Web Analytics Made Easy - StatCounter
Ijtihad o Qiyas

اجتہاد و قیاس کتاب و سنت سے اخذ و استنباط احکام کے اصول و مناہج

علم و تحقیق کے تابندہ سفر پر ایک اور سنگِ میل ’’اجتہاد و قیاس‘‘ کی تاریخی رونمائی۔۔۔

محمد اطہر القاسمی

نائب صدر جمعیت علماء بہار

25 ستمبر 2026 یوم الجمعہ

______________________

ملک کے نوجوان فضلاء میں اکابر علماءِ دیوبند کے منظورِ نظر، صاحبِ قلم و صاحبِ تحقیق، ممتاز فقیہ و محدث، فاضلِ گرامی قدر جناب حضرت مولانا مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی دامت برکاتہم (بیگوسراۓ/امریکہ) کی علمی و تحقیقی کاوشوں پر دل کی گہرائیوں سے ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں۔

مرکزی دفتر جمعیت علماء ہند میں مباحثِ فقہیہ سیمینار (فقہی اجتماع) کے باوقار موقع پر تقریباً ڈھائی سو علماء و فقہاء اور مصنفین و محققین کی موجودگی میں اکابر علماءِ دیوبند کے دستِ مبارک سے آپ کی تازہ علمی و تحقیقی کتاب ’’اجتہاد و قیاس‘‘ کا رسمِ اجرا عمل میں آیا۔

یہ رسمِ اجرا محض ایک کتاب کی رسمی رونمائی نہیں تھی، بلکہ ایک صاحبِ علم کے مسلسل علمی سفر، فکری پختگی، تحقیقی ذوق اور قلمی ریاضت کا اجتماعی اعتراف تھی اور مستقبل کے مزید علمی و تحقیقی کارناموں کے لئے ایک حوصلہ افزا ترغیبی و تشکیلی مہمیز بھی۔

حضرت مولانا مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی دامت برکاتہم کا قلم کسی ایک موضوع یا ایک میدان تک محدود نہیں؛ اس سے قبل سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی نہایت مؤثر اور دل نشیں تصنیف ’’کتابِ جاناں‘‘، نیز ’’اجماعِ امت‘‘ سمیت متعدد علمی و تحقیقی کتب اہلِ علم و ذوق سے دادِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔

ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ علم کی گہرائی، تحقیق کی مضبوطی، استدلال کی پختگی اور اسلوب کی دل آویزی ایک ساتھ نظر آتی ہے۔ یہی وہ حسین امتزاج ہے جو کسی تحریر کو محض معلومات کا مجموعہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے فکر و نظر کی تشکیل کا مرقع بنا دیتا ہے۔

آج کے ایسے دور میں، جب مطالعہ کم اور رائے زنی زیادہ اور تحقیق کم اور نقل و تکرار زیادہ دکھائی دیتی ہے، کسی نوجوان اہلِ علم کا دلائل، مصادر اور علمی تحقیق کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم رکھنا یقیناً ایک خوش آئند علمی و فکری علامت ہے۔ حضرت مفتی صاحب کی تصنیفی سرگرمیاں اسی سمت میں ایک قابلِ قدر پیش رفت ہیں۔

اکابر علماءِ دیوبند کی علمی روایت سے وابستگی اور ان کی سرپرستی و حوصلہ افزائی کسی بھی نوجوان صاحبِ قلم کے لئے یقیناً سرمایۂ افتخار ہے اور جب اسی اعتماد کے ساتھ قلم مسلسل علم و تحقیق کی نئی منزلیں طے کرے تو یہ انفرادی کامیابی سے آگے بڑھ کر علمی وراثت کی حفاظت اور نئی نسل کی فکری رہنمائی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اس بڑے علمی کارنامے پر مجھے آج حد سے زیادہ خوشی اس لئے بھی ہے کہ حضرت مفتی صاحب دارالعلوم دیوبند میں میرے زمانۂ طالب علمی کے رفیق رہے ہیں۔ البتہ وہ مجھ سے ایک سال آگے تھے اور میں ان سے ایک سال پیچھے۔ اس لئے ان کی علمی ترقی اور قلمی کامیابیوں میں مجھے ایک دیرینہ رفاقت کی پاکیزہ خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے اور اپنے ایک برادر بزرگ کی علمی منزلوں پر پہنچنے کی خوشی بھی۔

الحاصل! اس بابرکت موقع پر دل کے نہاں خانے سے حضرت مولانا مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی دامت برکاتہم کو دلی مبارک باد، خلوص بھری دعائیں اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔

خداوندِ قدوس آپ کے قلم کو مزید قوت، فکر کو مزید وسعت، تحقیق کو مزید گہرائی اور علم کو مزید نافعیت عطا فرمائے؛ آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت و باکرامت رکھے، جملہ شرور و فتن سے محفوظ فرمائے، آپ کی تمام علمی و قلمی کاوشوں کو شرفِ قبول بخشے اور انہیں امت مسلمہ کے لئے نافع و مؤثر بنائے۔

اللہ تعالیٰ آپ کے اس علمی سفر کو مزید تابندہ فرمائے اور آنے والی نسلوں کے لئے آپ کے قلم کو علم و بصیرت کا ایک معتبر و مستند وسیلہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین

Home Cart Wishlist Login