امام غزالی رحمہ اللہ (٥٠٥ھ/١١١١ء) کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ کا نام ہی آپ کی عظمت اور علمی مقام کا تعارف ہے۔ آپ جہاں اجتہادی صلاحیت کے حامل ایک عالم، فقیہ، اصولی و متکلم تھے، وہیں آپ ایک زمانہ شناس مفکر اور ایک بالغ النظر فلسفی بھی تھے۔ آپ نے اپنے دور کے رائج الوقت نظریات و فلسفوں کا نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا اور ان میں سے ان عناصر کو چھانٹ چھانٹ کر الگ کردیا جو اسلامی روح اور اسلامی نظریہ حیات سے متصادم تھے۔ آپ نے فلسفہ یونان، جس کی ہیبت کے سامنے کئی اہل علم مرعوب تھے، کی خامیوں اور واماندگیوں کو مضبوط عقلی دلائل سے ظاہر کر کے اسلام کی حقانیت کو بدلائل و براہین ثابت کیا۔ مقاصد الفلاسفہ فلسفہ کے بارے میں آپ کی ایک نہایت اہم کتاب ہے جس میں آپ نے فلسفہ کے بنیادی مسائل کو نہایت سلیس انداز میں بیان فرمایا ہے۔ یہ کتاب اس فن پر آپ کی غیر معمولی دسترس کی روشن دلیل ہے۔
یہ کتاب، جو اس وقت قارئین کے ہاتھوں میں ہے مقاصد الفلاسفہ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس ترجمے کی صحت و استناد کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ کا نام ہی اس ترجمے کی صحت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ مترجم موصوف نے پوری کوشش کی ہے کہ علم و ادب کے تقاضے پہلو بہ پہلو رہیں اور کسی طرح بھی مضامین میں خشکی اور اغلاق قاری کے دلچسپیوں کو مجروح نہ کر پائیں۔