Web Analytics Made Easy -
StatCounter

Tahreek Azadi Hind Mein Muslim Ulama Aur Awam Ka Kirdar, تحریک آزادی ہند میں مسلم علماء اور عوام کا کردار

Tahreek Azadi Hind Mein Muslim Ulama Aur Awam Ka Kirdar, تحریک آزادی ہند میں مسلم علماء اور عوام کا کردار

180.00

مصنف نے اپنے ابتدائیہ میں موضوعِ کتاب کا بہترین تعارف کرایا ہے کہ اس کتاب کی تالیف کا مقصد کیا ہے ۔ کتاب کا پہلا باب ’’ تحریک سید احمد شہید ‘‘ ہے ، جس کا دورانیہ ۱۸۱۸ء سے ۱۸۳۱ء تک ہے ، جس میں کئی ذیلی عناوین ہیں جیسے جدوجہد کا آغاز ، شاہ عبدالعزیز کا فتویٰ وغیرہ ، ہر عنوان سے پہلے ایک سوال قائم کرکے اس کا مفصل جواب دیا گیا ہے، سوال وجواب کے اس طرز سے اختصار کے باوجود بات پوری طرح واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ دوسرا باب ہے ’’ ملک کے مختلف علاقوں میں حضرت سید احمد شہیدؒ کے متوسلین کی جد وجہد ‘‘ ۔ تیسرا باب ’’ تحریک آزادی ۱۸۵۷ء‘‘ ہے۔ چوتھا باب ’’ اکابر دیوبند کی جہادِ آزادی ۱۸۵۷ء میں شرکت ‘‘ ہے ، جس میں جہاد شاملی اور کیرانہ کے محاذ کی تفصیلات اور ایک عظیم مجاہد آزادی مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کا بطور خاص ذکر ہے ، جن کے نام اور کارناموں سے عام طور پر لوگ ناواقف ہیں ۔ پانچواں باب ’’ تحریک شیخ الہند ‘‘ ہے۔ چھٹا باب ہے ’’ علماء قومی دھارے میں ‘‘ اس میں جمعیۃ علماء کا قیام ، جامعہ ملیہ کی تاسیس ، تحریک ترک موالات اور کامل آزادی کا مطالبہ وغیرہ جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے ۔ ساتواں باب ہے ’’ لمحوں کی خطا ‘‘ اس میں ان ناعاقبت اندیشانہ اقدام کا ذکر ہے جو تحریک آزادی کے اخیر دور میں پیش آئے جن کا نتیجہ ملک کی تقسیم کی صورت میں ظاہر ہوا ۔ آخری باب ’’ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ‘‘ ہے ، جس میں تقسیم ہند اور اس کے بعد کی تباہیوں اور اس سلسلہ میں علماء کرام کی قربانیوں کا ذکر ہے ۔
کتاب میں کوئی بات بغیر حوالہ کے نہیں کہی گئی ہے ، اخیر میں جو مراجع ومصادر پیش کئے گئے ہیں ان کی تعداد تیس سے زائد ہے۔ کتاب دو حصوں پر مشتمل پر ہے ، حصہ اول میں آزادی کی تاریخ اور اس میں سرفروشانہ حصہ لینے والے اور بے پناہ قربانیاں دینے والے علماء اور مسلم عوام کا ذکر ہے ، اور حصہ دوم میں تقریباً ۱۴۰؍ اہم شخصیات کا مختصر ومستندتعارف ہے جن کا نام حصہ اول میں آیا ہے، جو تقریباً سو صفحات پر مشتمل ایک بہترین، مختصر، مستند تاریخی وتحقیقی دستاویزہے ، اس سے ان شخصیات سے متعلق اجمالاً اچھی طرح آگاہی ہوجاتی ہے، شخصیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ حصہ بہت اہم ہے۔یہ مولانا معزالدین احمد گونڈوی علیہ الرحمہ کے قلم سے ہے جن کی تاریخی معلومات اور تحقیقی ذوق قابل رشک تھا ۔
:اس کی تمہید میں مولانامرحوم لکھتے ہیں
’’ عزیزم محترم مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری ادام اﷲ اقبالہ کی شدید خواہش واصرار پر کتاب میں مذکور شخصیات کے تعارف کے لئے اجمالی سوانحی خاکہ کتابوں اور رسائل سے تلاش کرکے مرتب کردیا گیا اور تفصیلی حالات وخدمات سے واقفیت کے لئے مآخذ کی رہنمائی کردی گئی ہے۔ ان سوانحی خاکوں میں ترتیب وہی قائم کی گئی ہے جو کتاب میں ہے ۔ بعض شخصیات کے حالات تک کوشش کے باوجود رسائی نہ ہوسکی ۔

ضیاء الحق خیرآبادی

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Tahreek Azadi Hind Mein Muslim Ulama Aur Awam Ka Kirdar, تحریک آزادی ہند میں مسلم علماء اور عوام کا کردار”

Your email address will not be published.