Web Analytics Made Easy - StatCounter
تہافت الملاحدہ

تہافت الملاحدہ اور اس پر ہونے والے تبصرے

تہافت الملاحدہ اور اس پر ہونے والے تبصرے

عاصم افتخار

علمی روایت میں مضامین و کتب کے ساتھ تعامل کی ایک اہم صورت یہ رہی ہے کہ ان پر علمی تبصرے، نقد و تجزیے اور تعقیبات لکھی جائیں۔ یہی عمل کسی بھی علمی روایت کو زندہ اور متحرک بناتا ہے۔ برصغیر میں جدید الحاد کے تناظر میں ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کی کتاب “تہافت الملاحدہ” یقیناً ایک اہم اور وقیع علمی کوشش ہے، جس نے اردو خواں طبقہ اور علماء حلقوں میں الحاد کے معاصر مباحث کو منظم انداز میں زیر بحث لانے کی سعی کی ہے۔ اس جہت سے یہ کتاب ایک جامع تصنیف ہے جو اپنے قاری کو جدید الحادی مباحث اور ان کے فکری پس منظر سے روشناس کراتی ہے۔

چنانچہ ضروری ہے کہ اہلِ علم اس کتاب کے ساتھ سنجیدہ علمی تعامل کریں؛ اس کے مناہج، استدلال، قوتوں اور ممکنہ کمزوریوں پر گفتگو ہو، تاکہ یہ میدان مزید توسع اور تخصص کی طرف بڑھ سکے۔ (بندہ کا بھی ارادہ ہے کہ مستقبل میں اس کتاب پر ایک مفصل علمی تبصرہ و نقد تحریر کیا جائے۔)

حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر اس کتاب کے حوالے سے بعض تبصرے نظر سے گزرے۔ اگرچہ ان میں سے اکثر اپنے اسلوب، ساخت اور علمی معیار کے اعتبار سے باقاعدہ علمی نقد نہیں کہے جا سکتے، تاہم ان میں بعض ایسے نکات موجود تھے جنہیں مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بندہ نے مناسب سمجھا کہ انہی میں سے کچھ تحریروں کو بنیاد بنا کر چند ابتدائی معروضات پیش کر دیے جائیں۔ ممکن ہے یہ گفتگو آئندہ کسی مفصل اور منظم تبصرے کے لیے ایک پیش رفت ثابت ہو۔

ان تبصروں کو پڑھتے ہوئے یہ احساس بھی ہوا کہ اکثر ناقدین نے غالباً پوری کتاب کا براہِ راست مطالعہ نہیں کیا، یا کم از کم کتاب کے مناہج، مباحث اور ساخت کو پوری طرح سامنے رکھ کر گفتگو نہیں کی۔ اس لیے بعض اعتراضات ایسے محسوس ہوتے ہیں جو کتاب کے اصل مواد سے مطابقت نہیں رکھتے۔

مثلاً یہ نقد کہ کتاب میں سائنسی مباحث سرسری ہیں، یا جدید سائنسی اعتراضات کا جواب موجود نہیں، محلِ نظر ہے۔ “تہافت الملاحدہ” میں بالخصوص نظریۂ ارتقاء پر گفتگو دفاعی یا خطیبانہ نہیں بلکہ سائنسی اور فلسفۂ سائنس کے منہج پر کی گئی ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر تدریسی اسلوب موجود ہے (کیونکہ اصلاً یہ کتاب دورانِ درس ہی مرتب ہوئی ہے)، مگر مجموعی منہج کو صرف خطیبانہ کہ دینا درست نہیں۔

مزید یہ کہ اگر کتاب کے ابواب اور ترتیب پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس میں محض عمومی خطابت یا تاثراتی گفتگو نہیں، بلکہ منظم استدلالی ساخت اختیار کی گئی ہے۔ دلائلِ وجودِ باریٰ کی تعداد بنیادی طور پر چھ ہے، پھر ان کے ضمن میں مختلف اعتراضات اور ان کے جوابات الگ سے زیر بحث آئے ہیں۔ اسی طرح دلائلِ نبوت و رسالت کی تعداد سولہ ہے، جس کا اندازہ صرف جلد چہارم کی فہرست سے ہی ہو جاتا ہے۔

اسی طرح ارتقاء کے باب میں بھی محض ایک یا دو عمومی اعتراضات پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ مختلف جہات سے متعدد استدلالات پیش کیے گئے ہیں۔ چار دلائل Lamarckian Evolution کے خلاف دیے گئے ہیں، جبکہ چار دلائل Miller-Urey Experiment کے تناظر میں ذکر کیے گئے ہیں۔ مزید چار دلائل Organic Chemistry کی بنیاد پر قائم کیے گئے، ایک دلیل Biochemistry سے دی گئی، اور دو دلائل Genetic Science سے متعلق ہیں۔ اس طرح صرف ابتدائی سائنسی دلائل کی تعداد چودہ بنتی ہے۔ اس کے بعد دو حیاتیاتی دلائل، ایک لسانیاتی دلیل، چار نفسیاتی دلائل اور ایک رکازاتی (Fossil-based) دلیل بھی ذکر کی گئی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر ارتقاء کے باب میں تیئس مختلف استدلالات پیش کیے گئے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ کتاب میں ارتقاء یا جدید سائنسی مباحث پر محض سرسری گفتگو کی گئی ہے، غالباً کتاب کے اصل مواد سے پوری واقفیت کے بغیر کیا گیا تبصرہ محسوس ہوتا ہے۔

ارتقاء اور آغازِ حیات کے باب میں Miller-Urey Experiment کی explanatory limitations پر Organic Chemistry کی روشنی میں گفتگو کی گئی ہے، اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ حیات کے آغاز کے متعلق بعض مفروضات خود سائنسی سطح پر بھی قطعی نہیں ہیں۔

اسی طرح Scientism پر جو بحث کی گئی ہے وہ خالص فلسفۂ سائنس اور علمیات (Epistemology) کے دائرے سے متعلق ہے۔ وہاں مسئلہ “سائنس” نہیں بلکہ “سائنس کو واحد ذریعۂ علم سمجھنے” کے فلسفیانہ دعوے کا تجزیہ ہے۔ اسی طرح فیمنزم، ٹرانس جینڈر ازم اور جدید شناختی مباحث پر گفتگو بھی صرف جذباتی ردِ عمل محسوس نہیں ہوتی بلکہ سائنسی، سماجی اور اصولی زاویوں کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ کتاب جدید سائنسی مباحث سے خالی ہے، ایک غیر محتاط تاثر معلوم ہوتا ہے۔

اسی طرح چند لکھاریوں نے “سرجیکل اسٹرائیک” پروگرام کو کتاب کے ساتھ جوڑ دیا ہے، جو درست معلوم نہیں ہوتا۔ “تہافت الملاحدہ” میں بنیادی طور پر اس پروگرام کے اعتراضات جمع نہیں کیے گئے، بلکہ الحاد کے فکری، فلسفیانہ اور تہذیبی مقدمات پر مستقل گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب کی ساخت اور منہج کو دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک پروگرام کی تحریری شکل نہیں بلکہ ایک جامع فکری و علمی پروجیکٹ ہے۔

مزید یہ کہ کچھ تبصرہ نگاروں نے کتاب پر “دیسی الحاد” تک محدود ہونے کا اعتراض کرتے ہوئے جاوید اختر اور طارق فتح وغیرہ کا ذکر کیا، حالانکہ یہ بات بھی تاریخی طور پر محلِ اشکال ہے۔ جاوید اختر کے ساتھ مناظرہ اگرچہ کتاب کی اشاعت سے قبل ہوا، لیکن یہ کتاب جس “کورس” کی بنیاد پر ترتیب دی گئی، اس کی تکمیل ڈبیٹ سے کئی سال پہلے ہی ہو چکی تھی۔ اس لیے اس کتاب کے مواد کا تعلق اس ڈبیٹ سے نہیں معلوم ہوتا۔ پھر پوری کتاب میں جاوید اختر اور طارق فتح کے اعتراضات مرکزی حیثیت سے موجود بھی نہیں ہیں۔ اس لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید بعد کے میڈیا امیج کو کتاب پر منطبق کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح “جن گن من” کے مسئلے کو بھی کتاب کے تناظر میں بطور اعتراض پیش کیا گیا، مگر مناسب علمی بات یہ تھی کہ کم از کم یہ وضاحت کر دی جاتی کہ یہ رائے کتاب کی کس جلد اور کس صفحہ پر مذکور ہے، کیونکہ کم از کم بندہ کے علم میں یہ بحث کتاب میں موجود نہیں۔

علمی نقد میں حوالہ، سیاق اور نص کی تعیین بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

کتاب پر نقد اور سنجیدہ تبصرہ یقیناً ہونا چاہیے، بلکہ بھرپور ہونا چاہیے، کیونکہ کوئی انسانی کام نقص سے خالی نہیں ہوتا۔ لیکن علمی نقد کی پہلی شرط یہ ہے کہ متعلقہ کتاب کو براہِ راست، مکمل اور دیانت داری کے ساتھ پڑھا جائے۔ ورنہ نقد کے بجائے ایک “تصورِ کتاب” پر تبصرہ ہونے لگتا ہے، اور پھر گفتگو علمی کم اور تاثراتی زیادہ ہو جاتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login