ادہم شرقاوی کا شمار معاصر عرب کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا اسلوبِ تحریر رواں، سلیس، شگفتہ اور عام فہم ہے۔ ان کی تحریروں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ واقعات اور تاریخی شخصیات سے ایسے تربیتی اور فکری نتائج اخذ کرتے ہیں جو قاری کو اپنی زندگی پر غور کرنے اور اپنے کردار کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان کا طرزِ بیان دل نشیں اور اثر انگیز ہے، جس کی وجہ سے ان کی کتابوں کو عرب دنیا کے ساتھ اردو خواں حلقوں میں بھی خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
’’أنتِ أیضًا صحابیۃ‘‘ بھی مصنف کے اسی منفرد اسلوب کی ایک خوب صورت مثال ہے۔ کتاب میں صحابیاتِ رسول رضی اللہ عنہن کی زندگیوں، کردار، قربانی، عفت، حیا، صبر، وفا اور گھریلو زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کی مسلمان خواتین سے براہِ راست خطاب کیا گیا ہے۔ کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنہن کا زمانہ اگرچہ گزر چکا ہے، لیکن ان کی سیرت، کردار اور اوصاف آج بھی مسلمان عورت کے لیے قابلِ اقتدا اور قابلِ عمل ہیں۔ یعنی مصنف نے نہایت خوبصورتی سے یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ صحابیہ ہوناصرف ایک تاریخی دور تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک طرز فکر اور اعلی کردار کا نام ہے جو ہر دور میں اپنایا جا سکتا ہے
مصنف نے صحابیات رضی اللہ عنہن کے واقعات کو بنیاد بناکر بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کی حیثیت سے عورت کے مقام، ذمہ داریوں اور کردار کو نہایت دل نشیں انداز میں واضح کیا ہے۔ کتاب میں ازدواجی زندگی، میاں بیوی کے باہمی تعلقات، محبت و الفت، گھریلو اختلافات ، گھریلو ذمہ داریوں، بچوں کی تربیت، صدقہ و خیرات، گھر کو سکون و محبت کا مرکز بنانے اور خاندان کے اندر حسنِ معاشرت جیسے اہم موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
کتاب کے مختلف عنوانات بھی اس کے تربیتی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں، مثلاً ’’احسان کو نہ بھولو‘‘، ’’تم دروازے کی چوکھٹ ہو‘‘، ’’تم ایک منفرد عورت ہو‘‘، ’’اونچی اڑان والی خاتون‘‘، ’’اپنے تیروں کی نوکیں تھام لو‘‘، ’’میاں بیوی کے اختلاف سے کیسے نکلو‘‘، ’’گھریلو کام کاج بھی صدقہ ہے‘‘، ’’جنت کا گھر کیسے بناؤ‘‘، ’’ملکہ کیسے بنوں‘‘ اور ’’گھر کی ازدواجی گفتگو کیسی ہو‘‘۔ ان مضامین کے ذریعے مصنف نے عورت کو اس کی قدر و منزلت کا احساس دلانے کے ساتھ اسے اپنے کردار کی تعمیر اور خاندانی زندگی کی بہتری کی طرف متوجہ کیا ہے۔
اس کا انداز ایسا ہے جیسے کوئی مخلص مربی اپنی بیٹی، بہن، بیوی یا ماں کو زندگی کے مختلف مراحل میں محبت، خیرخواہی اور حکمت کے ساتھ رہنمائی فراہم کررہا ہو۔ خصوصاً موجودہ دور میں، جب خاندانی نظام کو مختلف نوعیت کے مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے، خواتین کی دینی، اخلاقی اور گھریلو تربیت کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ کتاب اسی ضرورت کے پیش نظر صحابیات رضی اللہ عنہن کی زندگیوں سے ایسے عملی اسباق سامنے لاتی ہے جو موجودہ دور کی خواتین کے لیے قابلِ فہم اور قابلِ عمل ہیں۔
کتاب عورت کو صرف ایک حیثیت سے نہیں دیکھتی، بلکہ اسے بیٹی، بہن، بیوی، ماں اور خاندان کے ایک ایسے فرد کی حیثیت سے دیکھتی ہے جو دنیا میں گھر کو جنت بناتی ہے جو آدم اور اولاد آدم کا سامان سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ اسی وجہ سے یہ کتاب اردو پڑھنے والی خواتین اور بچیوں کے لیے ایک مفید تربیتی مطالعہ بن سکتی ہے۔۔
نگارشات بک اسٹور دیوبند کے مالک مفتی عبدالرحمن قاسمی نے اس معروف عربی کتاب کو اردو خواں طبقے تک پہنچانے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ اشاعت ان کے لیے اس اعتبار سے بھی اہم موقع ہے کہ کتاب کی باقاعدہ اشاعت سے قبل ہی ہندوستان کے متعدد قارئین کی جانب سے اس کی خاصی تعداد میں پیشگی طلب سامنے آچکی تھی، جس سے کتاب کے موضوع اور مصنف کے اسلوبِ تحریر کے تئیں قارئین کی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب کے منظرِ عام پر آنے کے ساتھ ہی علمی و ادبی حلقوں میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے۔




