Qalmi Chehreقلمی چہرے سوانحی خاکےQalmi Chehreقلمی چہرے سوانحی خاکے
Adabi Shakhsiyat₹450.00
اجمل. ( حکیم اجمل خان) اور انصاری ( ڈاکٹر مختار احمد انصاری) دہلی کی آبرو تھے۔ انصاری لاکھوں کماتے اور قوم پر صرف کرتے ۔ وہ حیات تھے تو گاندھی جی کے سب سے زیادہ معتمد تھے ، ایک سیاستداں کی حیثیت میں ان کا جواب نہیں تھا۔ وہ پنڈت موتی لال نہرو کے پائے کے لیڈر تھے ۔ ملک کے اکثر لیڈر ان کی جیب سے پلتے رہے۔
انھوں نے بے شمار قومی کارکنوں کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے ۔ اور جب ان کا انتقال ہو گیا تو دہلی کے ہزاروں گھرانے اس طرح روتے تھے جیسے ان کا شفیق باپ اٹھ گیا ہے ۔ لوگوں کو اس دن پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ انصاری مرحوم سے سیکڑوں بے سہارا گھرانے ماہوار وظیفہ پاتے تھے۔ اور کسی کو کانوں کان پتہ نہیں چلتا تھا۔
میانه قد ، دوہرا بدن ، سفید رنگ، آفتابی چہرہ ، روشن آنکھیں جن میں بصارت اور شرافت گتھی ہوتی تھی ۔ عموما سنہری فریم کی عینک لگاتے تھے ۔ خوش پوش ، خوش خوراک، خوش لہجہ ، خوش کلام ۔
القصہ مرحوم دہلی میں اسلاف کی ایک آخری تصویر تھے ، اور اب شاید ان اوصاف کے لوگ پیدا ہی نہیں ہوتے ہیں اور ہمیشہ کی نیند سو گئے ہیں۔
سورش کاشمیری کی کتاب “قلمی چہرے” سے مجاہد آزادی ڈاکٹر مختار احمد انصاری پر لکھے ‘چہرے’ سے ایک اقتباس
Us Bazaar Mein, اس بازار میں
Us Bazar Mein, اس بازار میں
Related Books
-
Rasheed Ahmed Siddiqui Ba Hesiyat Khaka Nigar, رشید احمد صدیقی بحیثیت خاکہ نگار
Adabi Shakhsiyat ₹150.00








