Web Analytics Made Easy -
StatCounter
Sale!

Idrak e Zawal e Ummat, ادراک زوال امت

800.00

Free Delivery

گذشتہ کئی صدیوں سے ہمارے مفکرین ہمارے زوال پر کلام کرتے رہے ہیں جس سے یہ احساس تو عام ہوتارہا کہ کہیں کوئی چیز کھوئی گئی ہے لیکن وہ گڑ بڑی کہاں واقع ہے اس کی نشاندہی کی سنجیدہ کوششیں بہت کم نظر آتی ہیں۔
یہ کتاب بنیادی طور پر اسی صورتِ حال کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں کس طرح رفتہ رفتہ وحی کے بجائے متعلقاتِ وحی کو اس قدر اہمیت ملتی گئی کہ مسلم حنیف ہونا بڑی حد تک ایک تہذیبی شناخت بن کر رہ گیا۔ وہ کتاب جو (ہدی للمتقین) کے دعوے سے شروع ہوتی ہے اس پرفقہاء کی تعبیرات نے‘ ایسا محسوس ہوا ‘دوسری ثقافت کے متقین کے لئے دروازہ بند کردیاہو۔ وحئ ربانی کی خالص فقہی تعبیر اور پھر اس تعبیر کو مغز دین قرار دینے کے نتیجے میں بہت جلد یہ آفاقی امت جسے سیادت عالم کے منصب پر فائز کیا گیا ہے، فرقۂ محمدی کی نفسیات میں محصور ہوگئی۔ مسائل عالم سے اپنا رخ موڑ کر اور عام انسانیت کی فلاح سے دست بردار ہو کر ہماری تمام تر توجہ ایک مخصوص ثقافتی شناخت والی امت مسلمہ پر مرکوز ہوتی گئی۔ حتی کہ ہمارے فقہاء نے دنیا کو اسلامی اور غیر اسلامی سرزمین میں بانٹ ڈالا اور ایسا محسوس ہواکہ مسلم آبادی کے علاقوں کے علاوہ دنیا کے دوسرے خطوں کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ سیادت عالم سے ہماری کنارہ کشی دراصل وحی کے سلسلے میں گمراہ کن تعبیرات سے پیدا ہوئی تھی۔ صدیاں گزریں وحی پر پڑنے والے حجابات میں اضافہ ہوتا رہا۔

Categories: ,

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Idrak e Zawal e Ummat, ادراک زوال امت”

Your email address will not be published.