اردو زبان میں قرآن کریم کی بے شمار تفسیریں ہیں ، لیکن مجھے ذاتی طور پر قرآن فہمی میں جس تفسیر سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا ، وہ حضرت تھانوی کی تفسیر بیان القرآن ہے ، اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ اس تفسیر کی خدمت کی سعادت حاصل ہوئی ، تو اب اس کی تعریف کرنا بھی ضروری ٹھہرا۔
احوال واقعی یہ ہیں کہ زمانہ طالب علمی کی ابتدا ہی سے اپنے اساتذہ کرام اور بزرگوں سے تواتر سے یہ سنا کہ بیان القرآن جیسی تفسیر کوئی نہیں ، بس اس کا اسلوب ابتداء ًکچھ مشکل ہے ، اگر یہ ایک بار سمجھ آجائے تو پھر آسان ہے ، پھر بیان القرآن کے متعلق مختلف اساطین علم کے تاثرات بھی وقتا فوقتا نظر سے گذرتے رہتے ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ ہوں یا علامہ سید سلیمان ندویؒ ، حضرت بنوریؒ ہوں یا پروفیسر عبد الباری ندویؒ ،غرض ہر ایک قرآن فہمی کے لیے اس کی تعریف میں رطب اللسان نظر آیا۔
دوسری طرف جب یہ پتہ لگا کہ اردو زبان کی مشہور اور اہم تفسیریں بیان القرآن کی تشریح ، تسہیل اور تفصیل ہی کے سبب وجود میں آئیں تو اور زیادہ حیرانی ہوئی ، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ کی معارف القرآن ہو یا مولانا محمد ادریس کاندھلوی صاحب ؒ کی معارف القرآن ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی تفسیر عثمانی ہو یا تفسیر ماجدی ، یہ چاروں تو بالخصوص اور دیگر کئی تفسیریں بیان القرآن ہی کا نتیجہ فکر ہیں (یہ الگ بات ہے کہ بعض حوالہ نہیں دیتے) تو اس کے مطالعہ کا اشتیاق اور زیادہ بڑھ جاتا، لیکن جب کبھی اس کا مطالعہ شروع کیا تو اس کی قدیم اردو اور مشکل اسلوب ہمیشہ آڑے آیا، اور اپنی کم مائیگی کی وجہ سے ایک حد سے زیادہ کبھی مطالعہ نہ کرپایا ، قرآنی خدمت کے سلسلہ میں اس عظیم قیمتی علمی سرمایہ کا احیاء بھی ضروری تھا۔
بیان القرآن کی تسہیل کا سفر کیسے طے ہوا ؟ اس کے لیے کچھ پس منظر بتانا ضروری ہوگا، مادر علمی جامعہ بنوری ٹاؤن میں خدمت کے ساتھ ساتھ راقم کو ایک مسجد میں بھی خدمت کی سعادت حاصل ہے ، اور یہ محض اللہ تعالی کی توفیق ہے ، دونوں جگہ قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیر کی ذمہ داری بھی تھی ، اس لیے اہتمام سے مختلف تفسیروں کے مطالعہ کا موقع مل جاتا ، روزانہ مسجد میں قیام کے دوران فرائض و ذمہ داری کی انجام دہی کے بعد فارغ وقت بھی ہوتا۔
اسی دوران غالبا 2012ء یا 2013ء میں یہ خیال آیا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو جائے ، بیان القرآن سے براہ راست استفادہ کیا جائے ، اس کی ترتیب اللہ تعالی نے دل میں یہ ڈالی کہ اسے اپنے مطالعہ کے لیے آسان کرنے کی کوشش شروع کی جائے ، اور یہ کام براہ راست کمپیوٹر پر ہی ہو ، تاکہ مرتب ہونے کی وجہ سے پڑھنے میں بھی آسانی ہو ، غرض اس طرح اپنے ذاتی فائدہ کے لیے یہ کام شروع کیا تھا ، روزانہ کچھ حصہ کمپوز کرتا ، اس کے لیے ان تفسیروں کو بھی سامنے رکھتا جو بیان القرآن کی تسہیل کے سلسلہ میں تالیف وترتیب دی گئیں ، یہ کام جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا بیان القرآن کا رنگ نکھر کر سامنے آتا گیا ، قرآن کا حقیقی مقصد و پیغام تو سامنے آتا ہی تھا ، لیکن آیتوں کے ترجمہ و تفسیر میں ربط و نظم کا ایسا زبردست اہتمام کہ اگر اسے پڑھتے چلے جائیں تو ایک بے تکلف مسلسل ومربوط کتاب پڑھنے کااحساس ہو، پھر تلاوت قرآن یا تفسیر پڑھتے ہوئے اکثر معمولی اور بعض غیر معمولی قسم کے شبہات جو دل میں تھے بیان القرآن میں ایک ایک کرکے ان سب کاحل ملتا چلا گیا ، اور وہ حل اور دیگر کئی نکات بھی حضرت تھانویؒ اتنے عام انداز اور چھوٹے سے جملہ میں سمو دیتے ہیں کہ مزہ آجاتا ہے ۔
بیان القرآن کی تسہیل کی یہ خدمت صرف ایک تالیفی کام نہیں تھا ، بلکہ شاید ایک نشہ سا تھا ، جیسے جیسے آگے بڑھتا چلا جارہا تھا لطف دوچند ہوتا جارہا تھا ، اس وقت اس کے شائع کرنے کی کوئی فکر تھی ہی نہیں ، بس دل میں یہی بات تھی کہ یہ شائع ہو یا نہ ہو ، یہ اہم نہیں ، مجھے خود ذاتی طور پر قرآن سمجھنے میں بہت فائدہ ہو رہا تھا ، یہ اصل ہے، پتہ نہیں یہ لکھنا مناسب ہوگا یا نہیں کہ اس کام کے دوران میں اتنا منہمک ہو جاتا کہ درمیان میں نماز کے دوران بھی قرآنی نکات غیر اختیاری طور پر دل ودماغ میں گردش کرتے رہتے ، اور پھر عین الیقین بھی ہوگیا کہ اپنے اساتذہ اور بزرگوں سے اس تفسیر کے متعلق جو کچھ سنا وہ حقیقت تھی ، واقعی یہ اردو میں اپنی نوعیت کی تاحال منفرد اور بے مثال تفسیر ہے۔
ایک اور بات جو راقم کے لیے مزید حیران کن تھی کہ حضرت تھانویؒ نے جب یہ تفسیر لکھی تو ان کی عمر 40 سال تھی ، یعنی شباب کا انتہائی عروج ، اس سے قبل میرا ذاتی گمان یہ تھا کہ شاید انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں یہ لکھی ہوگی ، جبکہ وفات کے وقت ان کی عمر 80 سال تھی ، بہرحال اللہ تعالی نے محض اپنے فضل وکرم سے یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچایا ، اور پھر یہ شائع بھی ہوئی ، منظر عام پر آنے کے بعد علماء کرام ، بالخصوص ائمہ حضرات اور دیگر اہل علم سب نے ہی راقم کی بہت حوصلہ افزائی فرمائی ، جنہیں طوالت سے بچنے کے لیے یہاں نقل نہیں کررہا ۔
یہ سب عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ نے قرآن فہمی کے لیے اب تک بیان القرآن کا مطالعہ نہیں کیا تو اس رمضان میں بیان القرآن کا ایک بار مکمل مطالعہ ضرور کریں ، مگر یک سوئی اور غور وفکر کے ساتھ ، آپ کو بہت کچھ حاصل ہوجائے گا۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ مختصر داستان اور مشورہ اپنی تسہیل کی تشہیر کے لیے ہرگز نہیں ہے ، بلکہ آپ قرآن فہمی کے لیے براہ راست بیان القرآن کا مطالعہ کریں ، اگر وہ مشکل لگے تو 2 قسم کی معارف القرآن موجود ہیں، اگر وہ طویل لگے تو بیان القرآن کی دیگر تسہیلات بھی ہیں ، ان کا مطالعہ فرمالیں ، لیکن قرآن فہمی کے لیے ایک بار بیان القرآن کو ضرور پڑھ لیں ، آپ کو احساس ہوگا کہ آپ واقعی قرآن فہمی کے سلسلہ میں ایک اہم چیز سے اب تک محروم تھے۔
بشکریہ عمر انور بدخشانی

