Web Analytics Made Easy -
StatCounter

Urdu Tibbi Rasail o Jaraid Bar e Saghir Hind o Pak Mein, اردو طبی رسائل وجرائد برصغیر ہند و پاک میں

Urdu Tibbi Rasail o Jaraid Bar e Saghir Hind o Pak Mein, اردو طبی رسائل وجرائد برصغیر ہند و پاک میں

کتاب: اردو طبی رسائل وجرائد برصغیر ہند و پاک میں

مولف: حکیم وسیم احمد اعظمی

زیر تعارف کتاب برصغیر ہند وپاک سے شائع والے 404؍ طبی رسائل وجرائد کے تعارف پر مشتمل ایک تحقیقی کتاب ہے، جس میں 1842ء سے لے کر 2010ء تک کے ان طبی رسائل وجرائد کا تعارف اور ان کے متعلق تفصیلات ہیں جن کا علم یا جن تک مصنف کی رسائی ہوسکی ہے۔مولف کتاب اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں

ہندوستان میں انیسویں صدی عیسوی کے اواسط سے ہی یونانی طب کے رسالے نکلتے رہے ہیں ۔زیر نظر کتاب میں اردوطبّی رسالوں اور جریدوں کا جائزہ لیا گیا ہے ، جس کے تناظر میں اس عہد کے معالجاتی مزاج ،تحقیق کی رفتار، ابلاغ و ارسال کے وسائل اور اسلوب کی تعیین فنی حیثیت کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔(ص:۱۳)

اس جائزہ کے حوالہ سے ایک امر کی وضاحت کر دیں کہ ہم نے بیشتر رسائل و جرائد کا اولین شمارہ نہیں دیکھا ہے ۔رسالہ کے آغاز اشاعت تک پہنچنے کاعمل کچھ اس طرح ہے کہ ہمارے مطالعہ میں رسالے کی جو جلد یا شمارہ رہا ہے، اس کی بنیاد پر ماضی کی طرف لوٹے ہیں اور آ غاز اشاعت یا سن اشاعت کی نشاندہی کی ہے، جس میں بعض مقامات پر مغالطہ یا اشتباہ بھی ہوسکتا ہے ۔ بعض رسالے ایسے بھی رہے ہیں ، جن کے حوالے صرف طبی تذکروں ، تاریخ طب کی کتابوں یا رسالوں کی سائٹ میں دیکھے ہیں ، وہ ہمارے تفصیلی مطالعے میں نہیں رہے ہیں ۔ ہم نے اس اعتراف کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے۔(ص: ۱۵)

یہ کام خاصا مشکل اور دشوار تھا ، اولاً تو اتنے رسائل کی تلاش ہی حوصلوں کو مضمحل کردینے کے لئے کافی ہے ، پھر سب کو پڑھنا اور ان کی تفصیلات کو مرتب کرنا بڑی جگرکاوی کا عمل ہے ۔ کتاب کے مصنف حکیم وسیم احمداعظمی (فاضل دیوبند) اس دشوار گزار عمل سے گزرے اور ان کی غیر معمولی ہمت وجستجو اور شوق ولگن کی بدولت سالوں کا یہ کام چند ماہ میں مکمل ہوگیا۔حکیم صاحب کا ذکر اس سلسلۂ تعارف کی دوسری قسط میں آچکا ہے اور میں وہاں لکھ چکا ہوں کہ ’’ فن طب، تاریخ اور طبی ادبیات حکیم صاحب کی دلچسپی کے خصوصی موضوعات ہیں۔‘‘ یہ واقعہ ہے کہ انھیں فن طب سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے ، یہی وجہ ہے ملازمت کی تمام تر مصروفیات کے باوجود اب تک طب سے متعلق ان کی درج ذیل کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں

بیت الحکمت کی طبی خدمات۔امراض اطفال۔امراض اذن وانف و حلق۔ امراض نسواں ۔معالجات(چار جلدیں)۔علم الصیدلہ۔کلیات ادویہ۔تحفظی و سماجی طب۔ فوائد زیتون ایک تحقیقی مطالعہ ۔مرکبات ادویہ (دو جلدیں)۔محمد بن زکریا رازی احوال و آثار ۔مطالعہ مخطوطات طب یونانی کے خصوصی حوالہ سے ۔احادیث نبوی میں پھلوں تذکرہ ۔ احادیث نبوی میں سبزیوں کا تذکرہ ۔خوش نویسان طب،وفیات اطباء ہند و پاک جلد اول حصہ اول،وفیات اطباء ہند و پاک جلد سوم حصہ اول ،تکمیل الطب کالج لکھنو کی علمی خدمات ۔

ان کے علاوہ جو مسودات تشنۂ تکمیل واشاعت ہیں وہ بھی اس مطبوعہ حصہ کے نصف کے بقدر ہیں ، اللہ ان کی تکمیل واشاعت کو آسان کرے۔

حکیم صاحب کے ذوق بلند وجذبۂ محنت نے صرف ان رسائل کے تعارف وتفصیلات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ کتاب کے اخیر میں انھوں نے اپنے قارئین کی سہولت کے لئے چار پانچ طرح کی فہرست بھی بنادی ہے جسے اس کامفصل اشاریہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ پہلی فہرست حروف تہجی( الفابیٹ ) کے اعتبار سے ہے ، جس میں چھ کالم ہیں ، پہلے کالم میں نمبر شمار، دوسرے میں رسالہ کا نام ، تیسرے میں مدیر کا نام ، چوتھے میں مقام اشاعت ، پانچویں میں وقفۂ اشاعت یعنی وہ ماہانہ ہے یا پندرہ روزہ یا ہفت روزہ ہے، اس کی تفصیل۔ چھٹے کالم میں آغازِ اشاعت یعنی کب سے نکلنا شروع ہوا ہے۔

دوسری فہرست مقام اشاعت کے اعتبار سے ہے ، یعنی ایک مقام اور شہر سے نکلنے والے رسائل کا ذکریکجا کردیا ہے، اگر کسی کو صرف شہر کا نام یاد ہوتو اس کے لئے تلاش آسان ہو۔ مقامات کی ترتیب حروف تہجی کے اعتبار سے ہے۔

تیسری سے چھٹی فہرست تک سن اشاعت کے اعتبار سے ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ تیسری فہرست میں صرف موجودہ ہندوستان سے نکلنے والے ان رسائل کا ذکر ہے جو 1842ء سے اگست 1947ء تک یعنی آزادی سے پہلے تک نکلے ۔ چوتھی فہرست میں 15؍ اگست 1947ء سے 2010ء تک نکلنے والے رسائل کا ذکر ہے۔ اسی طرح سے پانچویں اور چھٹی فہرست میں پاکستان سے نکلنے والے رسائل کا ذکر ہے۔یہ فہرستیں 52؍ صفحات پر مشتمل ہیں ۔

کتاب کاآغاز طبی دنیا کی ایک معروف شخصیت پروفیسر حکیم ظل الرحمٰن صاحب کے مقدمہ سے ہوتا ہے ، اس مقدمہ میں اردو صحافت کے حوالے سے بڑی اہم اور بنیادی معلومات آگئی ہیں۔ اس کے بعد حکیم صاحب کا پیش لفظ ہے جس میں انھوں نے اپنے طریقۂ کار کی وضاحت کی ہے ، اس کے دو اقتباسات ابتداء دئے گئے ہیں ۔

Urdu Tibbi Rasail o Jaraid Bar e Saghir Hind o Pak Mein

Leave a Reply

Your email address will not be published.