Web Analytics Made Easy - StatCounter
Sahih Seerat e Mustafa

صحیح سیرت مصطفیٰ

محدث مدینہ رحمہ اللہ کی مایہ ناز تصنیف صحیح سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدمہ کے چند اقتباسات اور یہ مکمل مقدمہ نہیں بلکہ مکمل آپ کتاب میں ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ مبارک کتاب الحمدللہ اب ہندوستان کی مارکیٹ میں عام دستیاب ہے جو کہ مکتبہ دارالسلام مئو سے شائع ہوئی ہے جس میں سے آپ #سیرتﷺکےنقوش کو جان پائیں گے إن شاء اللہ اور یہ کتاب تقریباً 1532 احادیث پر مشتمل انمول موتیوں کی لڑی ہے۔


مقدمہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَحْدَهُ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ، إِمَامِ الْمُرْسَلِينَ وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، وَأَمِينُهُ عَلَى وَحْيِهِ، وَصَفْوَتِهِ مِنْ خَلْقِهِ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَتِه وَأَهْتَدِي بِهَدِيَّةٍ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ، أَمَّا بَعْدُ
تمام تعریفیں اسی بابرکت ذات کے لیے جس نے کائنات کو تخلیق فرمایا اور پھر عرش پر مستوی ہوا اور انبیاء کرام علیہم السلام کو لوگوں تک اپنا پیغام اور راہ ہدایت بتانے کے لیے مبعوث فرمایا اور درود و سلام ان سیدالاولین و الآخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جنہیں صحراؤں کے وسط میں مبعوث فرما کر لوگوں کو ظلمات کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے نور سے منور کردیا اور جنہیں رحمت للعالمین اور خاتم النبیین بنایا اور جنہیں حشر کے دن اولاد آدم کی سرداری عطا کی جائے گی۔

یہ جو مبارک کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے یہ صحیح سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،محدثین کے منہج پر لکھی جانے والی اک انمول کتاب ہے جسے شیخنا و حبینا محدث مدینہ محمد عبداللہ اعظمی (المعروف بالضیاء) رحمہ اللہ نے تالیف کیا اور اس کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ مؤرخین و محدثین کا اسلوب الگ ہوتا ہے مؤرخین واقعات کو تاریخی اعتبار سے مرتب کرتے ہیں اور پھر کہیں کہیں حاشیہ میں سند کا ذکر کر دیتے ہیں لیکن محدثین کا اسلوب پہلے سند اور پھر متن ہے اور اس کو میں نے محدثین کے اسلوب پر مرتب کیا ہے اور جہاں کہیں ضعیف روایت اس موضوع پر آئیں ان کو بحث میں ذکر کیا

سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان تو ان کے رب کے علاوہ کوئی حقیقی معنوں میں بیان نہیں کرسکتا اور (اللہ تعالی ہمیں غلو کرنے سے محفوظ رکھے) ہر دور میں ہر صدی میں علماء نے اپنی سی کوشش کی ہے سیرت مطہرہ کو اپنے انداز میں بیان کرنے کی اور آخر میں یہی درج کیا کہ ہم اس طرح سے نہیں لکھ سکے جیسا کہ سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ہے

سیدالاولین و الآخرين صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سے رخصت ہوئے چودہ سوبرس سے زائد کا طویل عرصہ بیت چکا ہے مگر یہ ایک زندہ معجزہ و حقیقت ہے کہ سیرت مصطفیٰ کے نقوش ہم تک محفوظ اور مکمل تحقیق کے ساتھ پہنچے اور اس میں زندہ حقیقت یہ مبارک کتاب ہے جس میں آپ کے مبارک ارشادات و فرمودات اور کہیں عبادات و معاملات تو کہیں سنہرے و انمول فیصلے اور کہیں مبارک اندازِ کلام و گفتگو تو کہیں نشست و برخاست اور کہیں قیام و طعام تو کہیں اپنوں اور غیروں کے ساتھ آپ کے عمدہ رویے اور بچوں کے ساتھ آپ کی بے پناہ شفقتیں اور پھر امہات المؤمنین یعنی ازواج مطہرات کے ساتھ آپ کی الفتیں و محبتیں اور یتیموں کے ساتھ آپ کی شفقتیں اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک ،الغرض سیدالاولین و الآخرين صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےاعلیٰ اخلاق کا نمونہ و معمولات عالیہ اور پھر روز مرہ میں رونما ہونے والے چھوٹے بڑے حادثات و واقعات اور اسی طرح غزوات و سرایا یعنی سیرت مصطفیٰ کے نقوش آپ کے سامنے اس مبارک کتاب میں جابجا ملیں گے ،محدث مدینہ رحمہ اللہ نے محدثانہ انداز میں اپنی تحقیق کے ساتھ ان بکھرے موتیوں کویکجا کردیا اور ان موتیوں کی لڑیوں سے آپ سیرت کی انمول مالا کو جڑا ہوا پائیں گے إن شاء اللہ

یہ سب لکھنا تو مدح سیدالاولین و الآخرين صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہے اور حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح تو سعادتوں کی معراج ہے اور یہ راز سب سے پہلے خوش نصیب سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کھولا جنہوں نے سیدالاولین و الآخرين صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں اپنے آپ کو آپ کی مدحت کے لیے وقف کردیا تھا۔ان کا ایک شعر مدح کے بڑے بڑے دیوانوں پر بھاری ہے،
وَمَا مَدَحْتُ مُحَمَّداً بِمَقَالَتِى لٰكِنْ مَدَحْتُ مَقَالَتِى بِمُحَمَّدٍ
میں نے اپنے کلام سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح نہیں کی بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر سے میں نے اپنا کلام قابل مدح بنایا ہے، اللہ اکبر کبیرا
آپ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ آپ کی سیرت کا مطالعہ کریں، آپ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں، کیونکہ یہ بھی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ کی سیرت، سوانح، اوصاف اور اخلاقیات کے متعلق معرفت حاصل کی جائےاورجس کے بارے میں آپ بالکل نہیں جانتے اس کی محبت دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی، نہ اس کا آپ کبھی دفاع کریں گے، اسی طرح آپ کی سنت کا دفاع بھی انہیں جانے اور سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔ حتی کہ جانوروں اور جمادات کو بھی آپ کی معرفت حاصل ہوئی تو آپ سے محبت کی مثالیں قائم کر دیں، چنانچہ آپ کی محبت میں کھجور کا تنا رو پڑا، آپ کو پتھروں نے بھی سلام کیا، رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محبت اور احترام کے اظہار کے لیے جبل احد بھی حرکت میں آیا، اونٹنیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر آپ کے آگے آتیں کہ آپ انہیں ذبح کر دیں، اسی طرح آپ نے چاند کو اشارہ کیا تو دو لخت ہو گیا، بادلوں کو اشارہ کیا تو سب منتشر ہو گئے، یہ سب کچھ اللّٰه تعالی کے حکم سے ہوتا تھا۔ اور اپنے ساتھ محبت کا معیار بھی بتا دیا جیسے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایمان والا تب تک نہ ہوگا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہوجائے-

یہ کتاب آپ کے لیے بہترین ذریعہ ہے سیدالاولین و الآخرين صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے کے لیے لہٰذا ہر حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکرِ مبارک تکرار کے ساتھ ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔ تو قارئین کرام آپ درود کا کثرت سے اہتمام کریں اور بلکہ خود رب العالمین کی طرف سے حکم بھی ہے

کتاب خریدے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *