تہافت الملاحدہ: ایک عظیم الشان تجدیدی کاوش
اگر آپ یونانی فلسفہ کی تردید میں امام غزالی رحمہ اللہ کو اہتمام سے پڑھ چکے ہیں، اور آپ جانتے ہیں کہ امام نے کس طرح یونانی فلسفہ کی خاک اڑائی ہے اور کیسے اس کے گمراہ کن اثرات کے طوفان بلاخیز کے آگے بند باندھا ہے، تو آپ مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب مدظلہم کی “تہافت الملاحدہ” کی اہمیت سمجھ سکیں گے، بلکہ اس کاوش کو بڑی حد تک امام غزالی کی تجدیدی کاوش کی طرح جدید مغربی فلسفہ کی تردید میں ایک تجدیدی کارنامہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔
قدیم یونانی فلسفے اور جدید مغربی فلسفے کا اس پہلو سے تقابلی جائزہ ایک مستقل موضوع ہے کہ ان میں سے زیادہ پیچیدگی بالخصوص مذہب کے باب میں کس نے پیدا کی ہے؟! تاہم اتنی بات تو بہت حد تک واضح ہے کہ قدیم یونانی فلسفہ کو مسلم حکماء بالخصوص فارابی اور ابن سینا نے خوب منقح کیا تھا، خود ارسطو کی کتابیں بھی بہت تنقیح کے ساتھ اس فلسفے پر مشتمل ہیں، پھر بالخصوص ابن رشد رحمہ اللہ نے ارسطو کی کتابوں کی جو تلخیصات پیش کی ہیں اس نے اس سلسلہ کی تنقیح کو مکمل کردیا ہے۔
یونانی فلسفہ کے علومِ کی اسی درجہ بندی classification اور کبریات کو سامنے رکھ کر امام غزالی رحمہ اللہ نے “المنقذ من الضلال” میں انتہائی اختصار اور جامعیت کے ساتھ علوم فلسفہ کا تعارف کروایا ہے اور اس کے مفید اور مضر پہلو بیان فرمائے ہیں۔ جبکہ “مقاصد الفلاسفہ” میں ستقل طور پر منطق، طبیعیات اور الہیات تینوں کے اہم مسائل کا پورے انصاف سے مفصل تعارف پیش فرمایا ہے۔ اور پھر “تہافت الفلاسفہ” میں ان کا بھرپور رد فرمایا ہے۔ اسی طرح “معیار العلم” اور “محک النظر” وغیرہ میں اس کے مفید علوم الگ سے منقح کرکے پیش فرمائے ہیں۔
اس کے برعکس جدید مغربی فلسفہ اپنے “نظریہ معرفت” epistemology سے لے کر سائنس، فلسفہ سائنس، سوشل سائنسز اور سائیکالوجی کے شروع کے ادوار سے دور جدید تک انتہائی الجھا ہوا ہے۔ یہاں نئی نئی سائنسز، نظریات اور بھاری بھرکم اصطلاحات کی بھرمار ہے۔ اس لیے اس پورے فلسفہ کا مطالعہ اور اس کی تردید تو درکنار اس کے تصور سے بھی دانتوں کو پسینہ آجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاص طور پر اردو میں جدیدیت کی تردید میں لکھی گئی تحریروں میں انتشار پایا جاتا ہے، کوئی منقح صورت سامنے نہیں آسکی ہے۔ لیکن جب آپ ان شاءاللہ “تہافت الملاحدہ” پڑھیں گے تو یہ خوش گوار حیرت پائیں گے کہ حضرت مفتی صاحب نے اس جاں گسل معرکہ کو کس خوب صورتی سے سر کیا ہے۔ مفتی صاحب نے امام غزالی رحمہ اللہ کے نقش قدم پر چل کر امت پر عظیم احسان فرمایا ہے اور عقیدت میں ڈوب کر امام کو خراج تحسین بھی پیش کی ہے۔
جب “تہافت الملاحدہ” کا مطالعہ شروع کیا تو خیال تھا کہ شاید مفتی صاحب نے “تہافت الفلاسفہ” کے طرز پر صرف رد پیش فرمایا ہوگا، لیکن مطالعہ کے بعد یہ جان کر کافی مسرت ہوئی کہ ماشاءاللہ بہت جامع انداز میں جدید فلسفہ کے تقریبا سبھی علوم کا جامع اور سہل تعارف بھی پیش فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ دلنشیں اور شافی رد بھی فرمایا ہے۔ بلکہ کسی حد تک مفید پہلووں کو بھی اجاگر کیا ہے، مثلا جہاں گمراہ کن نظریات کا رد کیا ہے وہیں یہ تصریح بھی کرتے گیے ہیں کہ سائنس الگ چیز ہے اور سائنٹ ازم اور سائنس پرستی الگ۔ سائنس کے اندر بہت مفید چیزیں ہیں جس نے انسانیت کی بڑی خدمت بھی کی ہے لیکن اس کو غلط استعمال کرکے سائنٹ ازم کو بھی رواج دیا گیا ہے۔
پھر جیسا کہ عرض کیا گیا کہ یونانی فلسفہ کے مقابلہ میں جدید فلسفہ کئی پہلوؤں سے انتہائی پیچیدہ ہے، یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے اور کون سے فن سے کس علم کی طرف جایا جائے، اور کیسے یہ سلسلہ سر کیا جائے؟ مثلا آپ طبیعیات ہی کو لیجیے، قدیم فلسفہ میں اسی کے تحت سارے سائنسی علوم آگیے ہیں، مثلا ابن سینا کی “الشفاء” کی طبیعیات تین جلدوں میں سارے سائنسی علوم بیان کرتی ہے۔ جبکہ جدید مغربی فلسفہ میں سوشل سائنسز اور دیگر علوم سے قطع نظر صرف سائنس کے اندر اتنا تنوع ہے کہ ہر ہر فن ذیلی سائنسز کی صورت اختیار کرگیا ہے اور ان میں باقاعدہ اسپیشلائزیش ہورہی ہے۔ مثلا صرف رکازیات paleontology کو لیجیے جو ظاہر ہے الحاد جدید کے لیے اساسی میدان ہے، اس کے اندر انتہائی پیچیدگی ہے پھر اس کے ساتھ جینیٹکس، بائیو کیمسٹری اور جیولوجی وغیرہ کا باہمی مطالعہ ناگزیر ہوتا ہے جو قصے کو انتہائی پہلو دار بناتا جاتا ہے۔
تاہم اس سب کے باوجود حضرت مفتی صاحب انتہائی کامیابی سے ان سب علوم کا جامع تعارف پیش فرما چکے ہیں اور پھر مفصل رد بھی پیش فرمایا ہے۔ نیز یہ رد اسی سطح پر جاکر پیش کیا گیا ہے جس سطح پر جدید مفکر کھڑے ہوکر موٹے اصطلاحات میں بات کرتا اور اپنے مقدمہ کو معما بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ بالخصوص پہلی دو جلدی انتہائی اہم ہیں، جن میں ضروری تاریخی پس منظر کے ساتھ ساتھ اصولی، تعارفی اور تطبیقی پہلوؤں سے سائنس کی بنیاد پر کھڑے الحاد کے غبارے سے ہوا نکال دی گئی ہے۔ آگے کی جلدیں بھی اہم ہیں جن میں سوشل سائنسز اور سائیکالوجی کے شعبوں میں الحاد کے آگے بند باندھا گیا ہے۔ اسی طرح قرآنیات اور سیرت پر کیے گیے اہم اعتراضات کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ چونکہ مفتی صاحب طویل عرصہ سے براہ راست الحاد کے ساتھ مکالمہ کر رہے ہیں، اس لیے تجربات کی روشنی میں الحاد سے مکالمہ کا طریقہ بھی سکھاتے جاتے ہیں۔ یوں یہ کاوش کئی پہلوؤں سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اور حقیقی معنی میں آج کے الحاد کی تردید میں تجدیدی کارنامہ ہے۔ ان شاءاللہ اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں الحاد جدید اور فلسفہ جدیدہ سے مرعوبیت جاتی رہے گی وہیں اپنے روایتی علوم کی اہمیت اور دور حاضر میں ان کی معنویت کا اندازہ بھی ہوگا۔
سننے میں آیا ہے کہ ہندوستان میں پہلا ایڈیشن چند دن میں نکل چکا ہے، امید ہے پاکستان کے اہل علم بھی اس کی قدر کریں گے اور اس کی روشنی میں افراد تیار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کو اجر عظیم عطا فرمائیں اور ہم سب کو اس کاوش سے خوب مسفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔

