Web Analytics Made Easy - StatCounter
Dastan e Natamam

سوانح مولانا نظام الدین اسیرادروی

داستان ناتمام

حضرت مولانا نظام الدین اسیرادروی لکھتے ہیں کہ جب اپ تیز رفتار ٹرین میں سفر کرتے ہیں تو کھڑکی کے باہر جتنے بھی خوشنما منظر دیکھتے ہیں وہ فورا کچھ دیر میں ہی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں ؛ کیونکہ ٹرین میلوں دور چلی گئی ہوتی ہے،یہی حال زندگی کا ہے،اس کی منزل آخرت ہے،سفر آرام کے لیے نہیں ؛ بلکہ منزل مقصود تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتی ہے،اسی طرح کاروان حیات بھی منزل تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتی ہے،مولانا اپنی زندگی کا سفرنامہ لکھا ہے،جوکہ ناتمام ہی ہوگا، اس کا آخری باب وہ نہیں لکھ سکیں گے ؛ اس لیے کہ تب تک قلم ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر چکا ہوگا؛ کیونکہ اس وقت تک ان کے انکھوں کی روشنی رخصت ہو چکی ہوگی۔

خاندان اور تعلیمی زندگی :
آپ کی پیدائش ۱۹۲۶ء میں ہوئی،والد کا نام شیخ عبد الکریم ہے،جو بڑے مذہبی تھے،ان کے گاؤں میں بدعات رائج تھی،ان کے بچپن میں ایک مناظرہ ہوا جو ۳ دن چلا اور پھر چوتھے دن پولس نے بند کروا دیا تھا ، یہ والدین کے پاس عم پارہ اور الم کا پارہ پڑھے،پھر ادری کے مدرسہ فیض الغرباء میں گئے،وہیں قرآن ختم کیا،دیوبندی اور بریلوی اختلاف کی وجہ سے یہ مدرسہ ٹوٹ گیا،۹ سال کی عمر میں مفتاح العلوم مئو میں داخل ہوئے، وہاں انہوں نے فارسی کے استاذ منشی ظہیر الحق صاحب سے اخلاق محسنی، یوسف زلیخا، سکندر نامہ اور انوار سہیلی پڑھی، شفیق استاذ مولوی محمد یحیی صاحب سے میزان منشعب، نحومیر، پنج گنج، فضول اکبری اور علم الصغہ وغیرہ پڑھی، منطق کے ماہر عبداللطیف صاحب نعمانی سے شرح تہذیب پڑھی،جن کے صحیح مشورے سے ایک مرتبہ فساد سے بچ کر صلح ہوا، ہاں ان کے چوتھے استاذ حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی تھے،اس وقت مولانا ایوب صاحب ناظم تھے، وہاں چار سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے اور غازی پور کے مدرسہ چشمہ رحمت میں پہنچے، مگر وہ مدرسہ بند تھا پھر وہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پیدل سید پور پہنچے پھر وہاں ایک ادمی نے ان کی مدد کی پھر کیسے کیسے کر کے مدرسہ حنفیہ جونپور پہنچے، مشکاۃ اور ہدایہ کی جماعت میں شریک ہوئے، مشکاۃ مولانا فرنگی محلی سے متعلق تھی، شفیق جونپوری کے گھر میں قوالی کی محفل میں شریک ہوئے،انہوں نے یہاں خوب مستی کی،پھر اگلے سال احیاء العلوم مبارک پور چلے گئے،مولانا شکر اللہ کا وہاں قائدانہ کردار تھا،مفتی محمد یاسین،مولانا عمر صاحب مظاہری،مولانا بشیر احمد صاحب مظاہری وغیرہ سے علم حاصل کیا،اس سال شعر و شاعری بھی زیادہ کرنے لگے،وہاں کی دو سالہ زندگی میں انہیں علمی اعتبار سے بہت فائدہ ہوا،مطالعہ کا چسکا بھی یہیں پڑا،اس سال لائبریری سے بنا اسباق چھوڑے نوے ہزار صفحات پڑھ ڈالے،پھر دارالعلوم مئو میں امتحان دے کر داخلہ لیا،جلالین قاری ریاست علی صاحب کے پاس پڑھی،مشکوة کے استاذ عبد الرشید الحسینی تھے،بعد میں انہیں بدل کر مولانا نظام الدین صاحب کو دیا گیا،پھر ان سے بھی لے لیا گیا،جس کی وجہ حضرت کا سوال تھا جس کا جواب وہ نہ دے سکے،سزا کے طور پر ان کا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا،اسٹرائک کروائی،پھر ان کا اخراج ہو گیا،دارالعلوم دیوبند آئے،مگر کسی خارجی وجہ سے داخلہ نہیں ہوا تو شاہی مرادآباد چلے گئے،جہاں دورہ حدیث میں داخلہ لیا، بخاری شریف سید فخر الدین احمد صاحب سے پڑھی،۱۹۴۲ والی تحریک بھی عمل میں آئی، جس کی چنگاری مولانا محمد میاں دیوبندی صاحب نے لگائی تھی،اس سال صرف فارغ ہونے والوں کا امتحان ہوا۔

آپ کی دو شادیاں ہوئی،پہلی کے انتقال کے بعد دوسری کی اور دوسری کے مجنوں ہونے بعد تیسری،۱۹۹۵ء میں تیسری بیوی کے وفات پر ان بہت غم ہوا تھا تب انہیں سمجھ میں آیا کہ بیوی کو شریک زندگی اور شریک حیات کیوں کہتے ہیں۔

انہوں نے اپنے لاہور کے سفر کی داستاں بھی تحریر کی ہے ،وہاں سے آنے کے بعد مقامی مدرسے کی نظامت ملی،وہاں کئی مسائل کو حل کیا،سیاسی سرگرمیاں بھی ،فراغت کے بعد سیاست کی خارزار وادیوں میں ایک لمبی مدت گزاری، جنگ آزادی کے بعد ایک سال تک کانگریس میں رہے،ان تمام پریشانیوں کو جھیلا جب ایک ملک تقسیم ہوتا ہے،ایک شخص کی مسلم بادشاہ کو ظالم بتانے والی تقریر کے جواب میں انہوں نے ایک تاریخی اور ولولہ انگیز تقریر کی ،جس کے بعد انہیں اسٹینڈنگ اویشن ملا،اس تقریر سے ان کی کافی شہرت ہو گئی،زمینداری ایکٹ سے مسلمانوں کو کافی نقصان ہوا،۱۹۵۲ میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کیا جس میں تمام بڑے بڑے علماء کو بلایا گیا،۱۹۵۴ میں اپنا مدرسہ دارالسلام کھولا،اپنے جگری دوست مولانا محمد قاسمی کو ناظم بنایا،جنہوں نے پورا حق ادا کر دیا،پھر ان کے انتقال کے بعد مدرسہ کو الہ آباد بورڈ سے ملحق کر دیا،۱۹۷۲ء میں آپ کو صوبائی جمعیت علماء ہند کے دفتر کا انچارج بنایا گیا،جس کے لیے چار برس لکھنو میں رہے ،وہاں کئی کارنامے انجام دیے،سیمینار منعقد کروایا جس کا چندہ وزیر اعلی ہیم وتی نندن سے بھی لیا،اس پروگرام کی وجہ سے بیت سے لوگوں سے تعارف ہوا،پھر ایک اور کامیاب سیمینار کیا،دفتر کی تعمیر نو میں دقت پیش آئی تو چیف منسٹر سے حل کروایا،دفتر کو بھوت کے ڈھیر سے شاندار عمارت میں منتقل کروایا،تیس پینتیس ضلعوں میں جمعیت علماء کو بیدار کیا،۲۹ قتل کے بےقصور ملزموں کو رہائی دلوائی، اترپریش وقف بورڈ کا ممبر منتخب کیا گیا،مولانا مدنی کے بیان پر ہنگامہ اور ان کو راجیہ سبھا کی ممبری انہیں دنوں چھوڑنی پڑی تھی،کئی معاملات کو ٹھیک کیا،جمعیت کے مرکزی دفتر کے ریکارڈ کی ترتیب کی ذمہ داری انہیں سے منسلک کی، لکھنو کے دفتر سے ان کو یہ تجربہ ہوا کہ اجتماعی زندگی سے وابستہ لوگ اس لیے ہمیشہ ناکام رہے کہ ساری زندگی جماعت پر لٹا دی اور فاقہ مستیوں کی زندگی گزار کر عبرت ناک موت پائے اس کے مقابلے میں وہ ہمیشہ کامیاب رہے جو تملق چاپلوسی خوشامد اور زبانی جمع خرچ کے ماہر تھے، لکھنو دفتر سے انہیں یہی سبق ملا،لکھنو سے اپنے وطن ادری واپس آ گئے، ایک صبح مولانا عبدالمتین صاحب قاسمی بنارسی تشریف لائے اور ان کو بنارس لے گئے،جامعہ اسلامیہ بنارس میں رہنے کی درخواست کی،اس کتاب کی تحریر تک وہاں رہتے ہوئے ۱۶ سال مکمل ہو چکے ہیں،وہاں تدریسی خدمات انجام دی ہیں،ملک و ملت بچاؤ تحریک میں بھی ایک اہم کردار کی حیثیت سے رہے، دارالعلوم کے صد سالہ اجلاس میں وفاق کی طرف سے وفاق کی کارگزاریوں اور طریقے کار پر ایک کتابچہ ان سے مرتب کرایا گیا اور طبع کراکے اس جشن صد سالہ میں تقسیم کیا گیا،۱۹۸۶ء میں وہاں سے ریٹائر ہو گئے،یہاں انہیں بہت ذہنی سکون ملا،
چار مسودے تیار کیے تھے جو گم ہو گئے : (۱) غداران وطن (۲) کمیونزم گھرنا کی کسوٹی پر (۳) نشیب و فراز (۴)روداد قفص،

ان کی تصانیف یہ ہیں (۱) ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار (۲) تفسیروں میں اسرائیلی روایات (۳) تاریخ جمیعت علماء ہند (۴) مآثر شیخ الاسلام (۵)فن اسماء الرجال (۶) تاریخ طبری کا تحقیقی مطالعہ (۷) تحریک آزادی ہند اور مسلمان (۸) (۹)شرح دیوان متنبی (۱۰)دارالعلوم دیوبند احیاء اسلام کی عظیم تحریک (۱۰)معجم رجال بخاری (۱۱)دبستان دیوبند کی علمی خدمات (۱۲)کاروان رفتہ (۱۳)مولانا قاسم نانوتوی حیات اور کارنامے (۱۴)مختصر تاریخ اسلام (۱۵)گلزار تعلیم(اس کے علاوہ ان کی اور بھی کتابیں آئی ہیں جیسے افکار عالم وغیرہ، ان کی وفات پر حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے تعزیت پیش کیا تھا)
آیت اللہ اعجازی دربھنگہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login