Web Analytics Made Easy -
StatCounter

حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ

حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ

حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ

نام کتاب: حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ
مرتب: محمد اویس سنبھلی

پیش نظر کتاب ’’ حفیظؔ نعمانی : ایک عہد ۔ ایک تاریخ‘‘معروف صحافی حفیظ نعمانی کی حیات وخدمات ، ان کے صحافتی کارناموں اور ان کی گوناگوں شخصیت پر ان کے معاصر ادیبوں ، صحافیوں ، قلمکاروں اور دانشوروں کے مضامین وتاثرات کا مجموعہ ہے ، جسے ان کے لائق بھانجے محمد اویس سنبھلی نے مرتب کرکے ایک تاریخی دستاویز تیارکردی ہے۔

حفیظ نعمانی ( و: 1930ء ۔م: 8؍ دسمبر 2019ء) مشہورزمانہ عالم ربانی ،داعی کبیرو حامی سنت مولانا محمد منظور نعمانی کے دوسرے صاحبزادے تھے ، مولانا نعمانی کے دو صاحبزادوں نے ادبی وصحافتی دنیا میں بہت شہرت پائی ۔ ان میں سے ایک مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی ہیں جو ایک عرصہ تک الفرقان کے مدیر رہے اوربہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں، دوسرے یہی حفیظ نعمانی جو ان کے چھوٹے بھائی ہیں ۔ میں اس کتاب کے مطالعہ سے پہلے صرف حفیظ نعمانی کے نام سے واقف تھا، علمی وادبی اور صحافتی دنیا میں ان کا کیا مقام ہے، اس سے یکسر ناواقف تھا ۔ اویس سنبھلی صاحب کا بے حدممنون ہوں کہ انھوں نے یہ کتاب عنایت کی جس سے حفیظ نعمانی کو پڑھنے اور ان کو سمجھنے کا موقع ملا اور اس مرد حق آگاہ کے مقام ومرتبہ سے آگاہی ہوئی۔

حفیظ صاحب، برصغیر ہندو پاک کی اردو صحافت وادب کے افق پر ایک روشن آفتاب تھے۔ ان کا تعلق سنبھل کی تاریخی سرزمین سے تھا جو ہر دور میں علمی وادبی سرگرمیوں اور دینی تحریکوں کا مرکز رہی ہے، میں اس سلسلۂ تعارف کی قسط نمبر 48 میں ’’ بندۂ مومن ‘‘ کے تعارف میں اس سرزمین کے بارے میں اظہار خیال کرچکا ہوں۔ حفیظ نعمانی کا خاندانی پس منظر بھی ایک دینی وتاریخی کردار رکھتا ہے ۔ حفیظ نعمانی کے بارے میں کہنا چاہئے کہ وہ صحافت وادب کی آغوش میں پروان چڑھے ہیں ، جب ان کی عمر دو ڈھائی سال تھی اس وقت ان کے والد مولانا منظور نعمانی نے اپنا مشہور زمانہ رسالہ ’’ الفرقان ‘‘ نکالا۔ بچپن ہی سے ملک کے اہم رسالے حفیظ صاحب کی نگاہ میں رہے اور والد گرامی کی وجہ سے ملک کے ممتاز علماء وادباء اور دانشوروں سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کا موقع ملا۔ ان سب چیزوں کا  ان کی شخصیت کی تعمیر میں ایک حصہ ہے جیسا کہ انھوں نے لکھا ہے۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ مصباح العلوم بریلی میں مولانا عبدالحفیظ بلِیاوی (صاحب مصباح اللغات ) اور مولانا جلیل احسن ندوی جیسے ماہرین فن اساتذہ سے حاصل کی، یہاں سے مولانا علی میاں ندوی کی ایما پر ندوہ گئے جہاں دوسال تعلیم حاصل کرنے کے بعد دیوبند گئے جہاں وہ مولانا اعزاز علی صاحب کی خصوصی نگرانی وتربیت میں رہے، وہاں بھی تقریباً دوسال رہے اور بیماری کی وجہ سے گھر واپس آگئے ، اس کے بعد بعض حالات کی بنا پرالفرقان میں اپنے والد ماجد کی معاونت کرنے لگے۔ اس وقت ان کے والد ماجد نے ایک قیمتی نصیحت کی تھی جو آب زر سے لکھنے کے لائق ہے ، مولانا منظور نعمانی نے ان سے کہا

’’ تم جتنا خود پڑھو گے اس سے بہت زیادہ بن سکتے ہو ۔ بس اس کا خیال رکھنا کہ بک ڈپو میں جتنی کتابیں فرصت میں سب کو ہی پڑھ لینا ، اور زندگی میں جتنا پڑھوگے وہی کام آئے گا ۔‘‘ص: ۴۷)

اردو صحافت میں ایک تاریخ رقم کرنے والے حفیظ نعمانی کے ہم عصر ادیبوں نے ان کو جس بلند القاب سے یاد کیا ہے وہ ان کا صحیح تعارف ہے ۔ مولانا عبد العلی فاروقی ان کو ’’بے باک وبے لوث اور باوزن صحافی وتجزیہ نگار ‘‘ قرار دیتے ہیں ، اور لکھتے ہیں کہ ’’ حالات حاضرہ پر جتنی گہری نظر رہتی اسے اپنے قارئین کے سامنے پیش کرنے کا اس سے بڑھ کر سلیقہ تھا ‘‘۔ پروفیسر جمال نصرت نے ان کو صحافت کا ’’ کوہ نور ‘‘ لکھا ، تو ڈاکٹر جبار علی رضوان انصاری نے ’’ آبروئے صحافت ‘‘ گردانا۔ کسی نے کلدیپ نیر کے ہم پلہ صحافی قرار دیا۔ حکیم وسیم احمد اعظمی نے ’’ قلم کا سپاہی اور مجاہد ‘‘ بتایا ،اور لکھا کہ’’ ان کے قلم میں نہ تو مصلحت تھی اور نہ ہی مصالحت ‘‘۔ بزرگ صحافی پروفیسر شارب ردولوی نے ان کو ’’ ایمانداری ، نیک نیتی اور خلوص ومحبت کا نمائندہ ‘‘ لکھا ۔

حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک بے باک وبے لاگ، جرأت مند وحق گو اور مخلص ودیانتدار صحافی تھے ، انھوں نے مشکل سے مشکل حالات میں نہ قلم کا سودا کیا ، نہ ہی اپنے ضمیر کے خلاف کوئی بات لکھی ،نہ زرد صحافت اختیار کی ۔ ان کی صحافت میں اسلامی غیرت ، دینی حمیت اور ملی درد مندی وقومی فلاح وبہبود کی روح پائی جاتی ہے ۔ ان کا اپنا ایک اسلوب اور رنگ تھا جس میں برجستگی وشگفتگی ساتھ ساتھ چلتی تھی ، انھوں نے ہمیشہ اپنے قارئین کے ذوق ومعیارکو سامنے رکھ کر وہی بات لکھی جو ان کے دل کی آواز ہوتی تھی ، نتیجتاً وہ دل پر اثر کرتی تھی ۔ ا پنی صاف گوئی وحق پرستی کے باعث قید وبند کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑیں ، مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ، لیکن وہ وہی بات کہتے رہے جسے حق سمجھا ۔ اسی قید وبند کے نتیجہ میں ’’رودادِ قفس‘‘ جیسی داستانِ عزیمت اور ادبی شاہکار وجود میں آیا۔

کتاب ۶؍ ابواب پر مشتمل ہے ، اس کا آغاز مرتب کے پیش نامہ سے ہوتا ہے ، اس کے دو حصے ہیں ۔پہلے حصہ میں حفیظ نعمانی کی زندگی کے اخیر لمحات کا ذکر اور مرتب کتاب کے تئیں ان شفقت ومحبت اور ان کی صحافتی تربیت کی داستان ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نعمانی صاحب صرف ان کے ماموں نہیں بلکہ ایک مشفق مربی ، استاذ اور رہنما بھی تھے ۔ دوسرے حصہ میں اس کتاب کا جامع تعارف ہے ، اس کو پڑھ کرکتاب کے مشمولات سے اجمالاً آگاہی ہوجاتی ہے ۔اس کے بعد مرتب کا دوسرا مضمون’’ حفیظ نعمانی زندگی کے روشن نقوش ‘‘ ہے، جس میں انھوں نے حفیظ صاحب کی زندگی کے مختلف احوال و جہات کا جائزہ لیا ہے ، اورجگہ جگہ ان کی تحریروں کے اقتباسات پیش کئے ہیں جن سے حفیظ کی کہانی خود ان کی زبانی سامنے آتی اور ان کے احوال کے ساتھ ان کے افکار ونظریات سے آگاہی ہوتی ہے۔ ان دونوں مضامین سے زبان وبیان پرمرتب کی قدرت ودسترس کا اندازہ ہوتا ہے۔

کتاب کا پہلا باب’’ حفیظ نعمانی گھر والوں کی نظر میں ‘‘ ہے ۔ اس باب کا آغاز حسان نعمانی کے مضمون ’’ہمارے ابو صاحب : کچھ یادیں ‘‘ سے ہوتا ہے ، عنوان میں ابو صاحب دیکھ کر حیرت کا ایک جھٹکا لگا ، کہ ان کے بھائی ابو صاحب کیسے ہوگئے ؟ مضمون پڑھ کر یہ حیرت دور ہوگئی کہ اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے تئیں ایسی غیر معمولی شفقت ومحبت تھی کہ یہ بچے باپ کو موجودگی میں ان کو ’’ ابو صاحب ‘‘ کہنے لگے۔ دوسرا مضمون مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کے ۱۰۰؍ صفحات پر مشتمل اس طویل مضمون کی تلخیص ہے جو الفرقان کی خصوصی اشاعت کے لئے لکھا گیا تھا ، یہ مضمون خاص اہمیت کا حامل ہے ، اس سے حفیظ صاحب کی زندگی کے بہت سے گوشوں پر روشنی پڑتی ہے۔ بقیہ مضمون نگاروں میں مرتب کی والدہ یعنی حفیظ صاحب کی بہن حمیرا تسنیم ، بیٹے شمعون نعمانی ،اور بھتیجی ریحانہ شمیم ہیں۔ اس باب کا آخری مضمون’’ حفیظ نعمانی اور سنبھل‘‘ سعد نعمانی کا ہے ، جس سے حفیظ کی جرأت وہوش مندی اور سلیقۂ گفتگو کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ مضمون ان کے آبائی وطن سنبھل کی زندگی کا احاطہ کرتا ہے جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے۔

دوسرا باب ’’ حفیظ نعمانی :اربابِ علم وادب کی نظر میں ‘‘ ہے ۔اس میں ۳۳؍ اہل قلم کے مضامین ہیں ۔ ان میں پروفیسر شارب ردولوی، چودھری شرف الدین ، ڈاکٹر عمار رضوی، مولانا عبدا لعلی فاروقی ، پروفیسر خان محمد عاطف ، ڈاکٹر تابش مہدی،حکیم وسیم احمد اعظمی ، مولانا عبدالمتین منیری ،مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، سہیل انجم ، معصوم مرادآبادی ،انور جلال پوری ، ڈاکٹر عمیر منظراور ڈاکٹر طارق ایوبی وغیرہ نامور اہل قلم شامل ہیں۔

تیسرا باب ’’ اردو صحافت اور حفیظ نعمانی ‘‘ ہے ،جس میں ۸؍ نامور صحافیوں اور اہل قلم نے حفیظ صاحب صحافتی زندگی کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔

چوتھا باب ’’ رودادِ قفس اور حفیظ نعمانی ‘‘ ہے ۔ رودادِ قفس ان کی نوماہی قید وبند کی داستان ہے جو ’’ ندائے ملت ‘‘ میں بیس پچیس قسطوں میں شائع ہوئی ۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی لکھتے ہیں کہ ’’ اس کے لائق مطالعہ ہونے کے لئے صرف اتنی سند کا ذکر کرنا کافی ہے کہ مرحوم محترم مولانا عبدالماجد دریابادی ، قاضی عدیل عباسی اور متعدد اہم بزرگ اس کی کتابی شکل کی فرمائش کرنے والوں میں سے تھے ۔ ‘‘اس باب میں ۸؍ مضامین ہیں جن میں مختلف زاویے اور پیرایۂ سے اس زِندانی داستان کا جائزہ لیا گیا ہے۔

پانچواں باب ’’ بجھے دیوں کی قطار اور حفیظ نعمانی ‘‘ ہے۔ ’’بجھے دیوں کی قطار‘‘ حفیظ صاحب کے خاکوں کا مجموعہ ہے جسے اس کتاب کے مرتب محمد اویس سنبھلی نے ترتیب دیا ہے۔ بقول مولانا شمس تبریز خاں ’’ اس میں سارے مضامین مفید ومعلوماتی اور گہرے نقوش وتاثرات پر مبنی ہیں ،اور ان سے گذشتہ نصف صدی کی ملی سیاست وصحافت اورلکھنؤ کے ادبی ماحول کی جھلکیاں اور چلتی پھرتی تصویریں نظر آتی ہیں ۔ ‘‘اس باب میں ۷؍ مضامین ہیں ۔

چھٹا اور آخری باب ’’ قلم کا سپاہی حفیظ نعمانی ‘‘ ہے ، اس میں اویس سنبھلی کی مرتب کردہ کتاب ’’ قلم کا سپاہی‘‘ پر ۸؍ مقالات ہیں ۔ ,,قلم کے سپاہی،، میں حفیظ صاحب کے مضامین ، ان کی تحریروں پردوسرےاہل قلم کے مضامین اور’’ رودادِ فقس‘‘ و’’بجھے دیوں کی قطار‘‘ پر تبصرے وتاثرات ہیں۔ صفحہ ۵۲۲ سے ۵۵۰ تک انگلش وہندی میں چند مضامین اور ان کے انتقال کی خبروں پر مشتمل کچھ اردو اخبارات کے عکس شامل ہیں ۔

کتاب خریدیں

Hafeez Nomani Ek Ahad Ek Tareekh, حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ

Leave a Reply

Your email address will not be published.