یہ تفسیر محض ایک تشریح نہیں ، بلکہ اپنے اسلوب ، گہرائی اور باریک بینی میں آج بھی منفرد و یکتا ہے۔ یہ بیک وقت نقل و عقل کا وہ مثالی شاہکار ہے جہاں روایت کی پاسداری بھی ہے اور درایت کی بلندی بھی ، حضرت تھانویؒ نے اس میں جس طرح قرآنی مضامین کو عام فہم مگر مدلل انداز میں سمویا ہے، وہ انھی کا خاصہ ہے۔