Web Analytics Made Easy - StatCounter
شہاب نامہ

شہاب نامہ قدرت اللہ صاحب

کتابوں کی دنیا بھی اتنی ہی پیچیدہ ہے جتنی انسانوں کی۔ یعنی بعض اچھی کتابیں اس لیے در خور اعتنا اور لائق اعتماد نہیں سمجھے جاتیں کہ ان کے مصنفیں سے چند چغادریوں کو پرخاش ہوتی ہے۔ یا بعض بری اور بھدی کتابیں اس لیے زینتِ پہلو ہوتی ہیں کہ ان کے مصنفین ہواؤں کے ساتھ بہنے کی عادی ہوتے ہیں اور صداقت کو موم کی ناک سمجھتے ہیں کہ جب جیسے چاہا خداوندوں کی ایما پر موڑ دیا۔

اردو کی ادبی تاریخ میں وہ کتابیں جنہوں نے خوب غلغلہ برپا کیا اور تہوں کی تہیں پلٹ کر رکھ دیں، ان میں ایک نام شہاب نامے کا بھی ہے۔ نئے لوگوں میں تو کم ہی ایسے ہوں گے جنہوں نے حرفا حرفا اس کتاب کو مکمل پڑھا ہوگا، البتہ انہوں نے اگر اس کو آدھا پونا نہیں بھی پڑھا تو اس کا نام اور قدرت اللہ شہاب کی پر اسراریت کے قصے ضرور سن رکھے ہوں گے۔ شہاب نامے کا تعارف ہمیں یہ کہ کر کروایا گیا تھا کہ اردو کی تاریخ میں چند وہ کتابیں جو جھوٹ کے پلندے کے طور پر مشہور ہیں، ان میں سر فہرست شہاب نامہ ہے۔ امکان غالب ہے کہ آپ بھی یہی سمجھتے ہوں، لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ تشکیل ہو چکے بیانیے کے خلاف کوئی بھی سطر لکھی جائے گی تو اس پر خطِ تکذیب کھینچنے کے سوا کچھ بھی روا نہیں سمجھا جائے گا۔ ہمارے نقادوں نے کتنا بھی تخلیقیت اور خالص ادب کی مانگ کی ہو، لیکن اس میں ان کو ذرا بھی اسٹیبلشمنٹ سے غداری کی بو آئی، تو انہوں نے تخلیق اور تخلیق کار، دونوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنا کر ہی چھوڑا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ قدرت اللہ شہاب جیسے عظیم نثار، افسانہ نگار، بلند پایہ ادیب اور عالِم آدمی کو موضوعِ گفتگو نہیں بنایا گیا؟

پاک و ہند کے ہر دو ادبی حلقوں نے اس کو پیچھے دھکیلا، پاکی حلقے میں اس کو اس لیے راجح قرار نہیں دیا گیا چونکہ اس نے وہاں کی اسٹیبلشمنٹ پر کئی تیر بہ ہدف نشانے سادھے تھے اور لوگوں کو برہنہ کر دیا تھا۔ ہندی حلقے نے اس کو اس لیے لائقِ گفتگو نہیں سمجھا کہ اس نے کانگریس کی بخیہ ادھیڑ دی تھی۔

ہم لاکھ کہتے رہیں کہ ادب کو ادب کی نظروں سے دیکھا جانا چاہیے، لیکن چاہنے اور کر چکنے میں بڑی ہمت درکار ہوتی ہے۔ آپ ڈھونڈنے بیٹھیے تو آپ کو شہاب نامے پر اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی چند ایک علاوہ تبصرے نہیں ملیں گے۔ اس کی بھی فقط دو وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک فقط یہ کہ لوگوں کو اس کتاب میں سنائی گئی روداد کے دیگر حوالے اور مراجع کا علم نہیں یا وہ اس بات سے خائف ہیں کہ اگر تاریخ پر اس حیثیت سے سخن گستری کی جائے تو ان کے اپنے ممدوحین ناراض اور برہم ہوں گے۔

ورنہ کسی رواں دواں خوشاب نہر کی طرح نثر کی پذیرائی کیوں نہ ہو؟ ایسی خود نوشت کی تحسین کو مرجع اور استناد کا درجہ کیوں نہ ملے جس میں آنکھوں دیکھی رقم کی جا رہی ہو؟ ایک طرف طوطا چشمی کا یہ اظہار اور دوسری طرف علمی کم مائیگی کے رونے

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

– عبداللہ ثاقب