Web Analytics Made Easy - StatCounter
Maulana Mustaqeem Ahsan Azmi

Maulana Mustaqeem Ahsan Azmi Naqoosh o Tasurat

نام کتاب : مولانا مستقیم احسن اعظمی نقوش وتاثرات
مرتب : مولانا ڈاکٹر محمد عارف عمری مدنی
صفحات: ۳۲۰

بقلم : مولانا ضیاء الحق خیرآبادی
زیر نظر کتاب معروف عالم دین مولانا مستقیم احسن اعظمی[پ:۱۹۳۹ء۔ و: ۲۰۲۳ء] کی حیات وخدمات پر مشتمل مختلف اہل قلم کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ جسے ان کے بیٹے ، معروف صاحب قلم عالم مولانا ڈاکٹر محمد عارف عمری مدنی نے مرتب کیا ہے ۔کتاب ایک ابتدائیہ اور ۶؍ فصلوں پر مشتمل ہے ، ابتدائیہ عرض ناشر سے شروع ہوتا ہے جو مولانا احمد سراج مہتمم جامعہ فیض عام ممبئی کے قلم سے ہے ، جس میں انھوں نے مولانا مرحوم کے ۸۴؍ سالہ دورِ حیات کا مختصر اورجامع انداز میں بڑے سلیقہ سے جائزہ لیا ہے۔ اس کے بعد مرتب کے تمہیدی کلمات ہیں جس میں کتاب کا اجمالی تعارف ہے ۔کتاب کا باقاعدہ آغازملک کی چار اہم شخصیات کے پیغامات سے ہوتا ہے ، جس میں پہلی تحریر دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین وجمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ کی ہے جو ان کا تعزیتی پیغام ہے ، یہ جمعیۃ علماء ہند کے لیٹر پیڈ پر ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پر کوئی تاریخ درج نہیں، جبکہ آفیشیل پیغامات کا یہ لازمی جز ہے۔ اس کے بعد مولانا ڈاکٹر تقی الدین ندوی ، مولانا مفتی محمد راشد اعظمی اور ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی کے تاثراتی پیغامات ہیں ۔پھر مرتب کتاب کے قلم سے دس صفحات پر مشتمل تعارفی خاکہ ہے جس میں انھوں نے اجمالاً والد مرحوم کے تمام گوشہائے حیات پر روشنی ڈالی ہے اور ان کی گھریلو زندگی،بھائیوں اوربچوں کی تعلیم وتربیت ، اپنے اہل وعیال ومتعلقین کے ساتھ ہمدردی وخیرخواہی، علمی ،ادبی ، سماجی اور رفاہی میدانوں میں ان کی خدمات کا تذکرہ اور والد صاحب کے ساتھ کئے گئے دواہم سفر کی روداد، دارالمصنفین اعظم گڑھ اور دوسرے اداروں سے ان کا تعلق اور ان کے لئے امداد وتعاون کی کوششیں ، سب کا ذکر ہے، گویا یہ مضمون ایک متن ہے اور پوری کتاب اس کی شرح ۔

اس مضمون میں ندوۃ العلماء لکھنؤ کے پچاسی سالہ جشن میں شرکت کا ذکر ہے جس میں اس کا سن ۱۹۷۴ء مذکور ہے جو یقیناً سبقت قلم ہے ، یہ اجلاس اکتوبر ،نومبر ۱۹۷۵ء میں منعقد ہوا تھا ، بعد کے ایک مقالہ میں اسی مضمون کے حوالہ سے یہی سن مذکور ہے، اس لئے درست سن ذکر کردیا۔ فصل اول کا عنوان ہے : ’’ تعلیم وتعلم اور درسگاہوں کا ذکر ‘‘ ۔ اس میں کل نو مقالات ہیں ، پہلا مقالہ مولانا مرحوم کے صاحبزادے محمد طارق مستقیم احسن کا ہے جس میں انھوں نے والد ماجد کے ان اساتذہ اور مربیوں کا ذکر کیا ہے جن کا تذکرہ مولانا مرحوم بکثرت کیا کرتے تھے،موصوف نے ان کو ایک اچھے انداز میں مرتب کردیا ہے ۔ اس سلسلہ میں تھوڑی کوشش کرکے تمام اساتذہ کا اجمالاً ہی سہی ذکر ہوجاتا تو مزید بہتر ہوتا ۔

دوسرامقالہ ملک کے معروف ادیب وشاعر جناب ڈاکٹر تابش مہدی کا ہے ، ان کی طالب علمی کے کچھ ایام جونپور میں گزرے ہیں، ان کو شفیق جونپوری اور ان کے خانوادے سے گہرا تعلق ہے ، مولانا مرحوم کو شفیق صاحب سے شرف تلمذ حاصل تھا ،موصوف نے اس کانسبت وتعلق کا ذکر اور اپنے تئیں مولانا مرحوم کی شفقت ومحبت کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔مولانا مدرسہ شیخ الاسلام شیخوپور کے ارکان تاسیسی میں سے تھے اور اپنی مادر علمی سے ان کو والہانہ لگاؤ تھا ، مولانا محمد آصف اعظمی [ناظم مدرسہ شیخ الاسلام ] کے مقالہ کا موضوع ’’ مدرسہ شیخ الاسلام شیخوپور اور مولانا مستقیم احسن اعظمیؒ ‘‘ ہے، جس میں انھوں نے اختصار کے ساتھ مدرسہ سے مولانا کی دلچسپی اور لگاؤ کو بیان کیا ہے ۔

اس کے بعد میرا مضمون ہے جس میں مولاناکی یادوں،ان کی شفقت ومحبت اور استاذ محترم مولانا اعجاز احمد اعظمی علیہ الرحمہ اور مولانا کے باہمی تعلقات نیز مدرسہ شیخ الاسلام اور وہاں کے اساتذہ ومتعلقین کے ساتھ مولانا کے لگاؤ کو بیان کیا ہے۔ مفتی محمد یاسر قاسمی [ناظم اعلیٰ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارکپور] نے ’’ احیاء العلوم کے مایہ ناز فرزند ‘‘ کے عنوان سے احیاء العلوم اور اہل مبارکپور سے مولانا کا تعلق اور یہاں کی طالب علمی کے دور کی معلومات کو جمع کیا ہے ، اس سے پہلی مرتبہ علم ہوا کہ مولانا مرحوم نے پہلے احیاء العلوم مبارکپور سے دورۂ حدیث کی تکمیل کی، اس کے بعد دوبارہ دارالعلوم دیوبند سے دور ہ کیا۔مولانا حسن کمال ندوی، مدرسۃ الاصلاح سرائمیر میں مولانا اعظمی کے رفیق درس رہے ہیں، انھوں نے اپنے مقالہ میں مدرسۃ الاصلاح کی طالب علمی کے دور کی بڑی اہم معلومات جمع کردی ہے، مجھے اس سلسلہ میں بہت کم معلومات تھیں اس لئے اس مقالہ کو بڑی دلچسپی سے پڑھا۔ مولانا انتخاب عالم قاسمی [ناظم جامعہ رشیدیہ بمہور] نے اپنے مقالہ میں مولانا مرحوم اور حاجی شمس الدین اعظمی کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالی ہے۔ڈاکٹر توقیر احمد ندوی[پرنسپل مدرسۃ العالیہ شیخ رجب علی بمہور]نے متکلم مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی اور مولانا اعظمی کے عنوان سے مقالہ لکھا ہے ، جس میں مولانا اعظمی کے اس ادارہ کے ربط وتعلق کو بیان کیا ہے۔ دارالعلوم عزیزیہ میراروڈ سے مولانا اعظمی کو جو تعلق خاطر تھا وہ کسی پر مخفی نہیں ، اس پر مدرسہ کے نائب مہتمم مفتی عبد اللہ قاسمی نے اپنے مقالہ میں روشنی ڈالی ہے۔

فصل دوم : جمعیۃ علماء اور ملی خدمات کا ۶۰؍ سالہ سفر ‘‘ ہے۔ جس میں ۸ ؍مقالات ہیں ، اس فصل کے بیشتر مقالات جمعیۃ علماء ہند کی خدمات سے متعلق ہیں ، ایک مقالہ ’’ دارالعلوم دیوبند دفترممبئی برانچ ‘‘ ہے ، جس میں اس کے قیام کے سلسلہ میں مولانا اعظمی کے ذریعہ کی جانے والی مساعی جمیلہ کا ذکر ہے۔جس میں مولانا حلیم اللہ قاسمی بھیونڈی کا مقالہ ’’ مولانا مستقیم احسن اعظمی کا دورِ صدارت ‘‘ اور صحافی عبد الحلیم صدیقی مالیگاؤں کا مقالہ بہت خوب ہے، مولانا محمد عارف صاحب کا اس فصل میں دو مضمون ہے ، ایک تو جمعیۃ کے تعلق سے ہے ، اور دوسرا ’’ حضرت والد صاحب کی متفرق ملی خدمات ‘‘ ہے ، جس میں انھوں نے جمعیۃ اور دارالعلوم دیوبند کے علاوہ دیگر تمام ملی خدمات کا جائزہ لیا ہے ۔

فصل سوم : ’’اہل دانش اور صحافت وتدریس سے وابستہ شخصیات ‘‘ ہے۔اس میں ۱۴؍ مقالات ہیں اور لکھنے والے بیشتر حضرات ملک کے معروف اہل قلم ادیب وصحافی یا شعبہ تدریس سے وابستہ حضرات ہیں، اس لئے اس میں بڑی متنوع معلومات آگئی ہیںجس سے مولانا اعظمی کی ہمہ جہت شخصیت قارئین کے سامنے آتی ہے۔مقالہ نگاروں میں پروفیسر عبد الستار دلوی، مولانا عمیر الصدیق ندوی ، ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی ، ڈاکٹر جمشید احمد ندوی، مولانا کلیم صفات اصلاحی،معصوم مرادآبادی اور شکیل رشید جیسے ممتاز اہل قلم ہیں۔اس کا پہلا مضمون ’’ مولانا اعظمی کا درس قرآن ‘‘ از پروفیسر ڈاکٹر ذاکر الٰہی چودھری ، میرے لئے ایک انکشاف ہے کہ مولانا اعظمی پابندی کے ساتھ ہر اتوارکو صابوصدیق کالج کے سامنے موتی مسجد میں پابندی کے ساتھ درس قرآن دیتے تھے اور تراویح کے بعد درس دینے کا معمول تھا۔نظام الدین راعین کے مضمون ’’ مولانا اعظمی ایک عظیم انسان ‘‘ میں مولانا کی ملی وسماجی خدمات کو اچھے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ فصل چہارم :’’اہل خانہ ، قریبی اعزہ ومتعلقین ‘‘ ہے۔ اس میں ۷؍ مقالات ہیں ، لکھنے والوں میں مولانا کے بیٹے محمد اطہر، بھتیجے وداماد مولانا محمد حاکم قاسمی ،ایک دوسرے بھتیجےمولانا محمد نعمان اعظمی، مولانا ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی، مولانا محمد اشہد اعظمی ، حکیم محمد طارق اصلاحی اور ڈاکٹر بصیر احمد خاں لودی ہیں ۔

پانچویں فصل : ’’ وسیع المشربی اور ملی وحدت کا شعور ‘‘ ہے، جس میں ۹؍ مقالات ہیں ، مقالہ نگار حضرات مختلف مسلک ومشرب سے تعلق رکھنے والے اہل قلم ہیں۔جن میں مولانا حکیم محمود خان دریابادی ، مشہور اہلحدیث عالم مولانا مختار احمد ندوی کے صاحبزادے شیخ اکرم مختار، شیعہ عالم مولانا ظہیر عباس رضوی ، معروف سنی عالم مولانا عبدالجبار ماہر القادری اور قیصر جعفری کے صاحبزادے عرفان جعفری جیسے حضرات شامل ہیں۔ چھٹی اور آخری فصل ’’ تعزیتی پیغامات اور منظوم خراج عقیدت ‘‘ ہے ۔ جس میں پہلا پیغام معروف عالم دین اور مفتی شہر ممبئی مولانا مفتی عزیز الرحمٰن شہید فتحپوری کا ہے،اس کے علاوہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ۱۳؍ اہم شخصیات کے تعزیتی پیغامات ہیں۔ اخیر میں عبید اعظم اعظمی اور مفتی حفیظ اللہ حفیظ بستوی کا منظوم خراج عقیدت ہے۔

کتاب کو ظاہری ومعنوی دونوں اعتبار سے خوب سے خوب تر بنانے کی ہر ممکن سعی کی گئی ہے ، حیرت کی بات ہے کہ مولانا مستقیم احسن اعظمی کوئی مدرس یا بڑے مصنف نہیں تھے ، اس کے باوجود ان کی حیات وخدمات پر اتنی ضخیم کتاب سامنے آگئی، جس میں ان کے تمام گوشہائے حیات کا احاطہ کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ،خدمات کے جو پہلو مقالوں میں نہ آسکے اس کے لئے مرتب کتاب نےمتعدد مقالے لکھ کر اس بات کی کامیاب کوشش کی ہے کہ اجمالاً ہی سہی یہ تمام پہلو نگاہوں کے سامنے آجائیں ، بہر حال یہ ابھی نقش اول ہے ، اس لئے کمیوں کا رہ جانا کچھ بعید نہیں ہے۔ اس کا حسن ظاہر مولانااحمد سراج صاحب کے ذوقِ نفیس کا آئینہ دار ہے، کتابت ، طباعت ، کاغذ اور بائنڈنگ سب نہایت اعلیٰ اور معیاری ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند اور خطۂ اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے حضرات کے لئے یہ ایک اہم دستاویز ہے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login