رد بدعات میں علماء منہاج سلف کو ایک نوع کا خاص امتیاز حاصل ہے، اسلامیان ہند وپاک کی پوری تاریخ بنظر غائر دیکھ جائیں، ان علماء اور حاملین سنت کی بے لوث جاں سوزیوں اور مخلصانہ مساعی کے بے شمار نشانات ملیں گے، ان ہی کی جاں سپاریوں سے توحید شفاف ہے، سنت نمایاں اور واضح ہے، اطاعت کی راہیں روشن ہیں، شریعت اور مسائل مبرہن وواشگاف ہیں، بدعات پر رد ہے، گمراہیوں کی نشاندہی ہے، انحرافات کی بیخ کنی ہے، توحید اور شرک میں خط امتیاز ہے، الحاصل سنت کی جو کچھ چمک اور روشنی ہے وہ انہیں جیالوں کی بدولت ہے، آپ انکار کریں یا اقرار، اصل محنت ان کی ہے، اس کو جاننے کے لیے ہوا میں اڑنے کے بجائے، زمین پر اترنا ہوگا، تاریخ میں ان کی قربانیوں پر ایک نظر ڈالنی پڑے گی، یہ سنت کی خاطر مارے گئے، پیٹے گئے، مقدمات میں پھنسائے گئے، بہت کچھ تکالیف کے بعد یہ روشنی نظر آرہی ہے، انہیں ہٹا کر دیکھو تو اندھیاری ہی اندھیاری ہے، سوائے چند چراغوں کے، جو خود ٹمٹمارہے تھے۔
علامہ نذير أحمد رحمانی املوی اعظمی انہیں بابرکت نفوس میں سے تھے جنہوں نے اس راہ کی روشنی بڑھائی، اک شمع جلائی، جسے علمی حلقہ رد عقائد بدعیہ کے نام سے جانتا ہے۔
رد عقائد بدعیہ علامہ املوی کی معرکۃ الآراء اور انتہائی ٹھوس، مستحکم اور علمی دلائل سے بھرپور انوکھی کتاب ہے، اس کا اندازہ کرنے کے لیے اسے پڑھنا ہوگا، یہ اپنے موضوع کی بے مثال کتاب ہے، دلائل کے استقصا، تحقیق کی فراوانی، زبان وبیان کی شستگی وروانی، ترتیب وتنظیم = ساری چیزیں اسے امتیاز دیتی ہیں۔
بار بار ضرورت ہے کہ اس طرح کی کتابیں شائع کرکے عام کی جائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فیض یاب ہوں۔
اس ضرورت کو استاد محترم شیخ اسعد اعظمی حفظہ اللہ نے محسوس کیا اور کئی سال پہلے آپ نے اس پر تعلیق وتحقیق کا کام کیا، آپ کی تحریرات اور علمی کاموں کی بڑی خوبی توازن اور تدقیق ہے، اعلی معیار پر کام کرنے کے عادی ہیں، اس کتاب میں یہ خوبیاں موجود ہیں، کتاب کو “علمی حواشی” سے کہیں بوجھل نہیں کیا، نہ ہی “کثرت حوالہ” سے کتاب کو “آراستہ” کیا ہے، بقدر ضرورت حواشی ثبت کیے ہیں، اور کتاب کو ایک مکمل صورت میں پیش کیا ہے۔