Web Analytics Made Easy - StatCounter
Sawaneh Muawiya

سوانح معاویہ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ کی ساری زندگی اقامت دین، دفاع دین اور جہاد فی سبیل اللہ میں گذری ۔ آپ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں رہ کر خاص خادم ہونے کا شرف حاصل کیا،آپ کی صلاحیت و کمالات کی بنا پر نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کاتبین میں شامل کیا، آپ کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے معتمد خاص رہے اور عہد صدیقی میں عظیم خدمات انجام دیں۔ عہد فاروقی میں آپ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی توجہ کا مرکز رہے، امارت سے نوازے گیے اور عدیم المثال کارنامے انجام دیے ۔عہد عثمانی میں آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے منظور نظر رہتے ہوئے عظیم کارنامے سرانجام دیے ۔حضرت عثمان رضی اللہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد خلیفہ رابع حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف رائے کے باوجود آپسی پیار و محبت اور اہل بیت سے عقید ت و محبت، ہمدردی و خیر خواہی اور ادب و احترام کی نایاب نظیر قایم کی۔
آپ نے اپنی امارت و خلافت میں اسلام کی بلندی اور اشاعت کے لیے وہ عظیم کارنامے اور خدمات انجام دیں جن کی مثال صرف حضرت عمر رضی اللہ کے دور میں ملتی ہے۔ آپ اپنی خلافت کے دوران عہد فاروقی کی نقل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، آپ کی خلافت کے ارکان میں کبار صحابہ کی ایک جماعت دکھائی دیتی ہے ۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص صحبت کی وجہ سے آپ علم کے اس مقام پر فائز تھے جس کا اعتراف حبر الامت حضرت عبد اللہ ابن عباس جیسے عظیم عالم بھی کرتے ہیں ، خدا کی طرف سی ایسی ذہانت و زیرکی عطا ہوئی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسی عبقری شخصیت بھی داد دینے پر مجبور ہوئی ، خوف الہی کا یہ عالم ہے کہ کوئی مؤثر واقعہ سنتے ہی اتنا روتے کہ دیکھنے والا ترس کھانے لگتا ، قرآن سے اس قدر شغف، محبت، شوق کہ حضرت ابو موسی اشعری کے پاس خود جاکر قرآن سنتے ہیں ، ساری زندگی سنت کا حد درجہ اہتمام کرتے ہوئی گذری ، حلم و بردباری ، تواضع و انکساری ،امانت و دیانت داری کا ایسا مظاہرہ کیا کہ کبار صحابہ اپنی مجالس میں تذکرہ کرتے ہیں ۔ سب سے بڑھ کر آپ صحابیت کی دولت سے مالا مال تھے، آپ کی عظمت و مقام کے لیے صرف صحابی ہونا ہی کافی ہے، اللہ تعالی آپ سے راضی ہو گیے اور آپ اللہ سے راضی ہوگئے ۔ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ۔

لیکن افسوس! متعصب مورخین نے من گھڑت و کمزور احادیث،جھوٹ پر مشتمل تاریخی روایات اور بے سرو پیر کے واقعات سے آپ کی شخصیت کو بالکل بر عکس پیش کیا ہے ۔ ان متعصبین کے ذریعے لکھی گئیں کتابوں سے آپ کی تصویر بالکل الٹی نظر آتی ہے۔ جب ان واقعات کو حدیث کے اصولوں کی کسوٹی پر رکھ کر غیر جانبدارانہ تحقیق و تجزیہ کیا جاتا ہے تو یہ جھوٹے اور من گھڑت واقعات راہ فرار اختیار کرنے ہی میں اپنی خیر مناتے ہیں ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی پر خوب لکھا گیا اور ہر زاویہ سے لکھا گیا ہے ۔ لیکن شاید اردو زبان میں آپ کی سوانح اتنی تفصیل کے ساتھ نہیں لکھی گئی جو آپ کی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہو اور پڑھنے کے بعد قاری تشنگی محسوس نہ کرے ۔

سوانح امیر معاویہ رضی اللہ اردو زبان میں ایک مفصل سوانح ہے جسے مشہور اسلامی اسکالر مولانا یحییٰ نعمانی نے تصنیف کیا ہے ۔ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ کا تفصیلی و تحقیقی جائزہ پیش کرتی ہے، ان تمام من گھڑت اور موضوع روایات کا جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مبارک ذات پر بے جا کیچڑ اچھالتی ہیں ،روایت و درایت کے اصولوں کے مطابق ایسا تجزیہ کرتی ہے کہ کتاب پڑھنے کے بعد قاری کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت و عقیدت محض حسن ظن کی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ روایت و درایت کی روشنی میں ہوجاتی ہے ۔
کتاب پانچ سو بارہ صفحات پر مشتمل ہے ۔ فاضل مصنف نے اسے انیس ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔

پہلے باب کا عنوان “خاندانی پس منظر ،پیدائش اور قبول اسلام” ہے۔ اس میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ کے شجرہ نسب، آپ کی شخصیت و مزاج کی تشکیل میں خاندانی پس منظر کے کردار، آپ کے والد اور والدہ کے حالت کفر اور اسلام لانے کے بعد کے احوال اور اسلام کے لیے اس خاندان کی قربانیوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو سفیان کے اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد تعلقات پر روشنی ڈالی گئی۔ آپ کی والدہ حضرت ہند کے تعلق سے غزوہ احد کے تعلق سے ایک بہت ہی مشہور واقعہ کی سندی حیثیت پر بحث کی گئی ہے۔ حضرت امیر معاویہ کے قبول اسلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت و معیت میں پہنچنے اور آپ کے خادم خاص ہونےکو مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔

دوسرے باب کے عنوان ” معتبر احادیث میں وارد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ کی چند دعائیں” کے تحت مصنف نے ان دعاؤں کا صحیح اسناد کے ساتھ تذکرہ کیا ہے جو لسان نبوت سے خاص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے نکلی ہیں اور ان کی سندی حیثیت کیا ہے ۔

تیسرے باب کا عنوان ” خلافت صدیقی میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمات اور کارنامے” ہے ۔ اس میں سب سے پہلے اسلام میں خلافت راشدہ کے امتیازی مقام و مرتبہ پر روشنی ڈالی گئی ہے اس کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ان عظیم خدمات اور کارناموں کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں انجام دیے ہیں ۔

چوتھے باب کا عنوان ” خلافت فاروقی کے عہد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمات و کردار” ہے ۔ اس میں صاحب کتاب نے سب سے پہلے تاریخ اسلامی میں خلافت فاروقی کی اہمیت اور اس عہد کے تعلق سے آپ صلی اللہ کے ایک مبارک خواب کا تذکرہ کیا ہے ۔ بعد ازاں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تاریخ ساز کارناموں اور اسلام کے لیے ان کے خانوادے کی شاندار کارکردگی اور قربانیوں کو بیان ہے۔ مزید حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلقات اور آپ کی نظر میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہمیت و مقبولیت کو زیر بحث لا گیا ہے ۔

پانچویں باب ” حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت عثمانی کے دور میں” کے عنوان کے تحت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ان سنہری اور تاریخ ساز خدمات اور مہمات کا تذکرہ ہے جو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں انجام دیں، جیسے سرحدوں کے تحفظ کے لیے اٹھایے گیے اقدامات ، فتح آرمینیہ ، اسلامی بحریہ کی تاسیس، فتح طرابلس و قبرص ،معرکہ ذات الصواری وغیرہ ۔

چھٹے باب کا عنوان ” فتنہ کبری اور شہادت عثمان” ہے ۔ یہ باب حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی مظلومانہ شہادت کی بنیادی حقیقت اور اس کی تاریخی و معاشرتی اسباب کا مکمل طور سے احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ واضح کرتا ہے کہ عبداللہ ابن سبا اور اس کے حواریوں نے کس طرح کی گھناونی چالیں اور سازشیں رچ کر یہ المناک حادثہ انجام دیا۔ مزید اس سانحے کے تعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

یوں تو اس کتاب کا ہر باب اپنے آپ میں اہم ہے لیکن کتاب کا ساتوا ں اور آٹھواں باب بہت ہی اہم ہے۔ ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلاف و بیعت سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی مبارک صلح کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات جیسے حضرت علی کی بیعت کا واقعہ، قاتلان عثمان کے سزا کے تعلق سے حضرت امیر معاویہ و علی رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف رائے ،جنگ جمل و جنگ صفین، صلح حسن۔ نیز ان تمام روایات و غلط فہمیوں کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے جن کو سبائیوں اور شر پسندوں نے پھیلایا اور جو آج بھی تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ حضرت علی اور معاویہ، بنو امیہ اور ہاشم کے تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ان سب باتوں کو فاضل مصنف نے “حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں” اور ” رسول اللہ کی ایک مبارک پیشین گوئی اور صلح حسن و معاویہ” عنوانات کے تحت زیر بحث لا ئے ہیں۔

نویں باب کا عنوان “امیر المومنین معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں” ہے ۔اس باب میں سب سے پہلے حضرت امیر معاویہ کی خلافت کے تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ پیشین گوئیوں کا تذکرہ ہے، اس کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ان عظیم کارناموں کا تذکرہ ہے جو انہوں داخلی بغاوتوں اور خوارج کی سرکوبی کے لیے انجام دیے ہیں اور اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح آپ نے انتشار و طوفان میں پھنسی امت کی کشتی کو ڈوبنے سے بچایا ۔

دسویں باب کا عنوان “رومن امپائر سے جہاد اور فتوحات” گیارہویں باب کا عنوان “بیزنطینی افریقہ کی فتوحات” اور بارہویں باب کا عنوان “مشرقی محاذ کی فتوحات ہے ۔ ان ابواب میں بالترتیب ان عظیم فتوحات، محاذوں اور مہمات کا بیان ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں انجام دیں جن کی بنا پر مسلمان اس وقت کی دنیا میں مسلمان سپر پاور بنے ۔

تیرہویں باب میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نظام حکومت ، چودھویں میں مالیاتی نظام ، پندرہویں میں فوجی و دفاعی نظام ، سولہویں میں محکمہ عدل ، سترہویں میں پولیس و چند دوسرے شعبے اور اٹھارویں باب میں پبلک سروسس کو مکمل مدلل و مفصل بیان کیا گیا ہے ۔ ساتھ ساتھ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر لگائے گیے ان الزامات اور بہتانوں کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے جو رافضیوں کی اختراع ہیں۔

انیسویں باب کو تین فصلوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔پہلی فصل میں یزید کی ولی عہدی کا بیان ہے ۔ اس میں یزید کے ولی عہدی کے تعلق سے حضر ت معایہ رضی اللہ عنہ کا نقطہ نظر ، اہم شخصیات کا اس سے اختلاف ، اس تعلق سے ابن خلدون اور ابن کثیر کی رائے کو زیر بحث لا یا گیا ہے ۔ دوسری فصل آخری ایام ، بیماری ، وصیتوں اور وفات کے بارے میں ہے اور تیسری فصل میں آپ کی ازواج و اولاد ، خصوصیات و کمالات ، جسمانی حلیہ ، اور معمولات بیان کیے گئے ہیں ۔

https://quranwahadith.com/new_demo/product/sawaneh-muawiya/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *