₹950.00Original price was: ₹950.00.₹850.00Current price is: ₹850.00.
آزاد ہندوستان میں تین اہل علم نے اپنے علم وفضل کی بنیاد پر تمام ہندوستان میں بالعموم اور تمام ملی جماعتوں اور تنظیموں میں بالخصوص براہ راست اپنا گہرا اثرا ڈالا، اور تمام اہم فیصلوں اور ملت کی نگہبانی میں مکمل طور پہ شریک رہے، علامہ ثناء اللہ امرتسری (ت:1948) کے منتقل پ ک س ت ان ہوجانے اور پھر انتقال کرجانے اور پھر علامہ ابوالقاسم سيف بنارسی (ت: 1949) کے بعد حاملین منہج سلف کی تربیت، رہنمائی اور علمی وديني قیادت انہیں تين حضرات نے کی
1- حضرت مولانا عبدالوہاب آروی مرحوم
2- حضرت علامہ نذیر احمد رحمانی املوی مرحوم
3- حضرت شیخ الحدیث علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری مرحوم
ان کے علاوہ جو تھے، ان حضرات کے شاگرد تھے، یا شاگردوں کے شاگرد …
بدقسمتی سے ان تینوں اعلام سنت ومنہج کی خدمات اور علمی مقام مرتبہ کے لحاظ سے ان پر کام نہیں ہوسکا تھا، برادر کبیر شیخ صہیب حسن مبارکپوری (لیکچرر جامعہ الہند الإسلامیہ کیرلا) نے علامہ املوی پر زمانہ طالب علمی جامعہ سلفیہ بنارس میں محترم ڈاکٹر رضاء اللہ مبارکپوری مرحوم کے حکم پر کام کیا تھا، اور محدث دہلی میں شائع شدہ مرحوم کے سارے مقالات جمع کئے تھے، میں نے بھائی محترم سے وہ مقالات لیے انہیں ٹائپ کرایا، پھر بھائی اور ہم نے مراجعہ کیا، ایک اور صاحب بھی شریک رہے۔ شروع میں علامہ کے مختصر حالات بھی درج ہیں، اس لحاظ سے اپنے موضوع پر ایک اہم اور اولین دستاویزی کام طویل جد وجہد کے بعد تیار ہوگیا، الحمد للہ یہاں سے دار الفہیم مئو نے کچھ نسخے ڈیجٹل میری اجازت سے شائع کیے تھے، پھر دارابی الطیب نے بھی اپنے اہتمام سے نئی ترتیب واضافہ کے ساتھ شائع کیا، جو اہم اور معتمد ہے، اب یہاں وہی نسخہ دوبارہ الحمداللہ مکتبہ دارالسلام مئو ہماری گزارش پر دو جلدوں کو ایک ساتھ ضم کرکے شائع کررہا ہے، جزاہ اللہ خیرا ۔ کتاب دوچار دنوں میں آپ کے ہاتھوں میں ہوگی ان شاء اللہ
یہ کتاب جماعتی، ملی اور تنظیمی اعتبار سے ایک اہم دستاویز ہے، ہر صاحب ذوق کے لیے سامان تسکین ہے، مجھے امید ہے کہ علامہ أملوی کو ان کے مقالات کی روشنی میں سمجھنے کے لیے سنگ میل ہوگی، آپ کی عظمت اور مقام مرتبہ کی بابت بڑے بڑے اہل علم نے بہت کچھ لکھا، اور جو کچھ خود آپ نے لکھا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت شیخ الحدیث مبارکپوری مرحوم کی طرح آپ بھی بے شبہ رجل القرن تھے۔ رحمہم اللہ