Web Analytics Made Easy -
StatCounter

1355-1423 AH: Qazi Mujahidul Islam Qasmi – قاضی مجاہد الاسلام قاسمی

قاضی صاحب بنیادی طور سے ایک عالم دین تھے، مدرسہ کی چٹائی پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے ایک تھے، خدا کی دین اور عطا ہے، وہ جسے چاہے بخش دے۔ قاضی صاحب کے نصیبہ میں دین کی سوجھ بوجھ آئی وہ تفقہ کہ جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا:’’من یرید اللہ بہ خیراً یفقہ فی الدین‘‘
اللہ رب العزت جس کے بارے میں خیر کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا کردیتے ہیں۔ تو یہ نعمت قاضی صاحب کے حصہ میں آئی گویا خیر کے سرچشمہ سے اکتساب فیض کا فیصلہ ہوا۔ یہ شریعت اسلامی کا سرچشمہ ہے اور شریعت اسلامی کا ایسا سرچشمہ ہے جہاں پہونچنے والا محض پیتا نہیں، پلاتا بھی ہے اور لٹاتا بھی ہے۔ قاضی صاحب شریعت مطہرہ کے اس سرچشمہ سے نہ صرف خود سیراب ہوئے بلکہ ساقی بن گئے اور فصل گل کی تمنا میں مے دلفروز پلاتے چلے گئے۔
کسی بھی شخصیت کا مطالعہ کرتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی شخصیت سازی کے عناصر ترکیبی کیا تھے، ان کے والد ماجد مولانا عبدالاحد قاسمی حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کے شاگرد رشید تھے، عالم ربانی شیخ الہندؒ کے شاگرد نے رات کی تنہائیوں میں بھی اپنے لخت جگر کے لئے یقینا خدا کے حضور ہاتھ پھیلائے ہوں گے، قاضی صاحب کے دامن میں فقہی فراست و بصیرت اور ملی درد و کرب کے کھلے ہوئے گل و لالہ ایسی مناجاتوں کا اشارہ دیتے ہیں، ان کی تعلیم دارالعلوم دیوبند میں بھی ہوئی جو محض ایک دارالعلوم کانہیں ایک مشن اور تحریک کا نام تھا اور جس کی بنیاد ان خدا ترس ہاتھوں نے ان ارادوں سے رکھی تھی کہ سرزمین ہند میں اسلام کے چراغ کی لَو مدھم نہ پڑنے پائے بلکہ تیز سے تیزتر ہوتی چلی جائے۔ قاضی صاحب کو امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی جیسے شخصیت ساز بزرگ کا سایہ نصیب ہوا۔ ماضی قریب کی وہ شخصیتیں جنہوں نے افراد سازی جیسے پتہ ماری اور جگر کاوی کا کام کیا ان میں ایک نمایاں نام حضرت امیر شریعت کا بھی ہے، وہ جوہری تھے چنانچہ ان کی جوہر شناس نگاہ نے دیکھا کہ مجاہد الاسلام میں اسلام کا واقعی ایک مجاہد چھپا ہوا ہے۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ صلاحیتوں کے پروان چڑھنے اور ان کے برگ و بار لانے کے لئے فضا درکار ہوتی ہے، میدان درکار ہوتا ہے، قدرت کو قاضی صاحبؒ سے کام لینا مقصود تھا۔ چنانچہ یہ مواقع بھی انہیں ودیعت کئے جاتے رہے۔ وہ مسند درس پر بھی بیٹھے اور امارت شرعیہ پھلواری شریف میں قاضی کے منصب پر بھی فائز ہوئے مگر قاضی کا یہ منصب پھولوں کی نہیں کانٹوں کی سیج ہوا کرتا ہے۔ یہاں زندگی کے حقائق بے لباس ہوکر آتے ہیں۔ ہمہ وقت مسائل کا سامنا ہوتا ہے، تلخیوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اور پھر مسائل بھی بہار جیسے پسماندہ صوبہ کے…… قاضی صاحب چاہتے تو مدرسہ کی چہاردیواری میں اپنے لئے گوشہ عافیت ڈھونڈ لیتے، مدارس بھی انہیں آنکھوںپر بٹھاتے، تدریس میں شاہانہ مزاج کی تسکین کا پورا سامان بھی ہے، کہاجاتا ہے کہ شاہ جہاں کو جب نظر بند کردیا گیا تو اس نے بھی چند شاگردوں کے جلو میں رہنے کی تمنا ظاہر کی تھی مگر قاضی صاحب نے سہولت پسند طبیعت نہیں پائی تھی بلکہ موج حوادث سے گزرنے میں ہی انہیں لذت ملتی تھی۔ چنانچہ کئی دہائیوں تک وہ قاضی کے فرائض انجام دیتے رہے اور اس وجہ سے انہیں ملت کے دینی و معاشرتی حقیقی صورتِ حال کا اندازہ ہوتا رہا۔ قاضی کے منصب کے سرد و گرم کو جھیل کر انہوں نے نہ صرف قضا کے اس عہدہ کے ساتھ انصاف کیا بلکہ زیادہ سچی بات یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے ساتھ اور ملت کے ساتھ بھی انصاف سے کام لیا۔ امارت شرعیہ میں قاضی کا یہ منصب ان کے لئے ایک ایسی بھٹی ثابت ہوا جہاں سے تپ کر وہ کندن بن کر نکلے، مسائل کی آنچ نے ان میں وہ پختگی پیدا کردی جو ایک مجاہد کی شان اور اس کا نشان ہوا کرتی ہے۔
 

Maulana Qazi Mujahidul Islam Qasmi died on 4 April after a long illness. His death has caused a big void that may not be filled easily. He was born in the town of ‘Jale’ of Distt; Darbhanga, Bihar on 9 October 1936 in an academic and religious family. His father Maulana Abdul Ahad was one of the great disciples of Hazrat Shaikhul Hind Maulana Mahmood Hasan Deobandi.

Qazi sahib received his basic education at his home. For further studies he went to different madrasas including Madarsa Mahmoodul Uloom, (Damla) Madarsa Imdadia (Darbhangha) and Madarsa Darul Uloom (Mau Nath Bhanjan). When he could not quench his academic thirst here, he went to Darul Uloom Deoband, the biggest Islamic Centre of learning in India and studied there for four years. He went on receiving Islamic education there from top ranking Islamic scholars such as Maulana Abdul Hafeez Balyawi, Maulana Husain Ahmad Madani, Maulana Husain Bihari, Maulana Fakhruddin Muardabadi and so on.

After completing Fazilat Course from Darul Uloom Deoband, he decided to teach in a madarsa. First time at the suggestion of Maulana Husain Ahmad Madani he joined Jamia Rahmania (Monger) as a teacher. There he taught both higher and lower classes. He possessed an extraordinary ability of teaching. Interestingly he was as much at ease in teaching higher students as he was expert in handling lower classes. That is why he was loved by all the students. He continued teaching for about seven years after completing his Fazilat from Darul Uloom Deoband.

He had a vast experience of social and religious services to the community. In 1962, he joined the Imarate Shari’ah (Patna). His association with the Imarat lasted up to his last breath. Imarate Shri’ah was the only center where the Muslims went and found solutions of their fiqhi problems. But the whole system of Imarat was messy. It was very difficult to serve the Muslims from this platform. People had virtually snapped their relationship with the Imarat. But no sooner than Qazi Sahib joined the Imarat all the departments became active. Through this platform, he gave impetus to the education among Muslims of Bihar. By his untiring efforts the Imarat that was merely an ordinary organization, now turned into an ideal Islamic court. It had a good impact on Muslims of Bihar. The visitors to the Imarat increased and people started taking their religious and social problems to the Imarat. Looking at the reputation of the Imarat for its impact on the social life of Muslims, the government also had to give recognition to its verdicts.

Category:

Description

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “1355-1423 AH: Qazi Mujahidul Islam Qasmi – قاضی مجاہد الاسلام قاسمی”

Your email address will not be published.

Product categories

Top rated products

Product tags