Web Analytics Made Easy - StatCounter
Tareekh Ilhad e Maghrib

تاریخ الحاد مغرب

الحاد اور خدا بیزاری کی جو لہر چار صدیوں پہلے مغرب سے اٹھی تھی وہ اب پھیلتے پھیلتے دنیا کے سبھی خطوں میں پہنچ چکی ہے۔انکار خدا کا یہ مسلئہ چوں کہ کسی خاص قوم و مذہب یا علاقے سے تعلق نہیں رکھتا اس لئے ہر زبان اور خطے میں اس پر حسب مزاج کام کیا جارہا ہے۔اردو دان طبقے میں بھی اب اس موضوع کو قابل تحریر سمجھا جانے لگا ہے اور علمی حلقوں سے نکل کر عوامی فضا میں بھی اب اس پر بات کی جانے لگی ہے۔

زیر نظر کتاب بھی اس میدان سے متعلق اردو تصنیفات کی فہرست میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔کتاب کا مرکزی خیال اور جوہری عنوان جس کے گرد ساری ابحاث گھومتی ہیں وہ الحاد کی تاریخ ہے۔اس موضوع پر اردو میں لکھی گئی اب تک کی تقریبا تمام کتابیں براہ راست الحادی فکر پر نقد اور ان کے علمی رد کی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہیں،جس کی وجہ سے قاری “فکر الحاد” کو محض چند عمومی اعتراضات اور کھوکھلے نظریات میں منحصر سمجھنے لگتا ہے جس کے سبب اسے وہ مجموعی خاکہ ( Big picture )حاصل نہیں ہوپاتا جو کسے بھی نظریے کو اس کے تاریخی سیاق اور تدریجی ادوار سمیت سمجھنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ موجودہ الحاد اب ایک وسیع تہذیبی پس منظر میں نشو پارہا ہے جس میں سیاسی،سماجی،اخلاقی اور معاشی قدروں سے بھی بحث کی جاتی ہے۔

مذکورہ کتاب آپ کو ڈھائی ہزار سے پہلے کے یونانی تصور خدا سے لے کر چلتی ہے اور ہر دور میں مغربی ذہن اس تصور میں کیا کیا تبدیلیاں کرتا رہا،ان سے روشناس کرواتی ہے،تاں آنکہ یہ سلسلہ عہد ما بعد جدیدیت(post modernism) پر ختم ہوتا ہے جس میں ہم جی رہے ہیں۔ان پچیس سوسالوں کو مصنف نے دس ادوار میں تقسیم کیا ہے اور ہر عنوان کا نام اس دور کی مرکزی فکر کے موافق رکھا ہے۔ترتیبی اعتبار سے اگرچہ کتاب تاریخِ الحاد پر ہے میں مگر ضمناً فلسفے کے ڈھائی ہزار سالہ ارتقائی دور میں گزرے تقریباً تمام قدیم و جدید فلسفیانہ گروہوں کے تصور خدا سے متعلق انفردای نظریات اپنے استدلالات سمیت آجاتے ہیں جن پر مصنف کا معقول علمی رد بھی قابل بیان ہے۔ساتھ ہی وہ مشہور اعتراضات بھی اپنے اپنے جوابات سمیت ذکر کر دئے گئے ہیں جن پر دیسی ملحدین کی علمی عمارت تعمیر ہے۔

ایک انفرادی خاصیت اس کتاب کی اس کا انتہائی مستند اور قابل اعتماد ہونا ہے،کیوں کہ مصنف نے تمام تر مواد براہ راست اصل مآخذ سے حاصل کیا ہے،مغربی مفکرین کے خیالات خود انہیں کی لکھی کتابوں کے حوالہ جات سمیت ایک قابل قدر اور نادر چیز ہے،ورنہ عمومی مزاج اس سلسلے میں تساہل کا ہے۔

اصل کتاب شروع ہونے سے پہلے چند صفحات مشہور فلسفیانہ اصطلاحات کی وضاحت کے لئے خاص ہیں جن پر نئے قاری کے لئے بقیہ کتاب کا فہم مو قوف ہے۔اس کے بعد الحاد کا تعارف اور اس کی مختلف اقسام کا قدرے تفصیل سے ذکر ہے تاکہ قاری الحاد کی تاریخ سے پہلے نفس الحاد کا تصور اپنے ذہن میں صاف کرلے۔اسی باب میں الحاد اور ملحدین سے متعلق کچھ شماریاتی رپورٹس بھی آجاتی جو موجودہ وقت میں الحادی فکر کی عالمی حیثیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

کتاب کا موضوع اگرچہ کافی خشک اور گاڑھا ہے مگر خالص علمی،ٹھوس اور منفر طرز تحریر نے اس میں جان ڈال دی ہے۔مصنف کا طرز نگارش قریب قریب مولانا وحید الدین خان سے ملتا ہے جو کہ اپنے منفرد اسلوب تحریر کے حوالہ سے مشہور ہیں۔
کتاب کے آخر میں پچیس صفحوں پر مشتمل موضوع سے متعلقہ اردو انگریزی کی سینکڑوں کتابوں کے حوالہ جات ہیں جن سے دوران تحقیق مدد لی گئی۔یہ طویل فہرست مصنف کے موضوع سے شغف اور ان کی اس میدان میں علمی مہارت پر غماز ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login