑ آگیا ہے۔ سلمان بھائی نے اس کتاب میں استادِ محترم کے ملفوظات اس قدر دیدہ ریزی اور محنت سے جمع کیے ہیں کہ یہ کہنے میں ذرا بھی مبالغہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کام سلمان بھائی ہی کے بس کی بات تھی۔
ویں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
“سخن ہائے دل” ملفوظات کا ایک مجموعہ ہی نہیں بلکہ اپنے وقت کی ایک عظیم المرتبت شخصیت کے علم وخیال اور فکر وفن کا ایک مکمل دائرۃ المعارف ہے، ابواب کے تنوع، موضوعات کی رنگا رنگی، افکار کی ہمہ گیری، اور علم وادب کی وسعت وجامعیت کے ساتھ ساتھ حضرۃ الاستاذ کے اخلاص وعمل کے بعض وہ پہلو بھی اس میں آگئے ہیں جو شاید قریب ترین لوگوں سے بھی اب تک مخفی رہے ہوں گے۔ جس کا اندازہ اس کتاب کے مطالعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ شیخ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ نے اپنی مشہور ومعروف کتاب بوستاں میں “سبب نظم کتاب” کے عنوان سے جو اشعار کہے ہیں ان کے درج ذیل چند ابتدائی اشعار “سخن ہائے دل” پر بھی صادق آتے ہیں، ان اشعار کو صاحبِ ملفوظات کی طرف سے خیال کر کے پڑھا جائے تو ان میں “سخن ہائے دل” کا عکس نظر آئے گا اور صاف طور پر محسوس ہوگا کہ صاحبِ ملفوظات کا سراپا اس عکس میں ڈوبا ہوا ہے:
در اقصای عالم بگشتم بسی
به سر بردم ایام با هر کسی
تمتع به هر گوشهای یافتم
ز هر خرمنی خوشهای یافتم
چو پاکان شیراز، خاکی نهاد
ندیدم، که رحمت بر این خاک باد
تولّای مردان این پاک بوم
برانگیختم خاطر از شام و روم
دریغ آمدم زآن همه بوستان
تهیدست رفتن سوی دوستان
به دل گفتم از مصر قند آورند
برِ دوستان ارمغانی برند
مرا گر تهی بود از آن قند، دست
سخن های شیرینتر از قند هست
نه قندی که مردم به صورت خورند
که ارباب معنی به کاغذ برند
چو این کاخ دولت بپرداختم
بر او دَه در از تربیت ساختم
پوری کتاب سات سو صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں درج ذیل ابواب ہیں:
باب اول: قرآنیات
باب دوم: اصلاحیات
باب سوم: شخصیات
باب چہارم: ادبیات
باب پنجم: سیاسیات
باب ششم: متفرقات
باب ہفتم: قیمتی پند و نصائح
باب ہشتم: ذاتی احوال و کوائف۔






