تاثرات: مولانا امدادالحق بختیار, استاذ حدیث وادب وشعبہ افتاء جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد، انڈیا
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام علی سيدالأنبياء والمرسلين، وعلی آله وصحبه أجمعين، وبعد۔
’’مشک آنست کہ خود ببوید، نہ آنکہ عطار بگوید‘‘ یہ فارسی مقولہ حضرت مولانا مفتی شکیل منصور قاسمی صاحب زید مجدہم کی شخصیت پر پورے طور پر صادق آتا ہے؛ چنانچہ اہل علم کے ایک بڑے طبقے میں آپ اپنی محقق و مدلل تحریروں کے حوالے سے ہی متعارف ہیں، آپ کی علمی تحریریں اور تحقیقی مضامین اہل علم کے حلقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، آپ دارالعلوم دیوبند کے لائق وفائق اور با صلاحیت فضلاء میں سے ہیں، فی الحال سورینام/ جنوبی امریکہ میں علم حدیث کی تدریسی خدمات انجام دے رہیں ہیں۔ آپ ایک معتبر اور مستند عالم دین اور صاحب بصیرت فقیہ اور مفتی ہیں، زمانہ شناسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے علمی دقیقہ رسی آپ کی تحریروں کا امتیاز ہے، آپ کی تحریریں تحقیقی ذوق، علمی اسلوب اور فنی ضوابط و قواعد کے سانچے میں ڈھلی ہوتی ہیں، اگرچہ فقہی تحقیق ایک خشک موضوع ہے؛ لیکن آپ کی تحریروں میں ادبی چاشنی بھی ملتی ہے۔
حال ہی میں آپ کے گوہر بار علمی اور تحقیقی قلم سے ایک کتاب بنام: ’’اجماعِ امت – حقیقت، حیثیت، فلسفہ، مراتب و تطبیقات‘‘ منصہ شہود پر آئی اور علمی حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لی گئی، قدر اور تحسین کی نگاہ سے دیکھی گئی، ہر چہار جانب سے کتاب کی تعریف و توصیف اور ستائش و مدح سرائی کے قصیدے پڑھے جانے لگے، اکابر علماء سے لے کر، معاصر اور طلبہ، تمام حلقوں میں کتاب نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی، جس کی اہم اور بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ کتاب جدید اسلوب نگارش اور معاصر انداز تحقیق کے ساتھ، اپنے موضوع پر جامعیت کے ساتھ تمام ضروری پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے، کتاب کا ہر جز مستند حوالوں سے آراستہ ہے، ہر مدعی مدلل ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے ’’اجماع‘‘ کی حجیت کے حوالے سے پیدا کئے جانے والے شکوک وشبہات کا بنیادوں کے ساتھ قلع قمع کرتی ہے۔
اس کتاب میں اجتہاد و استنباط کے تاریخی مراحل، اجماع و اجتہاد میں فرق، اجماع اور نقل اجماع میں استعمال ہونے والی مختلف تعبیرات اور اصطلاحات، اجماع کی حجیت کے دلائل، اجماع کے لئے مطلوبہ شرائط، اجماع کی متنوع اقسام، مختلف فقہی مکاتب فکر میں اجماع کی حیثیت، ناقلین اجماع کے مناہج، طرق کار اور اقسام، جیسے مباحث پر محققانہ مفصل مگر جامع کلام پیش کیا گیا ہے۔
اسی کے ساتھ اس کتاب میں اجماع کے ساتھ مناسبت کی وجہ سے ’’اجتماعی غور وفکر کے تاریخی ادوار اور مراحل‘‘ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، اور اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے عالم اسلام میں فقہ اکیڈمیوں کے قیام کی تحریکوں اور دنیا بھر کی معروف و مشہور فقہ اکیڈمیوں کا جامع تعارف کروایا گیا ہے، نیز فقہ اکیڈمیوں کی شرعی حیثیت، ضرورت وافادیت، اجتماعی غور و فکر میں ان کے طریقہ کار، ان سے پاس کردہ فقہی تجاویز کی شرعی اور قانونی حیثیت پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
ایک اہم اور قابل قدر کام اس کتاب میں یہ بھی ملتا ہے کہ دورانِ تحریر جتنی شخصیات کا نام کتاب میں مذکور ہوا ہے، ان سب کا قدرے تفصیلی تعارف کتاب کے اخیر میں پیش کیا گیا ہے، جس میں موضوع سے متعلق چوٹی کے ائمہ اور علماء کے ساتھ فی الحال درمیانی صف میں شمار ہونے والے باحثین، مصنفین اور اہل علم وقلم کو بھی جگہ دے کر، ان کے تذکرہ کو عمر دوام بخشا گیا ہے، اور اس طرح اس موضوع سے متعلق جدید علماء کا تعارف نئی اور آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرنے کا تاریخی کام کیا گیا ہے، نیز کتاب کا یہ گوشہ رسرچ اسکالرس، محققین اور اہل علم کے لئے قیمتی سوغات کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس بیش قیمت علمی اور تحقیقی کتاب پر ملک کے نامی گرامی اکابر علماء کی تقریظات، توصیفی عبارات اور دعائیہ کلمات ثبت ہیں، اشاعت کے بعد بھی اہل علم کے حلقوں میں یہ کتاب موضوع بحث رہی، نامور اور معروف قلم کاروں نے کتاب کے مشمولات اور اس کی قدر و قیمت پر بہت لکھا ہے، جو اس کتاب کی عند اللہ و عندالناس مقبولیت کی بڑی دلیل ہے؛ ذاتی طور پر میں بھی کتاب کے مضامین سے متاثر ہوا، اور مفتی صاحب کے مضامین تو میں نے کافی پڑھے ہیں؛ البتہ یہ آپ کی پہلی کتاب پڑھنے کا مجھے موقع ملا، جس کے بعد میں نے یہ چند سطریں تو ضرور لکھ دی ہیں؛ لیکن کتاب اور صاحبِ کتاب کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ تو اہل علم ہی لگاسکتے ہیں، وہی ان کے لعل وجواہر سے بخوبی پردہ اٹھاسکتے ہیں؛ کیوں کہ احقر تو اپنے آپ کو اس شعر کا مصداق سمجھتا ہے:
یہ رمزی بے بصیرت ہے ترے رتبہ کو کیا جانے
جو ہم رتبہ ہو تیرا وہ ترے اوصاف پہچانے
خاکپائے اسلاف
امدادالحق بختیار

