Web Analytics Made Easy - StatCounter
Sur Taal Ka Sufi Ahang

سر تال کا صوفی آہنگ

سر تال کا صوفی آہنگ

راگ،الاپ،سُر تال،لے اور دنیائے موسیقی کو سمجھنے اور جاننے والے صرف آلات غنا کی تکوین میں مہارت نہیں رکھتے بلکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ”تانت باجی راگ پایا“،مطلب یہ کہ ستار،سارنگی،وائلن،گٹار الغرض ہر وہ ساز جو تانت کی جلترنگ سے لوگوں کے دلوں کے تار ایسے چھیڑ دے کہ لوگ وجدانی کیفیت میں ہی نہیں بلکہ ایک دنیائے عجائب میں داخل ہو جائیں،ایسی دنیا جو عالم رنگ و بو سے الگ تھلگ جہاں وہ ذات ہے جس کی ذات کے سب متمنی ہیں۔ایسے ساحر لوگ جانتے ہیں کہ کون سا ساز دلوں میں سحر پیدا کرنے والا ہے،کون سا سُر اور تال مخصوص تعدد کی لے سے ہم آہنگ ہو کرکتنے من چلوں کے دلوں کو مسخر کرتے ہوئے وجدانی کیفیت میں مبتلا کر دے گا۔ایسا عالم کہ جہاں ایک عام شخص صوفی بن کر یہ نعرہ مستانہ بلند کر دے
میں نئیں سب تُو

لیکن یہ سفر اتنا سہل و آسان نہیں ہوتا،مجاہدہ باطنی و نفس،مراقبہ،مجادلہ و مناقشہ کی منازل سے گزرنا پڑتا ہے،دور دراز محو سفر ہوکر اللہ والوں کی تلاش میں متلاشی ہونا پڑتا ہے،ایسے درویش مست الست جو اللہ سے ملا دینے کا فن جانتے ہوں۔ کہ بقول اقبال درویش خدامست شرقی ہے نہ غربی۔وہ تو بس اللہ کا بندہ ہے۔یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ درویش سے مراد خالصتا وہ اللہ والے ہیں جن کی مجالس میں لوگ ایسے سحر زدہ ہو جاتے ہیں کہ انہیں ماسوا اللہ کے کوئی اور حق نظر نہیں آتا،دنیاوی اغراض میں الجھے ہوئے،ژولیدحال ہرگز نہیں۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ تو اب خال خال ہی ہیں انہیں کہاں تلاش کیا جائے یہ حضرات کہاں مسکن بنائے بیٹھے ہیں۔یہ لوگ ہم ایسوں کو ملتے کیوں نہیں؟ارے نہیں ایسا نہیں ہے،شانِ کئی تو مانگنے والوں کو ملتی ہے،ہیرے کی تلاش میں کان کن اور موتی ڈھونڈنے کے لئے غواص تو بننا پڑتا ہے۔کناروں پر کھڑے رہو گے تو مونگے نہیں ”کونگے“ہی ہاتھ آئیں گے۔اگر تلاش ہو تو آج بھی ایسے درویش گدڑی میں لال بنے ہنگامہ عالم سے بے خبر کسی کٹیا کو نورانی محل بنائے مل جاتے ہیں بس تلاش و جستجو مبنی بر صداقت ہو اور دیکھنے والی آنکھ ہو،اگر یہ سب ہے تو بنا سوچے سمجھے بحرِ اصفیا میں غوطہ زن ہو جائیے پھر دیکھیں کیسے کیسے دریکتا آپ کی مٹھی میں جمع ہوتے ہیں۔
مجھ کو پانا ہے توپھر مجھ میں اتر کر دیکھو
یوں کنارے سے سمندر نہیں دیکھا جاتا

شکریہ پروفیسر منیر ابن رزمی صاحب کہ ایک،دو نہیں کئی ایسے آبگینوں سے شرف ملاقات بخشا۔خصوصا مخدوم شہباز ہاشمی اور پروفیسر محمد حسین آزاد خالق”سرتال کا صوفی آہنگ“جیسے در خوش آب کی ضو فشانیوں سے اپنی ذات کو منور لرنے کا موقع فراہم کیا۔یقین مانئے کہ احباب کی گفتگو،لہجہ،اندازِ گفتاراور سہل و سادہ انداز میں واقعات بیانی جو مجھے لگتا ہے کہ دریائے چناب کی روانی کی طرح مجھے اپنے سحر کو موجوں میں اپنے ساتھ بہائے لے جا رہی تھی۔واقعی چناب کے لوگ عشق کرنے والے ہیں ایسے ہی مثل مشہور نہیں ہوئی کہ

راوی راشکاں چناب عاشقاں
مخدوم شہباز ہاشمی کی میزبانی نے یہ ثابت کردیا کہ دنیا میں اب بھی خلوص کی کمی نہیں جہاں جہاں ہمارے قدم جاتے ایک مرید ہم فقیروں کی راہ گزر میں خدمت کے واسطے مخدوم صاحب کے اشارہ ابرو کا منتظر ہوتا،اور دیوانہ وار ہماری طرف لپکتا کہ کہیں خدمت میں کوئی فروگزاشت نہ رہ جائے۔خدمت میں عظمت کا عملی مظاہرہ میں نے اس سے قبل شائد ہی کہیں دیکھا ہو۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجھ ایسے دنیا دار کو قبل ازیں ایسے پرخلوص لوگوں سے واسطہ نہ رہا ہو۔کہ
ارادت ہو تو دیکھ ان خرقہ پوشوں کو
ید بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

پروفیسر ڈاکٹرمحمد حسین آزاد کی اگربات کی جائے تو میرا ایک علمی مسئلہ کہ فلسفہ وحدت الوجود اور فلسفہ وحدت الشہود میں کیا فرق ہے تو انہوں نے اس پیچیدہ موضوع کی گرہیں جس سہل انداز میں عام و سادہ الفاظ میں کھولیں جو شائد میں کئی کتابوں کی ورق گردانی سے بھی جان نہ پایا۔یہ ہوتی ہے علم وگفتگو پر دسترس۔دونوں صاحبان علم وآگہی کے شمائل ومحاسن کو جب میں نے اپنی علمی کم مائیگی سے لفظی پیرہن پہناتے ہوئے پہلے مخدوم شہباز ہاشمی سے عرض کیا کہ”حضور آپ تو لال ہیں جو ہنگامِ عالم سے بے نیاز چناب کنارے اپنے آپ کو تارک بنائے خیمہ زن ہیں،اوربعد ازاں دورانِ گفتگو ڈاکٹر محمد حسین آزاد سے عرض کیا کہ جناب من آپ نے میرا دیرینہ مسئلہ(وحدت الوجود اور شہود)محض چند الفاظ میں ایسے بیان فرما دیا گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا تو جواب ملا کہ
نہیں مراد صاحب آپ مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں،یہ ان کی ذات کا کرم ہے وگرنہ ہم کہاں۔۔۔۔

تب مجھے سمجھ آیا کہ سلطان باہو نے کیوں اس ایک مصرع پر اتنا زور دیا کہ ”میں نئیں سب تُو“گویا یہ ذات نفی دراصل اثبات ہے،اثبات وجمع خود کی ذات کے لئے نہیں بلکہ عوام الناس اور تلاش و جستجو والوں میں تقسیم کرنے کا نام ہے،اور جو تقسیم کرنے کی لذت سے آشنا ہو جاتا ہے پھر وہ جمع کی غرض اور گورکھ دھندوں میں کبھی نہیں الجھتا یا اسے یہ سب الجھا نہیں سکتے۔کیونکہ فلسفہ یہ ہے کہ جو تقسیم کرتا ہے دراصل وہی جمع کرتا ہے۔

مرا دعلی شاہدؔدوحہ قطر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login