Web Analytics Made Easy -
StatCounter

Kulliyat e Maikash Akbarabadi, کلیات میکش اکبر آبادی

180.00

Description

پروفیسر فضل امام کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔ تحقیق و تنقید ان کا میدان رہا ہے۔ ’’انتخابِ کلیاتِ جوش‘‘ ، ’’دیوانِ درد‘‘اور ’’انتخابِ حسرت موہانی‘‘ بھی ان کی تحقیق و تدوین سے منظرِ عام پر آچکے ہیں جو برّصغیر ہندو پاک کی یونی ورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ میکش اکبر آبادی سے ان کو خصوصی تعلق خاطر رہا ہے اِسی لیے موصوف نے میکش کے مجموعہ ہائے کلام کی تلاش و تحقیق کی، جو عرصہ سے نایاب رہے ہیں۔ قوی امید ہے کہ اس کی پذیرائی اہلِ علم وادب کے درمیان میں گرم جوشی سے کی جائے گی اور تشنگانِ تصوف مستفید ہوں گے اس لیے کہ میکش کی شعری کائنات بہت ہی بسیط اور عمیق ہے۔

اکبرآباد (آگرہ) صدیوں سے شعروادب کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کی شعری روایت نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ خان آرزو سے لے کر میر تقی میر اور پھر میر سے لے کرغالب و نظیر نے گلہائے رنگارنگ سجائے ہیں۔ اسی سر زمین سے سید محمد علی شاہ میکش اکبر آبادی نے فکر وفن کے تابناک گوشے پیش کیے ہیں۔ ان کے تین مجموعۂ کلام منظرِ عام پر آئے تھے جن کی اہلِ شعر و ادب نے گراں قدر پذیرائی کی تھی۔ پہلا مجموعہ ’’مے کدہ‘‘ 1931ء دوسرا مجموعہ ’’حرفِ تمنّا‘‘ بارِ دوم 1955ء اور تیسرا ’’داستانِ شب‘‘ 1979ء زیورِ طبع سے آراستہ ہوا تھا لیکن یہ مجموعہ ہائے کلام عرصہ سے دستیاب نہیں تھے۔ حالاں کہ ان کی شعری رعنائیاں ہر صنفِ سخن میں جلوۂ صد رنگ پیش کرتی ہیں۔

دراصل میکش تصوف کے راز ہائے سربستہ کو اپنے اشعار میں فنّی چابک دستی سے پیش کرتے ہیں۔ وہ تصوف کے فلسفیانہ اور پیچیدہ مسائل کو غزل کے پیمانے میں ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ غزل کی دروں بینی، ایمائیت اور رمزیت کو بڑے سلیقے سے شعری پیکر عطا کرتے ہیں۔ عشقِ حقیقی اور عشقِ جاناں کی جملہ کیفیات کی ترجمانی ان کے شعری مجموعوں کی انفرادیت ہے۔ نعت، منقبت، غزل اور نظم وغیرہ میں پُرتاثیر طبع آزمائی کی ہے۔
خوشی ہے کہ ان کے مجموعہ ہائے کلام کو کلیات کی شکل میں پروفیسر فضل امام نے اپنے مقدّمہ کے ساتھ مرتّب کیا ہے

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Kulliyat e Maikash Akbarabadi, کلیات میکش اکبر آبادی”

Your email address will not be published.

Product Categories

Top Rated Products

Some Publishers