اسلام مخالف طاقتوں کی جانب سے اسلام کے تئیں نفرت و تعصب کا بیانیہ اگرچہ صدیوں سے جاری ہے؛ مگر اسے اسلامو فوبیا کا نام ماضی قریب ہی میں دیا گیا ہے ۔ راشد امین کی تألیف اسلامو فوبیا : نفرت کا بیانیہ ، حکمت کا پیغام اسلاموفوبیا ہی کے مختلف مظاہر پر روشنی ڈالتی ہے۔
راشد امین سے پہلی ملاقات محمود بھائی کے توسط سے دیوبند میں ہوئی ، وہ تہافت الملاحدہ کی تقریب رسم اجرا کے منتظم تھے اور ہم کتاب کی آمد کے منتظر ۔ ان چند دنوں میں ان سے بے تکلفی نہ ہوسکی ؛ البتہ ان کی طبیعت کے توازن ، سنجیدگی اور کم گوئی کا اندازہ ہوا جو ان کے بارے میں پہلا تاثر بھی بنا ۔ انہی دنوں یہ معلوم ہوا کہ وہ اسلامو فوبیا پر ایک کتاب ترتیب دے رہے ہیں جو بالآخر باصرہ نواز ہوئی اورورق گردانی کی سعادت کے بعد آپ کے سامنے ہے ۔
راشد امین نے ہم دست کتاب کو بارہ ابواب پر تقسیم کیا ہے۔ ان ابواب میں اسلاموفوبیا کی تعریف ، مفہوم ، تاریخی تسلسل ، عالمی اور ہندوستانی تناظر میں اس کے مظاہر ، سوشل میڈیا الگورتھم کے ذریعے اس کی غیر شعوری اشاعت ، مسلم نوجوانوں پر اس کے نفسیاتی اثرات ، ان کا شناختی بحران اور ہماری حکمت عملی سبھی کچھ سمٹ آیا ہے ۔ تاریخی ارتقا میں انہوں نے خصوصاً اس چیز پر روشنی ڈالی ہے کہ اسلام کے خلاف دشمنی اور زہرناکی؛ انبیاے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے خلاف کی جانے والی سازشوں اور عداوتوں کا تسلسل ہی ہے ، در حقیقت یہ پرانی شراب ہے جس کو نئے جام اور نئے نام کے ساتھ سربمہر از سر نو پیش کیا گیا ہے ۔ انہوں نے صلیبی جنگجوں سے موجودہ دور کی عالمی طاقتوں اور مین اسٹریم میڈیا کے مابین اس کی بڑھتی شدت ، اس کے اسباب اور مظاہر پر بھی مناسب انداز میں بحث کی ہے جو تاریخی معلومات پر مشتمل ہونے کے ساتھ خاصے کی چیز ہے ۔ میڈیا کے ذریعے اسلاموفوبیا کے پھیلاؤ ، ویڈیو الگورتھم سے غیر محسوس اشاعت ، مسلم نوجوانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور اس بنا پر ان کے ذہنوں میں پروان چڑھتے شناختی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ دکھلایا ہے کہ عالمی طاقتیں امن پسندی کے خول میں ایک مکروہ چہرہ رکھتی ہیں جس کا اظہار اسلام کی مخالفت میں ہوتا ہے ، اس پہلو ہمارے ان احباب کو فکرمندی کی شدید ضرورت ہے جو ہر وقت مغرب کے گن گائے رہتے ہیں۔
کتاب کی ایک خصوصیت اسلاموفوبک ذہنیت کے نتیجے میں رونما ہوئے واقعات و مقدمات کی تاریخ وار تدوین بھی ہے ۔ راشد امین نے عالمی ؛ بالخصوص ہندوستانی پس منظر میں اس چیز پر خصوصیت سے توجہ دی ہے کہ گذشتہ تین دہائی کے وہ تمام حادثات و مناظر کتاب میں سما جائیں جو اسلام کے تئیں بڑھتی نفرت کا مظہر تھے۔ اس ذیل میں ان واقعات کے اسباب ، مقاصد اور متفرق پہلوؤں پر کلام کرتے ہوئے موجودہ دور میں ہماری حکمت عملی اور اس میں بہتری لانے کی جانب مختصراً اشارہ کیا ہے۔ یوں اس کتاب کو ایک دستاویزی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے ۔ اخیر کے چند صفحات میں کتاب میں ذکر کی گئی اصطلاحات کی توضیح بھی درج کی گئی ہے جو ایک اچھا اقدام ہے۔
کتاب کا انداز بیان آسان ہے ۔ موضوع سے متعلق معلومات پر یہ ایک مناسب دستاویز ہے جس پر راشد امین صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں ساتھ ہی انہیں کتاب کے نئے ایڈیشن میں متعدد چیزوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے جو درج ذیل ہیں :
• کتاب کی ترتیب و تزئین اور مثالی کتابوں کی مانند اس کی بہترین سیٹنگ کی ضرورت جا بہ جا محسوس ہوتی ہے۔
• بہت سی سرخیاں دب کر رہ گئی ہیں جو خط کشیدہ ہونے کے با وصف التباس پیدا کرتی ہیں ۔
• کتاب کے اندازبیان میں دو تین جگہوں پر اے آئی کا اسلوب در آیا ہے جو اگرچہ ترتیب و تدوین کی حد تک معاونت میں درست ہے ؛مگر کتاب میں اس کے جملے رہ جانا اچھی علامت نہیں ۔
• کتاب میں پیش کیے گئے واقعات میں مختلف جگہوں پر تکرار نظر آیا ، ایک مقام پر تفصیلی گفتگو کرکے آئندہ اس کی جانب اشارہ ایک متبادل شکل ہوسکتی ہے ۔
• کسی بحث کے درمیان ہندوستان میں مختلف مقاصد کے لیے قائم کی گئی مسلم تنظیموں کا سبب خلافت عثمانیہ کا سقوط قرار دیا ہے جو ہمارا خیال ہے درست نہیں ، ہندوستان میں اس دوران وجود میں آئی ہوئی تنظیموں کی اپنی ضرورت اور اسباب تھے جن پر تاریخ میں بحث موجود ہے ۔ اسی طرح کتاب میں ایک متنازع مصنف کا حوالہ موجود ہے جب کہ اس موضوع پر متعدد مستند مؤلفین کے مضامین موجود ہیں ، یہ چیز ایک عام قاری کے لیے متنازع مباحث کی جانب رہنمائی کی وجہ بنتی ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ غیر مناسب عمل ہے۔
• کتاب میں اشاریے اور مآخذ و مراجع کی تفصیلی فہرست بھی اگلے ایڈیشن میں شامل کردی جائے تو کتاب کا حسن نکھر جائے گا ۔
حذیفہ صبیح

