ایمان کی ایک ترازو – Iman Ki EK Tarazu

ہمارا یہ خیال کہ مسلمان نام رکھنے اور مسلمان کے گھر میں پیدا ہوجانے سے آدمی مسلمان اور صاحب ایمان ہوجاتاہے محض رسمی اور رواجی خیا ل ہے، اگر صرف نام رکھنے سے آدمی صاحب ایمان ہوجاتا تو سارے کفار ان قریش اس کے لئے راضی ہوجاتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو اتنی مشکلات اور مخالفتوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا، کفار ان قریش اور دشمنانِ اسلام تو اس حد تک راضی تھے کہ آپ کے دین کی کچھ باتیں ہم مان لیتے ہیں اورآپ ہماری کچھ باتیں مان لیں۔لیکن قرآن حکیم نے ان کے اس فارمولے کو بھی ببانگ دہل رد کردیا اور سورہ کافرون نازل ہوئی جس کے آخر میں صاف اعلان کردیا: لکم دینکم ولی دین، ترجمہ: تمہارے لئے تمہارا دین ہے، ہمارے لئے ہمارا دین۔

ایمان غیر اللہ اور طاغوتی طاقتوں سے انکار کرنے اور اللہ وحدہ لا شریک کی غلامی اور بندگی کے اقرار کا عظیم الشان عہدہے، جس کے بعد بندہ کو اپنی چاہت اوراپنی پسند پر عمل کا اختیار ہی نہیں رہتا، حق یہ ہے کہ اللہ کی کائنات میں رہنے کا حق ہی اہل ایمان کو ہے، اور یہ ایمان گویا کائنات میں رہنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے حق شہریت( نیشنلٹی)کا سر ٹیفکیٹ اور سند ہے،کسی حکومت کی تمام اشیاء سے فائدہ اٹھانے کا حق صرف ملک کے اس وفادار شہری کو ہوتاہے جو اس ملک کے مالک اور حاکم کی حکومت اوروہاں کے رہائش کے قوانین کو بسر وچشم مانتاہے، اس کائنات میں اللہ کی مالکیت اور حاکمیت اور اس کے قانون اسلامی کو ماننے والے کو صاحب ایمان یا مسلمان کہاجاتاہے۔ اس لئے غیر ایمان والا کافر یا مشرک اللہ کی کائنات میں رہنے کا حق نہیں رکھتا، یہ شخص باغی کی حیثیت سے حکومت میں رہ رہاہے، یہ ایمانی سر ٹیفکیٹ اصلی ہونا بھی ضروری ہے، یعنی حکومت کی نگاہ اور اس کے قانون کے مطابق اس کا اصلی ہونا ضروری ہے۔

عالم دنیا سے عالم آخرت کی طرف انسان کو چ کرے گا تو جس طرح کسی ملک کی سرحد یا ائیر پورٹ پر امیگریشن والے پاسپورٹ اور حق شہریت کے سر ٹیفکیٹ کی جانچ کرتے ہیں اور اگر پاسپورٹ نہ ہو یا جعلی اور نقلی ہوتو اس کو بغاوت کے جرم میں انتہائی شدید سزا اور جیل کی سخت سزادی جاتی ہے، اسی طرح مو ت کے چیک پوسٹ پر منکر نکیر(امیگریشن اسٹاف) ایمان کا اور کائنات خدا وندی کا حق شہریت چیک کریں گے، جس کے پاس اصل ایمان ہوگا وہ اپنی دائمی عیش گاہ یعنی جنت میں چلا جائے گا اور جس کے پاس ایمان نہیں ہوگا یا ایمان نقلی یا جعلی ہوگا اس کو ابدی سزا گاہ اور قید خانہ یعنی جہنم رسید کردیا جائے گا۔

موت کا کوئی وقت متعین نہیں، جو سانس اند رچلی گئی اس کے باہر آنے کا اطمینان نہیں اور جو سانس باہر چلی گئی،اس کے اندر جانے کا اطمینان نہیں، اس لئے ضروری ہے کہ انسان جلد از جلداپنے ایمان کی خبرلے اور اپنے ایمان کے بارے میں غور کرے کہ وہ احکم الحاکمین کی بار گاہ میں قابل قبول ہے بھی یا نہیں، اگر وہ نقلی یا جعلی ہوگا تو اور بھی زیادہ قابل گرفت ہوگا۔

دنیا کی معمولی درجہ کی کوئی چیز بھی ہم اصلی اور نقلی کی پرکھ کے بغیر نہیں قبول کرتے اور واقفین اور ماہرین سے رجوع کرتے ہیں، گھی خریدتے ہیں تو پرکھتے ہیں اصلی ہے نقلی تو نہیں، شہد خریدتے ہیں تو دیکھتے ہیں اصلی ہے کہ نہیں، روپئے کے سکے یا نوٹ یا سونا ہر چیز میں ہم لوگ اصلی کی پہچان کرکے قبول کرتے ہیں، تو کیا ایمان جیسی قیمتی شئے کو پرکھنے کی ضرور ت نہیں کہ ہم ہر وقت اس کی نگرانی رکھیں، ہمارے پاس ہے بھی یا نہیں، اصلی ہے یا نقلی، کم ہے یا زیادہ، جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ ایمان بڑھتا بھی ہے گھٹتابھی ہے ۔شیطان اور اس کی جماعت اس پر ڈاکہ ڈالنے کی فکر میں گھر کے بھیدی نفس کے ساتھ مسلسل تاک میں ہے۔

ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدوا۔انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحاب السعیر۔
بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اس کو دشمن بناؤ، وہ اپنی جماعت کو دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنمی ہوجائیں۔
وما ابری نفسی ان النفس لامّارۃ بالسوء
میں اپنے نفس کو بھی بری نہیں سمجھتا بیشک نفس برائیوں کی طرف مائل کرنے والاہے۔

احکم الحاکمین نے اپنے کلام پاک میں،اور اس کے سچے رسول نے ایمان کو پرکھنے اورا صلی اور نقلی کو پرکھنے کے لئے چھوٹے چھوٹے اصول اور ضابطے بیان فرمائے، اس مسلمان کو جس کو موت کے چیک پوسٹ پر ایمان کی چیکنگ اور وہاں کی سزا سے بچ کر آخرت کی راحت کی فکر ہے اس کو سنجیدگی کے ساتھ قرآن وحدیث کے ان پیمانوں میں اپنے ایمان کی جانچ وپر کھ کرنا ضروری ہے ان پیمانوں میں ایک بہت چھوٹا اور آسان پیمانہ پیارے نبی نے یہ ارشاد فرمایا :
لا یومن احدکم حتی یحب لا خیہ ما یحب لنفسہ۔ : تم میں کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتاجب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتاہے۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو معجزات اللہ نے عطافرمائے تھے ان میں ایک یہ تھا کہ آپ کو جوامع الکلم عطا فرمائے یعنی آپ نے ایک چھوٹی سی بات فرمائی اور قیامت تک کے علماء فضلاء اس کی شرح کرتے رہیں گے مگر اس فرمان کے اسرار ومعارف ختم نہیں ہوں گے آپ نے ایمان کی چھوٹی سی پرکھ ارشاد فرمائی، اگر مسلمان اس ترازو میں اپنے ایمان کو تول کر اس کے مطابق کرلیں تو اسلام کا معاشرہ مثالی بن جائے اور ملت کے اکثر مسائل اور انتشار خود بخود ختم ہوجائیں، مخبر صادق نے ارشادفرمایا کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہ پسندنہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتاہے بلکہ ارشاد ہے جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی محبو ب نہ ہو، صرف پسند نہ کرنے سے کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی بلکہ پسند کرنے کے بعد دل اٹک جائے اور دل میں جگہ بنا لینے کو محبت کرنا یا محبوب بنا لینا کہتے ہیں نبی برحق کی عطا کردہ اس ترازو میں اگر ہم اپنے ایمان کو تول کر دیکھیں توہمارا ایمان بالکل کھوٹا اور بود امعلوم ہوتاہے۔

ہماری پوری زندگی شاہد ہے کہ ہم جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہ اپنے بھائی کے لئے پسند نہیں کرتے ہم جس طرح کا معاملہ اور برتاؤ اپنے لئے پسند کرتے ہیں اس طرح کا اپنے بھائی کے لئے ہرگز پسند نہیں کرتے، جب ہم اپنے لئے یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ہمیں گالی دے ،بد کلامی کرے، تو پھر صاحب ایمان ہوکر ہم دوسرے کے ساتھ بدکلامی کیوں کرتے ہیں،جب ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی آدمی ہمارا مال دبائے، ہماری زمین کاٹے تو پھر ہم دوسروں کی زمین دبانا، دوسروں کا مال ہڑپ کرنا کیسے گوارا کرلیتے ہیں، جب ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہماری بہو بیٹی یا بہن کو کوئی بری نظر سے دیکھے توپھر دوسروں کی بہو بیٹیوں کو شہوت کی نگاہ سے تکتے ہوئے شرم کیوں نہیں آتی، ہم اپنے لیے یہ پسند کرتے ہیں کہ لوگ ہمارے سامان یا گھر کی اشیاء کو نقصان نہ پہنچائیں تو پھر صاحب ایمان ہوکر ہم دسروں کے سامان یا گھر کی اشیاء کو کیسے نقصان پہنچاتے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہم سے بدگمانی نہ کریں ہمارے عیوب لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کریں تو دوسروں سے خوش گمانی اور ان کے عیوب کو چھپانا ہمارے لئے کیوں مشکل ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کی بیوی ہمارے گھر والوں کے ساتھ محبت اور میل ملاپ اور ان کی خدمت کرکے زندگی گزارے تو اپنی بیٹی کو دوسرے کے گھر جانے کے لئے اس طرح کی تربیت کیوں نہیں دیتے، اگر ہم یہ پسند کرتے ہیں کہ ہماری بیٹی سسرال میں شوہر کے ساتھ الگ رہ کر زندگی گزارے توہم اپنے بیٹے کی بیوی کے اس مطالبہ پر کیوں برہم ہوجاتے ہیں، سرکاری اسپتالوں، ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں پر استنجا خانوں میں آپ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کو صاف ستھرے ملیں تو ہم اپنے بعد آنے والے کے لئے پانی ڈال کر اسے صاف کیوں نہیں کردیتے، آ پ وقت بے وقت ضرورت بے ضرورت لوگوں کی ملاقات کو اپنے ذاتی اورملی کاموں میں خلل تصور کرکے ناگواری محسوس کرتے ہیں تو آپ کسی دوسرے کے یہاں جانے سے پہلے اس کی سہولت کا خیال کرکے اجازت لے کر ملاقات کے لئے کیوں نہیں جاتے؟

ظاہرہے کہ آپ نمازی ہیں اور روزہ دار ہیں، حاجی ہیں متقی اور پرہیز گار ہیں اور آپ اپنے لئے تقویٰ اور پرہیز گاری کوپسند کرتے ہیں لیکن کیسے صاحب ایمان ہیں کہ آپ دوسروں کو روزہ نماز اور تقویٰ کی تلقین نہیں کرتے،آپ صاحب ایمان ہیں اور اپنے لئے یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کا ایمان پر خاتمہ ہو اور ہمیشہ کی دوزخ سے بچیں تو آپ کے لئے نبی برحق کی اس ترازو میں اپنے ایمان کو اصلی اور قابل قبول بنانے کے لئے ضروری ہے کہ انسانی رشتہ کے ہر بھائی کو ایمان میں لائیں اور اس کے ایمان پر خاتمہ کی فکر کریں، غرض جس طرح دنیا اور آخرت کی عزت ،راحت و آرام اور اپنے رب کی رضا کے ہم حریص ہیں اسی طرح ایمان اور انسانی رشتہ کے ہر بھائی کے لئے ہم فکر منداور حریص ہوں۔

دوسروں سے اپنے حقوق کی طلب اور ان کے فرائض کی ادائیگی کی تو ہمیں فکر رہتی ہے لیکن دوسروں کے حقوق وفرائض کی ادائیگی کی فکر ہمیں بہت کم ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ یہ حالت اس حدیث پاک کی کسوٹی میں ہمارے اہل ایمان میں شمار ہونے کی تردیدکرتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ پیارے نبی کی اس ترازو میں اپنے ایمان کو اصلی ایمان بنانے کے لئے ہر خیر وبھلائی میں اپنے بھائیوں کے لئے بھی ہم اتنے ہی حریص اور فکر مند ہوں جتنے اپنے لئے ہوتے ہیں۔

انسان کی ساری خیر اور بھلائی اور اس کی اصل کامیابی کا دارومدار صاحب ایمان ہونے اور ایمان کے ساتھ خاتمہ پرہے تو پھر آدمی کو اس حقیقی کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے اور اپنے کو ایمان پر باقی رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر مومن جس طرح ایمان کو اپنے لئے سب سے ضروری سمجھتا ہے اور اس کی بقاء کی فکر کرتاہے اسی طرح پوری انسانیت کے لئے ایمان کے حصول اور ان کے ایمان کی بقاء کی فکر کرے انسانی رشتہ کے تمام بھائیوں کے لئے وہ درد مندانہ خیر خواہی رکھتاہو خصوصاکفر پر موت اور ایمان سے محروم رہنے کے نتیجہ میں ہمیشہ کی دوزخ اور جنت سے محرومی کے درد ناک انجام سے بچنے کی فکرکرے،اور اس فکر مندی کے لئے ہر صاحب ایمان کے پاس اس کے نبی کی زندگی کا نمونہ موجود ہے ، ارشاد ہے:

لعلک باخع نفسک الایکونوا مومنین:ترجمہ: شاید آپ اس غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ 
فلا تذہب نفسک علیہم حسرات:ترجمہ: ان کی ہدایت کی حسرت کی وجہ سے آپ اپنے آپ کو ہلاک نہ کر ڈالیں۔

جب ایمان کا پیمانہ یہ ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے تو خود کو صاحب ایمان سمجھتے ہوئے اپنے اسلام پر مطمئن ہوکر اپنے حال میں مست ہوکر پوری دنیا کو کفر وشرک کی آگ میں جھلستے ہوئے دیکھ کر مطمئن بیٹھنے کی کیسے گنجائش ہے؟ اس کے علاوہ ایک ایمان والے کو، کفر وشرک پر مرنے کے بعد ہمیشہ دوزخ میں جلنے کا یقین کرتے ہوئے اپنے سینہ میں دھڑکتاہوا دل رکھتے ہوئے دوسروں کے لئے کوشش نہ کرنا ایسی پہیلی ہے جس کا بوجھنا آسان نہیں۔

اس کے لئے ہم ایک ماحول کا تصور کریں، آپ کسی کام میں مشغول ہوں جس میں آپ کو انہماک حاصل ہو آپ مراقبہ میں ہوں یا کسی تحقیقی کام میں ، جس میں آپ کو سامنے سے گزرنے والوں کا بھی احساس نہ ہو، ایسے میں آپ کے علم میں آئے کہ گھر کے صحن میں آگ کا ایک انگارہ پڑا ہے اور دشمن کا ایک بچہ آپ کے کمرہ سے باہر جارہاہے ظاہر ہے اگر بچہ ہوشیارہے تو آگ پر پاؤں نہیں رکھے گا ضروری نہیں کہ وہ آگ کی طرف ہوکر گزرے اور اگر گزر جائے تو ضروری نہیں کہ اس کا پاؤں آگ پرپڑے اور اگر آگ پر پاؤں پڑبھی جائے تو فوراپاؤں ہٹانے سے یہ بھی ضروری نہیں کہ پاؤں میں آبلے(چھالے) پڑجائیں،فرض کرلیجئے بچہ آگ نہ دیکھے آگ پر پاؤں بھی پڑجائے اور وہ ہٹے بھی نہیں اور جل جائے توکچھ وقت کے لئے اس کا علاج بھی ہے ، لیکن اس کے باوجود اگر آپ کے سینہ میں دل ہے پتھر نہیں تو جب تک آپ کو یقین نہ ہوجائے کہ دشمن کا معصوم بچہ آگ سے محفوظ ہے آپ یقیناًبے چین رہیں گے، اور اپنے اہم کام میں مشغولی کے باوجود آپ کا دل اس بچہ کی خیر خواہی میں لگا رہے گا۔ تو جب آپ کو یہ یقین ہے کہ دوزخ برحق ہے اور ایمان سے محروم کوئی شخص بھی اگر اسی حالت میں مرگیا تو وہ ہمیشہ کی دوزخ کا ایندھن بنے گا، پھر کس طرح ممکن ہے کہ آپ اپنے دین اور ایمان پر مطمئن ہوکر بیٹھے رہیں، اس طرح پوری دنیا کو کفر وشرک میں مبتلا دیکھنا اور اس حال میں مرتے رہنے دیناصرف اس وجہ سے ہوسکتا ہے کہ ہمیں جنت ودوزخ کے برحق ہونے کا یقین نہیں۔

جس ذات عالی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوزخ جنت کی خبر دی ہے اس کا حال اور پوری زندگی ہمارے سامنے ہے کہ آپ کو کفر وشرک میں بھٹکتی انسانیت کے لئے کیسا غم تھا اس کے لئے آپ کس قدر بے چین رہتے تھے سیرت کا معمولی طالب علم بھی اندازہ لگاسکتاہے۔ ایمان کے اجزائے ثلاثہ اللہ پر ایمان، اس کے رسول پر ایمان اور یوم آخرت ، جنت اور دوزخ پر ایمان کے لئے ضروری ہے بلکہ یہ اس کی علامت ہے کہ وہ پوری انسانیت کے ایمان کی فکر کرے اور جس طرح وہ اپنے لئے ایمان کو ضروری سمجھتا ہے اسی طرح اس کے اندر،ہر انسان کے لئے ایمان کے حصول اور اس کی بقاء کی فکر ہو بلکہ اس فکر میں وہ اپنے آپ کو اپنے نبی کی طرح گھلا دے اور کھپادے ،اس لئے کہ نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی ایک شناخت یہ بھی بتائی ہے :
الایمان ماوقرفی القلب ویصدقہ العملترجمہ: ایمان وہ ہے جو دل میں بیٹھ جائے اور آدمی کا عمل اس کی تصدیق کرے 
اپنی طرح دوسروں کی خیرخواہی اور ان کے ایمان کی فکر ایسی سوار ہو کہ کوشش اور عمل سے اس کی تصدیق ہو، اور ایمان والا اپنے دل میں نبی اکرم کی طرح داعیہ وتڑپ رکھتاہو، اس کی راتیں اپنے رب کے حضور بھٹکتی ہوئی انسانیت کو ہدایت دینے کی دعا میں گزرتی ہوں، اس کے دن لوگوں کے ایمان کی دعوت کے لئے در در بھٹکنے میں گذرتے ہوں، اور اس درد مندی میں مصلحت ، فضاء کے سازگار ہونے کا انتظار اور بے معنیٰ خطرات کے احساس پر اپنی صلاحیت صرف کرنے کا تصور بھی اس پر گراں گذرے، اوروہ ایمان کے لئے ہر آن بے چین رہے ، اس کا نظریہ یہ ہوکہ دس ہزار آدمیوں کا اسلام کے لئے قائل ہوجانا اور اسلامی اصولوں کو عقل کی کسوٹی پر پورے اترنے کا اقرار کرالینا اور اسلام کو سائنٹفک مذہب ثابت کردینے کے مقابلہ میں ایک کوڑھی کا کفر وشرک سے نکل کر کلمہ شہادت پڑھ لینا ہمارے لئے ہزار درجہ بہترہے۔

دوزخ کی آگ میں جلنے کے کرب کا احساس نہ ہونے کی وجہ سے ہم لوگ اپنی دعوت کو اتنا طویل کردیتے ہیں کہ مصلحت اور حکمت عملی کے نام پر اصل کی دعوت کا موقع بھی نہیں آتا اگر اخلاق اور کردار کی بنیاد پر دعوت مفید ہوتی تو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خدمت، ہمدردی اور انسانی اخوت کی آواز لگاتے، آپ کس بے چینی کے ساتھ یہ آواز لگاتے تھے کہ:
یا ایہا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحواترجمہ : اے لوگو لا الہ الا اللہ کہہ لو کامیاب ہوجاؤ گے 
اگر خدمت اور ہمدردی دین کی دعوت کی اساس ہوتی تو یقیناًعیسائی لوگ ہم سے اچھا نمونہ پیش کرتے ہیں لیکن ہمارے نبی کی دعوت کی بنیاد کفرو شرک میں جھلستی انسانیت کو بچانے کے غم میں سیدھے قولوا لا الہ ا لا اللہ تفلحوا یا اسلم تسلم ہوتی تھی

خدانہ کرے آپ کے پڑوس میں آگ لگ جائے اسلامی اخلاق سے دور ہونے کی وجہ سے پڑوسیوں میں اکثر دشمنی ہی رہتی ہے،آپ کی اپنے پڑوسی سے کوئی مخالفت یا مقدمہ بازی بھی چل رہی ہے، آپ کو یہ بھی یقین ہو کہ جس گھر میں آگ لگی ہے افراد سب بچ گئے ہیں، کافی سامان بھی بچالیاگیاہے اور دوسرے لوگ بھی آگ بجھانے آگئے ہیں، تومخالفت اور مقدمہ بازی کے باوجود اگر آپ سینہ میں دل رکھتے ہیں آپ بالٹی میں پانی بھر کر اس کی طرف فورا دوڑیں گے، اور چلائیں گے کہ لوگو بچاؤ ۔آپ کو اس آگ کا احساس ہوتو آپ کا انسانی دل اس کی مہلت نہیں دے گا کہ پہلے یہ معلوم کریں کہ وہ لوگ پانی ڈالنے بھی دیں گے یا نہیں ، آپ یہ انتظار نہیں کریں گے کہ پہلے اس کا ذہن تیار کرلوں اور فضا ہموار کرلوں۔ ہر گزنہیں، آپ کویقین ہے کہ کفر پر مرنے والا انسان دوزخ میں جلے گا اورموت کا ایک لمحہ بھی بھروسہ نہیں پھر اس کا کیا موقع ہے کہ آپ مصلحت اور موقع کا انتظار کریں، آپ تو اس کرب میں نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں قولوا لا الہ الا اﷲ تفلحوا کی کراہ اور چیخ سے ساتھ بات شروع کریں گے 

تجربہ شاہد ہے کہ اگر آپ انسانیت کو آگ سے بچانے کی آواز لگائیں گے تو لاکھ فضا ناساز گار ہو، لاکھ ابوجہل ابولہب جیسے ظالم آپ پر ظلم کریں، لیکن آپ کو اپنے غم اور خیر خواہی کے دوران کتنے سمیہ، یاسر، بلال، ابوبکر، عمر، ابو ذر، خباب، وصہیب رضی اللہ عنہم اجمعین ملیں گے جن کے ایمان نصیب ہونے کی خوشی میں ان کی دشمنیوں کا احساس بھی نہ ہوگا اور رفتہ رفتہ آپ کی صدائے درد کے قدر دانوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور آپ کو مصائب و شدائد کی زندگی سے نکال کر فتوحات مدینہ اور فتح مکہ تک پہنچادے گی، شرط یہ ہے کہ خیر القرون کی کامیابیوں اور رفعتوں کے حصول کے لئے راہ بھی ان ہی خوش نصیبوں کی اختیار کی جائے اور اپنی زندگی اور کل متاع عزیز کو کفر و شرک میں بھٹکتی انسانیت کو ضلالت وگمراہی کے اندھیرے سے نکالنے میں کھپا دیا جائے : 

ہیں تیرے سوا سارے سہارے کمزور
سب اپنے لئے ہیں اور تو سب کیلئے

یہ مضمون ارمغان رسالہ سے لیا گیا ہے

مولانا محمد کلیم سدیقی کے مزید مضامین سبسے پہلے پڑھنے کے لئے خریدے ارمغان صرف ٢٠٠ سالانہ

Share To All - شیر کریں سبسے
Read More

Leave a Reply

*